Al-Risala · October 1985

قریب مگر دور

Al-Risala, October 1985, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

ائر انڈیا کا ایک جہاز (بوئنگ ۷۴۷) ۲۳ جون ۱۹۸۵ء کو مانٹریل سے اڑا۔ اس پر جہاز کے عملہ سمیت ۳۲۹ آدمی سوار تھے۔ وہ مانٹریل سے لندن ہوتا ہوا دہلی آنے والا تھا۔ دہلی کے پالم ایرپورٹ پر حسب معمول بہت سے لوگ اپنے آنے والے عزیزوں اور مہمانوں کا انتظار کر رہے تھے۔ مسافروں میں کچھ وہ لوگ تھے جو کمائی کر کے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ کچھ وہ لڑکے اور لڑکیاں تھیں جو ہندوستان میں شادی کرنے کے لیے آرہی تھیں۔ کچھ لوگ اپنے متعلقین سے ملنے کے لیے اپنے وطن پہنچنے والے تھے۔

اچانک خوشیاں غم میں تبدیل ہوگئیں ۔ معلوم ہوا کہ جہاز اٹلانٹک کے اوپر پرواز کر رہا تھا کہ آئرلینڈ کے قریب اس کو حادثہ پیش آگیا اور وہ برباد ہو کر سمندر میں گر پڑا۔ ہوائی اڈہ پر مرنے والے مسافروں کی فہرست آویزاں کر دی گئی۔ تمام لوگ جو ہوائی اڈہ پر انتظار کر رہے تھے وہ فہرست دیکھنے کے لیے متعلقہ بورڈ کی طرف دوڑے۔ اس موقع پر ایک انگریزی اخبار کے رپورٹر نے اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے ہیں:

In their moment of stunned disbelief, each one thought “this could not be happening to me.” But, with merciless equality the death list shattered all their hopes. ہوش اڑا دینے والی بے یقینی کے اس لمحہ میں ہر ایک یہ سوچ رہا تھا کہ ایسا حادثہ میرے ساتھ پیش نہیں مگر بے رحم مساوات کے ساتھ موت کی فہرست نے ان کی تمام امیدوں کو بکھیر دیا۔ (ہندوستان ٹائمز ۲۴ جون ۱۹۸۵) فہرست نے بتایا کہ ہوائی جہاز کے ۳۲۹ مسافر سب کے سب اچانک حادثہ کا شکار ہو کر ختم ہو چکے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی نہیں جو اپنے انتظار کرنے والوں تک پہنچنے والا ہو۔ ہر روز اس دنیا میں بے شمار آدمی مر رہے ہیں۔ یہ واقعہ لوگوں کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ آدمی کا حال یہ ہے کہ جب وہ کسی کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ موت صرف دوسروں کے لیے ہے ، اس کے اپنے لیے موت نہیں۔ اپنے کو الگ کرنے کی اس نفسیات کا یہ نتیجہ ہے کہ آدمی سبق وہ موت کے عین قریب ہو کر بھی موت کے پیغام کو نہیں سنتا۔

Printed page