عملی حل
Al-Risala, September 1985, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک عالم نفسیات کا قول ہے کہ جب کسی کی انا کو مس کیا جاتا ہے تو وہ برتر انا بن جاتا ہے اور اس کا نتیجہ ہے فساد:
When one's ego is touched, it turns into super-ego, and the result is break-down. عمیر بن حبیب بن حماشہ رضی اللہ عنہ نے اپنے آخر زمانہ میں اپنے پوتے ابو جعفر الخطمی کو ایک لمبی نصیحت کی۔ اس نصیحت کا ایک حصہ صبر سے متعلق تھا۔ اس سلسلے میں انھوں نے کہا:
من لا یرضی بالتفصیل مما یاتی بہ السفيه یرضی جو شخص نادان کے چھوٹے شر پر راضی نہ ہوگا اس کو بالكثیر (الطبرانی فی الاوسط) نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا۔
ان دونوں اقوال میں بدلے ہوئے الفاظ کے ساتھ ایک ہی بات کہی گئی ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ دنیا میں لوگوں کے شر سے بچنے کی ایک ہی یقینی تدبیر ہے۔ اور یہ کہ اپنے آپ کو لوگوں کے شر سے دور
ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر ایک "انا" موجود ہے۔ یہ انا عام حالت میں سویا ہوا رہتا ہے اس کے شر سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی صورت صرف یہ ہے کہ اس کو سویا رہنے دیا جائے۔ اگر کسی کارروائی سے اس انا کو چھیڑ دیا گیا تو وہ سانپ کی طرح اٹھ کر کھڑا ہو جائے گا اور پھر وہ ہر وہ ممکن فساد برپا کرے گا جو اس کے بس میں ہو۔
اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی نادان یا کسی فسادی آدمی سے آپ کو کوئی تکلیف پہنچ اکثر حالات میں اس کا بہترین حل یہ ہوتا ہے کہ ابتدائی تکلیف کو برداشت کر لیا جائے۔ اگر ابتدائی معمولی تکلیف کو برداشت نہیں کیا گیا اور اس کا جواب دینے کی کوشش کی گئی تو فریق ثانی اور زیادہ بھڑک اٹھے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ جس آدمی نے کنکری کی چوٹ بر داشت نہیں کی تھی وہ مجبور کر دیا جائے گا کہ پتھروں کی بارش کو برداشت کرے۔