Al-Risala · September 1985

اتحاد

Al-Risala, September 1985, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو وہاں کے مشرکین آپ کے سخت وہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہر طرح ستانے لگے۔ اس وقت آپ نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا کہ لڑکر شہید ہو جائیں۔ نبوت کے تیرھویں سال آپ مکہ چھوڑ کر دور کے شہر مدینہ چلے گئے۔ تاہم مشرکین قریش اب بھی ٹھنڈے نہیں ہوئے۔ اب انھوں نے باقاعدہ آپ کے خلاف جنگ جنگ پر جنگ ہوتی رہی۔ مگر اسلام عرب میں فیصلہ کن طاقت نہ بن سکا۔ آخر کار آپ نے صلح کا فیصلہ آپ نے قریش کے ہر مطالبہ کو مان کر، ہجرت کے چھٹے سال ان سے صلح کر لی۔ یہ صلح حدیبیہ تھی۔ حقیقتاً دس سال کا نا جنگ معاہدہ (No-war Pact) تھا جو دشمن کے مطالبات کو یک طرفہ طور پر مان کر حاصل کیا گیا۔

صلح حدیبیہ ذی قعدہ ۶ھ میں ہوئی ۔ اور واقدی کے بیان کے مطابق اگلے ہی مہینہ ذی الحجہ ۶ھ میں آپ نے اطراف عرب اور اطراف مدینہ میں دعوتی وفود بھیجنے شروع کر دئے ۔ ابن کثیر نے اس سلسلہ میں حسب ذیل روایت نقل کی ہے:

قال عبد الله بن وهب ، عن يونس عن الزهري صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدثني عبد الرحمن بن القاري ان رسول الله صلے ایک دن منبر پر خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے۔ الله عليه وسلم قام ذات يوم علی المنبر خطيباً اللہ کی حمد کی اور اس کی تعریف بیان کی اور شہادت فحمد الله واثنى عليه وتشهد ثم قال ! اما بعد دی۔ پھر فرمایا کہ اے لوگو، میں چاہتا ہوں کہ تم میں سے فانی اريد ان ابعث بعضكم الى ملوك الاعاجم کچھ لوگوں کو عجمی بادشاہوں کے پاس بھیجوں۔ پس تم لوگ فلا تختلفوا على كما اختلفت بنواسراٰئیل میرے اوپر اختلاف نہ کرو جس طرح بنی اسرائیل نے على عيسى بن مريم۔ فقال المهاجرون يا رسول الله عیسی بن مریم سے اختلاف کیا۔ مہاجرین نے کہا اے انا لا نختلف عليك في مئیٰ ابداً فمرنا وا بعثنا اللہ کے رسول، ہم آپ سے کسی بھی چیز میں کبھی اختلاف (ابن كثير ، السيرة النبوية، المجلد الثالث، صفحه، ۵۰) نہ کریں گے۔ پس آپ ہم کو حکم دیجئے اور ہم کو بھیجئے۔ صلح حدیبیہ کے بعد جن امیروں اور بادشاہوں کو آپ نے دعوتی خطوط بھیجے ان کی تعداد

کثیر الاطراف سمجھوتے کی اس ناکام کوشش کے بعد پینٹ کیکش "

ذکر کیا جاتا ہے :

عبد اللہ بن حذافہ کو کسریٰ کے نام سلیط بن عمرو ہوذہ بن علی العلاء بن الحضرمی منذر بن ساوی عمرو بن العاص جیفر و عباد دحیہ کلبی قیصر روم شجاع بن وہب اسدی منذر بن الحارث عمرو بن امیہ الضمری نجاشی المہاجر بن ابی امیہ الحارث بن عبد کلّال جریر بن عبد اللہ البجلی ذو الکلاع الحمیری حاطب بن ابی بلتعہ المقوقس صلے حدید کا یہ عظمہ اللہ تعالیٰ نے (مقرر کیا) اس نے اسلام کو جگہ کے مگر دوسرے ممالک کی دعوت صلح حدیبیہ کا یہ عظیم الشان فائدہ تھا کہ اس نے اسلام کو جنگ کے محدود میدان سے نکال کر دعوت کے وسیع تر میدان میں پہنچا دیا۔ جنگ کے اعتبار سے اسلام قبائلی سرداروں کے مقابلہ میں بھی فیصلہ کن نہیں بن رہا تھا مگر دعوت کے میدان میں آتے ہی اسلام کی عظمت کا یہ حال ہوا کہ وہ شاہانِ عالم کے مقابلہ میں بھی اقدام کی پوزیشن میں تھا۔ مگر اسلام کو اس تسخیری میدان میں لانے کی دو لازمی شرطیں ہیں۔ یک یہ کہ داعی اور مدعو کے درمیان تمام مادی اور سیاسی جھگڑوں کو ایک طرفہ قربانی کے ذریعہ ختم کر دیا جائے۔ تاکہ سننے اور سنانے کی معتدل فضا پیدا ہو۔ دوسری لازمی شرط داعی گروہ کا آپس کا اتحاد ہے تاکہ وہ طاقت حاصل ہو جو دعوت کا عمل مؤثر طور پر جاری کرنے کے لئے ضروری ہے۔ آج بے شمار مسلمان "یوم فتح مکہ " منانے کے لئے بے قرار دکھائی دی۔ مگر " نوم صلم صدمہ "

ان بے شمار مسلمان "یوم صلح حدیبیہ" منانے کے لئے بے قرار دکھائی دیتے ہیں۔ منانے کا شوق کسی کو نہیں۔ کیوں کہ صلح حدیبیہ ایک ایسا عمل ہے جو صبر کی قیمت مانگتا ہے۔ اور صبر کی قیمت دینے کے لئے کوئی تیار نہیں۔

Printed page