Al-Risala · January 1985

پونہ کا پروگرام

Al-Risala, January 1985, pp. 43–25

By Maulana Wahiduddin Khan

مندرجہ بالا پروگرام کے علاوہ یہ بھی طے پایا کہ کالج کے ائمہ کے آنے پر ۲۸ ستمبر ۱۹۸۴ء، بعد نمازِ مغرب، یونانی میڈیکل کالج کے افتتاح کی تقریب میں ایک گھنٹہ کی تقریر بعد نماز عشیاء، مکہ مسجد میں خطاب عام ۲۹ ستمبر مکہ مسجد میں درس قرآن آرڈرز مل گئے ہیں اسلامی تربیت کے موضوع پر دنیا کے مختلف اوقات میں نہایت تقریری میں نماز عصر کے بعد، طیبہ یتیم خانہ کا معائنہ ، تقریر نماز عشاء کے بعد، ایک مکان پر تقریر نماز فجر کے بعد مکہ مسجد میں درس حدیث دن کے مختلف اوقات میں اسلامی تحریک کے موضوعات پر تقریریں عربی کلاس‘ کا افتتاح پنشن والی مسجد میں خطاب عام (اسلامی تاریخ ہمیں کیا سبق دیتی ہے) یکم اکتوبر صبح ۱۰ بجے شیخ انور مختار کی رہائش گاہ پر تعلیم یافتہ اصحاب سے ملاقات بھیٹکل کا پروگرام جامعۃ الصالحات کا معائنہ، تقریر تنظیم واصلاح کا معائنہ، تقریر مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن تینگن گنڈی کا معائنہ، تقریر انجن ہائی اسکول کا معائنہ، تقریر اور لاک ڈاؤن کے دوران امدادی ٹھوں کی تقسیم کی اسلامی آرٹ اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اسلام آباد کی کانگ نینگ بنیاد، تقریر احترامات، تذکرات، ایڈوائس، اُمید جامع مسجد بھٹکل میں تقریر

پلو نہ اور بھٹکل کے سفر کے دوران لوگوں جو باتیں ہوئیں۔ ان میں سے بعض یہاں نقل کی جاتی ہیں ایک ، سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ جن لوگوں کو کرنا نہیں ہے وہ پروگرام پوچھ رہے ہیں۔ جن لوگوں کو کرنا ہے انہیں معلوم ہے کہ ان کا پروگرام کیا ہے۔ پھر میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ انگریزی الرسالہ کا اجر اء سب لوگوں کو ایک مکمل پروگرام دے رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ انگریزی الرسالہ پورے عالم اسلام کا واحد پر چہ ہے جو انٹرنیشنل زبان میں خالص دعوتی انداز میں نکالا جارہا ہے۔ زبان اور بیان دونوں اعتبار سے پوری طرح قابل اعتماد ہے۔ اب لوگوں کا کام یہ ہے کہ اس کو غیر مسلموں اور انگریزی داں مسلمانوں تک پہنچائیں۔

جو لوگ واقعۃً کچھ کرنا چاہتے ہیں ، وہ انگریزی الرسالہ کی صورت میں اپنا پروگرام پا گئے ہیں۔ اس کو وہ پوری کوشش سے انگریزی داں اور تعلیم یافتہ غیر مسلموں میں پہنچارہے ہیں۔ اگر ان کو خریدار نہ بھی ملے تو وہ خود اپنی طرف سے اس کو خریدتے ہیں اور دعوتی ذمہ داری کے تحت اس کو پھیلا رہے ہیں۔ کو کچھ کرنا نہیں ہے وہ ابھی تک پروگرام پوچھ رہے ہیں ۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو اپنی بے عملی کا الزام دوسروں کے سر ڈالنا چاہتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے اسلامی قائدین دو قسموں میں بٹے ہوئے ہیں ۔ ایک وہ جو سمجھتے ہیں کہ شخصیتیں تاریخ بناتی ہیں۔ دوسرے وہ جو سمجھتے ہیں کہ تاریخ بنانے والی چیز نظام ہے۔ ایک گروہ انسانی شخصیتوں میں گم ہے اور دوسرا گروہ سیاسی نظامات میں ۔ ان میں سے کوئی بھی نہیں جس کو یہ دکھائی دیتا ہو کہ خدا تاریخ بنانے والا ہے۔ لوگ غیر خدا میں گم ہیں۔ کوئی نہیں جو خدا کو دیکھے اور اس میں ہم تن گم ہو جائے۔

