Al-Risala · September 1985

دین احمد کا گھٹے دین مسیحا بڑھ جائے

Al-Risala, September 1985, pp. 23–24

By Maulana Wahiduddin Khan

منشی امیر اللہ تسلیم نے برجستہ دوسرا مصرعہ لگا کر عیسائی کو لاجواب کر دیا۔ منشی امیر اللہ تسلیم کا مصرعہ یہ تھا: گر براق نبوی سے خر عیسٰی بڑھ جائے یہ ایک دلچسپ مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم دانشور کس طرح تجزیاتی استدلال کے طریقہ سے بے خبرہے۔ منشی امیر اللہ تسلیم کا یہ تقابل صحیح نہیں۔ ان کی غلطی یہ ہے کہ وہ رسول اللہ کے آسمانی سفر کا تقابل حضرت مسیح کے زمینی سفر سے کر رہے ہیں۔ حالانکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آسمانی سفر کا تقابل آسمانی سفر سے اور زمینی سفر کا تقابل زمینی سفر سے کیا جائے۔

پیغمبر اسلام نے معراج کے وقت براق کے ذریعہ آسمانی سفر کیا تھا ۔ اسی طرح یہ ثابت ہے کہ حضرت مسیح کا آسمان کی طرف زندہ رفع ہوا۔ یہ "رفع " یقیناً کسی غیر معمولی سواری" کے ذریعہ ہوا۔ دوسری طرف سیرت کی کتابیں بتاتی ہیں کہ جس طرح حضرت مسیح گدھے پر بیٹھے اسی طرح پیغمبر اسلام نے بھی گدھے پر سفر فرمایا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آسمانی سفر میں دونوں پیغمبروں کی سواری براق تھی اور زمینی سفر میں دونوں پیغمبروں نے گدھے کی سواری استعمال فرمائی۔

صحیح استدلال وہی ہے جو منطقی تجزیہ میں پورا اترے۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے مسلمان تجزیاتی استدلال سے اتنے بے خبر ہیں کہ ان کے انتہائی بڑے بڑے مصنفین اور مفکرین کے یہاں بھی اس کی مثال مشکل سے ملے گی۔

ہندوستان میں برطانی حکومت کے دور میں مسلمانوں اور عیسائیوں میں مناظرے ہوا کرتے تھے۔

ان مناظروں کا مقصد دعوت نہیں تھا۔ بلکہ صرف یہ تھا کہ ایک دوسرے کے مذہب کو نیچا دکھایا جائے مسلمانوں کو مسیحی اقوام سے سیاسی شکایت پیدا ہو گئی۔ اسی سیاسی شکایت کے مذہبی اظہار کا دوسرا نام مناظرہ تھا یہی وجہ ہے کہ ان مناظروں میں نہ ایک فریق سنجیدہ گفت گو کرتا تھا اور نہ دوسرا فریق۔ کہا جاتا ہے کہ اسی زمانہ میں آگرہ میں ایک پادری صاحب تھے۔ انھوں نے آگرہ کے چوک پر ایک بار تقریر کرتے ہوئے کہا کہ "جو شخص آسمان پر ہے اس کا مرتبہ اونچا ہے یا جو شخص زمین پر ہے اس کا مرتبہ اونچا ہے۔ " حضرت مسیح کے ساتھ "رفع" کا معاملہ ہوا تھا۔ یعنی سولی کے وقت وہ آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ دوسری طرف پیغمبر اسلام وفات پا کر قبر میں دفن کئے گئے ۔ اس فرق سے تمثیلی استدلال کرتے ہوئے پادری صاحب نے حضرت مسیح کو اونچا ظاہر کیا اور پیغمبر اسلام کو نیچا۔

اس کے جواب میں ایک مسلمان دوکاندار نے دوسری تمثیل پیش کی۔ اس نے اپنا ترازو اٹھایا اور کہا کہ پادری صاحب ، اس ترازو کو دیکھئے ۔ آپ بتائیے کہ ترازو کا جو پلڑا نیچے جھکا ہوا ہے اس کا وزن زیادہ ہے یا جو پلڑا اوپر کی طرف اٹھا ہوا ہے اس کا وزن زیادہ ہے۔ کہانی بتاتی ہے کہ پادری صاحب کو اقرار کرنا پڑا کہ جو پلڑا نیچے کی طرف جھکا ہوا ہے اس کا وزن زیادہ ہے۔ ایک تمثیل میں پادری صاحب نے اپنے موافق دلیل پالی اور دوسری تمثیل میں مسلم دکاندار نے۔

مگر اس قسم کا تمثیلی استدلال نہایت کمزور طریق استدلال ہے۔ تمثیل کے ذریعہ کوئی چیز ثابت ہو تب بھی علمی طور پر وہ ثابت نہیں ہوتی۔ اور اگر وہ رد ہو تب بھی وہ علمی طور پر رد نہیں ہوتی۔ تمثیل ایک ایسا برتن ہے جس کو ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق گھٹایا بڑھا سکتا ہے۔ تمثیل کسی بات کو سمجھانے کے لئے استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس سے نہ کوئی چیز ثابت ہوتی اور اس سے نہ کوئی چیز رد ہوتی۔

ایک زمانہ تھا کہ اس ملک میں مسلم اور غیر مسلم دونوں برابر کی سطح پر ملتے جلتے تھے۔ اردو زبان ملک کی عام زبان تھی اس لیے دونوں کے درمیان آزادانہ بات چیت ہوتی تھی۔ یہ بہترین وقت تھا کہ خدا کے دین کی دعوت خدا کے بندوں تک پہنچائی جاتی۔ مگر مسلمانوں نے اس قیمتی وقت کو جھوٹی بحثوں میں کھو دیا۔ یہاں تک کہ وہ وقت آگیا کہ مسلمان اب یہاں ایک الگ تھلگ جماعت بن کر رہ گئے ہیں۔ ان کے اور غیر مسلموں کے درمیان تعلقات کی دوری بھی پیدا ہو گئی ہے اور زبان کی دوری بھی۔

Printed page