جوہری فرق
Al-Risala, September 1985, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
واذا تتلی علیہم آیاتنا قالوا قد سمعنا اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں لو نشاء لقلنا مثل هذا ان هذا الا اساطیر تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا۔ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی الاولین ( الانفال ۳۱ ) ایسا ہی کہہ سکتے ہیں۔ یہ تو صرف پچھلوں کے قصے ہیں۔ اس آیت کے شان نزول میں کہا جاتا ہے کہ قدیم مکہ میں ایک شخص نضر بن حارث تھا۔ مقصد سے فارس جاتا تھا۔ وہاں بادشاہوں کے قصے اور رستم اور اسفندیار کی داستانیں سنتا اور واپس آکر مکہ والوں کو سناتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو آپ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سنانے نضر بن حارث قرآن کا مذاق اڑاتا اور فارس کے بادشاہوں اور فوجی سرداروں کے مبالغہ آمیز قصے سنا کر لوگوں سے کہتا کہ بتاؤ کہ محمد کا قصہ زیادہ اچھا ہے یا میرا ( ایهما احسن قصصاً، انا او محمد ) نضر بن حارث بدر کی جنگ میں گرفتار ہوا اور مارا گیا۔ ( تفسیر ابن کثیر، جلد ۲ ) آج مکہ میں کوئی شخص یہ جملہ نہیں کہہ سکتا۔ پھر چودہ سو برس پہلے مکہ کے ایک شخص کو یہ جملہ کہنے کی جرأت کیسے ہوئی۔ اس کی وجہ زمانہ کا فرق ہے۔ چودہ سو سال پہلے قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت دونوں نزاعی ( Controversial ) حیثیت رکھتے تھے۔ مگر آج لمبی تاریخ کے نتیجہ میں قرآن کا کتاب الہی ہونا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغمبر خدا ہونا تسلیم شدہ واقعہ ( Established fact ) بن چکا ہے۔
یہی وہ فرق ہے جس کی بنا پر پہلے ایک شخص کو مذکورہ بات کہنے کی جرأت ہوتی تھی اور آج کسی کو اس قسم کے الفاظ بولنے کی جرأت نہیں ہوتی۔
صحابہ کا درجہ اس لئے بڑا ہے کہ انھوں نے جو ہر شناسی کی سطح پر قرآن کو اور پیغمبر کو پہچانا۔ نے اس وقت اپنے آپ کو اسلام سے وابستہ کیا جب کہ اسلام کی عظمتوں کا گنبد نہیں بنا تھا۔ آج جو لوگ پرجوش اسلامی تقریریں کرتے ہیں وہ صرف گنبد شناسی کا کمال دکھاتے ہیں۔ اگر چہ بطور خود وہ سمجھتے ہیں کہ وہ حقیقت شناسی کا ثبوت دے رہے ہیں۔