Al-Risala · September 1985

نہیں

Al-Risala, September 1985, pp. 13–14

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ اور امن ہر حال میں دشمن کی سرگرمیوں کی خبر معلوم کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ جب یہ عظیم فوج مکہ سے روانہ ہوئی تو مدینہ میں آپ کو اس کی خبر ہوگئی۔ آپ نے لوگوں کو مشورہ کے لئے جمع کیا، اور ان سے پوچھا کہ بتاؤ ایسی حالت میں اپنے بچاؤ کے لئے کیا کیا جائے۔ اس وقت حضرت سلمان فارسی نے مشورہ دیا کہ مدینہ کے کنارے خندق کھودی جائے۔ مدینہ کے ایک طرف کھجوروں کے گھنے باغات نے قدرتی دیوار قائم کر رکھی تھی۔ شمال مشرق سے شمال مغرب تک کا حصہ کھلا ہوا تھا۔ اسی حصے میں خندق کھودی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ خندق کی لمبائی تقریباً پانچ ہزار ہا تھ تھی۔ ہاتھ سے دس ہاتھ تک اور چوڑائی تقریباً دس ہاتھ۔

ابن کثیر نے طبری اور سہیلی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ پہلا شخص جس نے خندق کھودی وہ فارس کا بادشاہ منو چہر بن فریدوں تھا۔ وہ حضرت موسیٰ کا ہم عصر تھا۔ حضرت سلمان فارس کے رہنے والے تھے مشورہ کے وقت انھوں نے بتایا کہ اے خدا کے رسول ، اہل ایران کا یہ طریقہ ہے کہ جب گھوڑ سوار لشکر کے حملہ کا ڈر ہوتا ہے تو وہ اس کے مقابلہ کے لئے خندق کھودتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رائے کو پسند فرمایا اور خود صحابہ کے ساتھ شریک ہو کر خندق کھودی۔

" خندق " کا لفظ اصلاً فارسی سے آیا ہے۔ اس کی اصل کندہ (کھودا ہوا) ہے۔ کندہ سے کندک اور خندک بنا جو عربی زبان میں خندق ہو گیا۔ اس وقت تک اہل عرب میں یہ طریقہ بالکل غیر معروف تھا۔

ممکہ والوں کے سرداروں نے جب اس کو دیکھا تو کہا:

واللہ ان هذة المكيدة ما كانت العرب تكيدها خدا کی قسم یہ ایک ایسی تدبیر ہے جس تدبیر کو عرب سیرۃ ابن هشام، الجزء الثالث، صفحه (۳۴۰) استعمال نہیں کرتے تھے۔

اس واقعہ میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب بھی عرب تھے اور وہ لوگ بھی عرب تھے جنہوں نے مکہ سے آکر آپ کے اوپر چڑھائی کی تھی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ممسلمانوں کو ایسا شخص مل گیا جو ان کو فارسی خندق کا طریقہ بتائے۔ اور مکہ کے مشرکین کو فارسی خندق کا طریقہ بتانے والا نہیں ملا۔

اس فرق کی وجہ دعوت تھی۔ مشرکین مکہ کا معاشرہ ایک جامد معاشرہ تھا۔ اس میں باہر سے کوئی اضافہ ممکن نہ تھا۔ جب کہ مسلمانوں کا معاشرہ ایک اضافہ پذیر معاشرہ تھا جس میں ہر آن تبلیغ کے ذریعہ مزید انسانی صلاحیتیں شامل ہوتی جا رہی تھیں۔ اسلام کا یہی خاص ایڈوانٹیج تھا جس کی بنیاد پر اس کو ایک سلمان فارسی مل گیا جو اس کو فارسی طریقہ بتائے۔ اس کے برعکس مشرکین مکہ کسی سلمان فارسی کو نہ پاسکے جو ان کو عرب سے باہر کے طریقوں کی خبر دے۔

تاریخ کی کتابوں میں یہ دونوں واقعات الگ الگ لکھے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کا خندق سے باخبر ہو کر مدینہ کے گرد خندق کھودنا۔ اور مشرکین کہ کا خندق کی تدبیر سے بے خبر رہنا۔ دونوں واقعات کو الگ الگ پڑھئے تو آپ کو ان سے کوئی نصیحت نہیں ملے گی۔ مگر جب ان دونوں واقعات کو مربوط کریں، جب ان کو ایک دوسرے سے ملا کر دیکھیں تو اچانک ایک عظیم سبق کا انکشاف ہوتا ہے۔ یہ کہ دعوت اس دنیا میں سب سے بڑی قوت ہے۔ وہ اپنی قوت پر دوسروں کی قوت کا اضافہ ہے۔

دعوت کے بغیر معاشرہ ایک جامد چٹان ہے۔ مگر دعوت کے اضافہ کے بعد معاشرہ ایک سیلاب بن جاتا ہے۔ ایسا سیلاب جو بڑھتا ہی رہے۔ ایسا سیلاب جو سارے جغرافیہ ارضی میں

Printed page