فوج کے ایک آدمی سے ملاقات ہوئی۔ بندوق اور شکار پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا " نشانہ لگاتے وقت پر آپ کو پتھر کی طرح ساکت ہو جانا چاہئے" میں نے سوچا کہ یہی معاملہ زندگی کے بقیہ معاملات کا آدمی اگر کسی " نشانہ " کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کو بقیہ تمام چیزوں سے صرف نظر کرنا ہوگا۔ دوسری چیزوں سے صرف نظر نہ کرسکے ، اس کے حصہ میں صرف یہ آتا ہے کہ کار تو س خالی کرنے کے بعد بھی اس کی گولی نشانہ پر نہ لگے۔

اس سفر کے دوران ایک صاحب نے ایک مسجد کا واقعہ بتایا جس میں بڑی نصیحت ہے، ایک شخص نے اس مسجد میں نماز پڑھی۔ اس کے بعد مسجد کے موذن سے پو چھا کہ مجھے ایک نیا جوتا بنوانا ہے، کسی اچھے جوتے ساز کا پتہ بتاؤ تاکہ میں اس سے اپنا جوتا بنوا سکوں۔ موذن نے امام صاحب کی طرف اشارہ کیا جنہوں

نے ابھی ابھی نماز پڑھائی تھی۔

مسافر کو یقین نہیں ہوا۔ مگر جب وہ مسجد کے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ مسجد کے نیچے ایک دکان میں وہی شخص جوتا بنانے میں مشغول ہے جس نے ابھی نماز کے وقت مسجد میں امامت کی تھی۔ مسافر نے دکان میں جاکر امام صاحب سے گفتگو کی اور ان کو اپنے جوتے کا آرڈر دے دیا۔

بتانے والے نے بتایا کہ یہ امام صاحب عام جوتا سازوں سے کافی زیادہ قیمت پر جوتا بناتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے یہاں فرمائش کرنے والوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ کیوں کہ ان کے متعلق لوگوں کو اطمینان ہے کہ ان کا بنایا ہوا جو تاپوری طرح قابل اعتماد ہوگا۔

ہمارے آئمہ اور مدرسین جو امام ابو حنیفہ کے فقہی مسلک پر بہت زور دیتے ہیں اگر وہ امام ابو حنیفہ کے اس معاشی مسلک کو بھی اختیار کر لیں تو ملت کے آدھے جھگڑے اچانک ختم ہو جائیں اور اسی کے ساتھ اس کے آدھے مسائل بھی۔

۳ اکتوبر ۱۹۸۴ کو واپسی ہوئی۔ بمشکل سے منگلور کا سفر سڑک سے طے ہوا۔ اور منگلور سے دہلی کا سفر ہوائی جہاز سے۔ بمبئی میں جہاز بدلنے کے لئے کچھ دیر رکنا پڑا۔

بمبئی کے ہوائی اڈہ پر مسافروں کی بھیڑ نظر آئی۔ یہ زیادہ تر وہ لوگ تھے جو خلیج کے ملکوں سے کما کر آ رہے تھے اور اپنے وطن کو جانے کے لئے دوسری پرواز کا انتظار کر رہے تھے۔ ان میں سے ہر شخص سب سے زیادہ ان سامانول میں سنہک تھا جن کو وہ اپنے ساتھ لایا تھا اور اب ان کو لے کر جلد از جلد اپنے بیوی بچوں تک پہنچ جانا چاہتا تھا۔

زندگی ایک سفر ہے۔ ہر شخص اپنے آغاز سے انجام کی طرف جا رہا ہے۔ مگر ہر آدمی کے پاس اپنے ساتھ لے جانے کے لئے جاپان اور جرمنی کی مصنوعات ہیں۔ کسی کو بھی یہ معلوم نہیں کہ یہاں ایک اور چیز ہے جس کو آدمی اپنا زاد سفر بناسکے۔ یہ خدا کی یاد ہے۔ لوگ دنیا کے بازار سے انسانی چیزیں لینے میں اتنا مشغول ہیں کہ انہیں یہاں بکھیری ہوئی لا تعداد خدائی چیزوں کو لینے کی فرصت نہیں۔ عظیم ترین خزانہ سے حقیر ترین چیز لینے کی اس سے زیادہ عجیب مثال کوئی دوسری نہیں ملے گی۔

Printed page