Al-Risala · September 1985

حدیث تجدید

Al-Risala, September 1985, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة اللہ اس امت کے لئے ہر سو سال کے سرے پر کسی کو بھیجے سنة من يجدد لها دينها گا۔ جو اس کے دین کی تجدید کرے گا۔

ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مئة اللہ اس امت کے لئے ہر سو سال کے سرے پر کسی کو بھیجے سنة من يجدد لها امر دينها گا۔ جو اس کے معاملہ کی تجدید کرے گا۔

ان الله يبعث على رأس كل مئة سنة من يجدد اللہ ہر سو سال کے سرے پر کسی کو بھیجے گا جو اس امت لهذه الامة امر دينها کے دینی معاملہ کی تجدید کرے گا۔

ان الله عزوجل يبعث لهذه الامة على اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے ہر سو سال کے سرے پر رأس كل مئة سنة رجلا يقيـم لـهـا ایک شخص کو بھیجے گا جو اس کے لئے اس کے دینی معاملہ امر دينها کو درست کرے گا۔

ان الله يمن على اهل دينه فى رأس كل مئة اللہ ہر سو سال کے سرے پر اپنے دین کے لوگوں سنة برجل من اهل بيتی فيبين لهم پر میرے اہل بیت کے ایک آدمی کے ذریعہ احسان امر دينهم کرے گا۔ وہ ان کے لئے ان کے دین کے معاملہ کو (دعوة الحق، الرباط، ربيع الاول ۴۰۵ آھ ) بیان کرے گا۔

تجدید دین کی روایت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ جس طرح حدیث کی کتابوں میں آئی ہے اس کو ہم نے اوپر نقل کر دیا ہے۔ ان کو ملا کر دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ’’تجدید‘‘ دراصل ’’تبیین‘‘ کے ہم معنی ہے۔ تجدید دین سے مراد ہے دین کو خالص صورت میں بیان کر دینا۔ جوں کہ اس دین کو قیامت تک کے لئے باقی رہنا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام فرمایا کہ ہر صدی میں کم از کم ایک ایسا شخص پیدا ہوتا رہے جو لوگوں کے سامنے دین کو اس کی صحیح اور بے آمیز صورت میں بیان کر دے۔ وہ حق کو ناحق سے جدا کر دے تا کہ جس کو پانے کی طلب ہے وہ پالے۔ اور جس کو پانے کی طلب نہیں ہے اس کا غیر طالب ہونا ثابت

Printed page