پچھلے انبیاء
Al-Risala, September 1985, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ قال حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے قَدِمَ رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے۔ آپ نے یہود کو فرأى يهود تصوم عاشوراء - فقال لهم دیکھا کہ وہ عاشوراء دن روزہ رکھتے ہیں۔ ما هذا اليوم الذي تصومونه - قالوا هذا يوم ان سے کہا کہ یہ کیسا دن ہے جس میں تم لوگ روزہ رکھتے عظيم - انجي الله فيه موسى و قومه و غرق ہو ۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک بڑا دن ہے ۔ فيه عدوهم فصامه موسی شكراً فنحن اللہ نے موسیٰ اور ان کی قوم کو نجات دی اور آپ کے نصومد فقال رسول الله صلى الله عليه دشمن (فرعون) کو پانی میں ڈبو دیا ۔ اس کے بعد موسی نے وسلم : اس دن کے شکر کے طور پر روزہ رکھا ۔ پس ہم بھی اس دن . فنحن احق و أولى بموسى منكم فصامه کا روزہ رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رسول الله صلى الله عليه وسلم و امر کہ ہم تم سے زیادہ موسیٰ کے حق دار ہیں اور قریب ہیں بصيامه ( بخاری ، مسلم ، ابوداؤد) چنانچہ آپ نے اس دن روزہ رکھا اور دوسرے مسلمانوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کے لئے کہا۔
اس سے معلوم ہوا کہ پچھلے پیغمبروں کا ثابت شدہ عمل مسلمانوں کے لئے بھی اسی طرح قابل تقلید ہے۔ جس طرح وہ ان پیغمبروں کی اپنی امتوں کے لئے قابل تقلید تھا۔
حضرت موسی علیہ السلام جب مصر میں مبعوث ہوئے تو وہاں دو قسم کے گروہ پائے جاتے تھے۔ فرعون کی قوم جو قبطی کہی جاتی تھی ۔ دوسری بنی اسرائیل کی قوم جو گویا قدیم زمانہ کے مسلمان تھے ۔ یہ دونوں گروہ ہدایت سے دور تھے۔ فرعون کی قوم اگر کفر و شرک میں مبتلا تھی تو بنی اسرائیل ہر قسم کے دینی بگاڑ کا شکار تھے۔ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے۔ آپ کو بنی اسرائیل کی اصلاح کرنا تھا۔ مگر بنی اسرائیل کی اصلاح کے انتظار میں آپ نے قوم فرعون پر دعوت حق کا کام موقوف نہیں کیا ۔ آپ نے بیک وقت دونوں کام شروع کئے ۔ گویا یہ طریقہ غیر پیغمبرانہ طریقہ ہے کہ مسلمانوں کے بگاڑ کو عذر بنا کر غیر مسلموں میں دعوت کا کام نہ کیا جائے۔