Al-Risala · September 1985

مانگنا

Al-Risala, September 1985, pp. 10–11

By Maulana Wahiduddin Khan

جاء رجل من الانصار الى النبي صلى الله عليه وسلم فسأله فقال النبي أما في بيتك شيء قال بلى، جلس (ای ککاء غلیظ) نلبس بعضه ونبسط بعضه و عقب نشرب فيه الماء - قال الرسول أنتني بهما، فأتاه بهما - فأخذ الرسول بيده وقال من يشتري هذين قال رجل انا آخذ هما بدرهم قال رسول الله من يزيد على درهم - قال رجل انا آخذهما بدرهمين - فاعطاہما اياه واخذ الدرهمين فأعطاما الانصاري وقال اشتر با حدہما طعاماً فانبذه الى اهلك واشتر بالاخر قدوماً وائتني به - فأتاه به فشد الرسول فيه عوداً بيده ثم قال اذهب فاحتطب وبع ولا ارينك خمسة عشر يوماً - ففعل وجاء وقد اصاب عشرة دراهم فاشترى ببعضهما ثوباً و ببعضهما طعاماً - فقال رسول الله ، هذا خير لك من ان تجئ المسألة نكتة فى وجهك يوم القيامة - انصار میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سوال کیا۔ آپ نے فرمایا کیا تمہارے گھر میں کچھ نہیں اس نے کہا ہاں، ایک موٹا کپڑا ہے جس کا کچھ حصہ ہم اوڑھتے ہیں اور کچھ حصہ بچھاتے ہیں اور ایک بڑا پیالہ ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں۔ نے فرمایا کہ دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ۔ آپ نے ان کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا کہ کون شخص ان دونوں کو خریدتا ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ میں ان کو ایک درہم میں خریدتا ہوں۔ فرمایا کہ کون ایک درہم پر اضافہ کرتا ہے۔ نے کہا کہ میں ان کو دو درہم میں لیتا ہوں۔ دونوں چیزیں اسے دے دیں اور اس سے دو درہم لے کر انصاری کو دے دیا اور فرمایا کہ ان میں سے ایک درہم سے کھانے کی چیز خریدو اور اسے اپنے گھر والوں کو دیدو اور دوسرے درہم سے کلہاڑی خریدو اور اس کو میرے پاس لے آؤ۔ وہ آدمی کلہاڑی لے کر آپ کے پاس آیا۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے اس میں لکڑی سا دستہ لگایا پھر فرمایا کہ جاؤ اور لکڑی کاٹو اور بیچو اور میں تم کو پندرہ دن تک نہ دیکھوں۔ آدمی نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ آیا اور اس نے دس درہم کمایا تھا۔ اس نے اس کے ایک حصہ سے کپڑا خریدا اور ایک حصہ سے خوراک خریدی۔

عن ثوبان رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من تكفل لى ان لا یسئل الناس شياً واتکفّل له بالجنة فقلت انا - فكان لا يسئل أحداً شيئاً البپردور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے لئے اس سے بہتر ہے کہ تم سوال کرو اور قیامت کے دن اپنے چہرہ پر ایک داغ لے کر آؤ۔

حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کوئی چیز نہ مانگے گا اور میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ میں نے عرض کیا: میں ( ) پر پَروں یہ پڑی ہے ۔

پس حضرت ثوبان کا یہ حال تھا کہ وہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔

اس قسم کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ " سوال " اسلامی روح کے سراسر خلاف ہے۔ چاہیے کہ وہ اپنی محنت پر بھروسہ کرے نہ کہ وہ دوسروں سے مانگنے لگے۔ حتیٰ کہ گھر کا اثاثہ بیچ کر محنت کے میدان چاہیئے کہ روکا جائے۔ آپ کی توجہ پر ضروریہ بات ہے کہ مرہ ٹاردو میں داخل ہونا پڑے تو یہ بھی آدمی کو کرنا چاہئے۔ سربینہ کا نمک جو فرد کو دکھایا گیا ہے وہ بارگاہِ رسالت مآبؐ میں پیش کرتا ہے۔ آپؐ برستے بدن ں ہى جماعت کے لئے بھی ہے مسلمانوں کی ایسی کوئی قوم، ایسی عنوان کے پر ہیز کا علم جو فر دوز دنیا کیا ہے وہی حمایت نے کے بھی ہے۔ مسلمانوں کو ایسی ٹوٹی پھوٹی جس کی بنیاد مانگ اور مطالبہ پر رکھی جائے وہ سرا سر غیر اسلامی ترا پائے گی۔ مسلمانوں کو جس طرح اپنی انفرادی زندگی میں مانگنے کے بجائے محنت کرنے پر بھروسہ کرنا ہے اسی طرح اجتماعی زندگی میں بھی انھیں یہ کرنا ہے کہ خود اپنے وسائل کی بنیاد را اپنا قومی منصوبہ بنائیں۔ دوسروں سے مانگنے کے بجائے تور کرنے کے یہ رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بیوہ پریاپوں حاصل کرنے کا طریقہ اختیار کریں۔

"وہ قومی اور تسلط کا وحی پکا ہنا د'", پاورد کروں کے مقابلے میں ٹاورزت طلالات “ میں لکھ گئے رقوم کی تاریخ کے سے شام پر کہا جائے گا ہر وہ قومی پالیسی باطل ہے جس کی بنیاد مطالبات پر رکھی گئی ہو۔ کوئی بھی عذر اس کی اجازت نہیں دیتا کہ مسلمان جد و جہد کا طریقہ چھوڑ کر مطالبات کا طریقہ اختیار کر لیں۔ مسلمان اگر ایسا کریں کہ وہ اپنی قومی پالیسی مطالبات کی بنیاد پر بنائیں تو یہ خدا اور رسول کے طریقہ کے سراسر خلاف ہوگا۔ سیاست بلاشبہ غیر مسنون سیاست ہے۔ مسلمان چھوٹے چھوٹے معاملہ میں مسنون اور غیر مسنون کا فرق جانتے ہیں اور اس کا زبر دست اہتمام کرتے ہیں۔ مگر بڑے بڑے معاملات میں انھوں نے اپنی پوری قومی سیاست کو غیر مسنون طریقہ پر چلا رکھا ہے اور انھیں اس کا احساس تک نہیں۔

Printed page