انسان کی بے چارگی
Al-Risala, October 1985, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
بنگلہ دیش بے شمار چھوٹے چھوٹے جزائر کا مجموعہ ہے۔ یہاں اکثر شدید سمندری طوفان آتے ہیں اور انسانی آبادیوں کو غیر معمولی نقصان پہنچاتے ہیں۔ اب تک کے ریکارڈ کے مطابق ۱۹۷۰ء میں یہاں سخت ترین طوفان آیا جس میں تقریباً تین لاکھ انسانی جانیں ضائع ہوگئیں ۔ دیگر نقصانات اس کے
مئی ۱۹۸۵ میں یہاں پھر طوفان آیا۔ طوفانی ہوائیں ۵۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تقریباً ایک ہزار جزیروں کے علاقہ میں داخل ہو گئیں۔ دوسری طرف سمندر کی چار میٹر سے بھی زیادہ اونچی لہروں نے جزائر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تقریباً ایک لاکھ انسان اس کے آگے بے بس ہو کر ہلاک ہو گئے۔ تنکوں کی طرح طوفانی لہروں میں بہہ گئیں۔ ایک اخبار کے رپورٹر نے اپنا عینی مشاہدہ ان الفاظ میں بیان
Urir Char ... looks like it has been bombed relentlessly. Not a single structure, save the concrete forest office stands erect. In fact so fierce has been the force of the gale and tidal waves that not only the houses. but even the building materials were washed away, leaving behind just mounds. ایک انگریزی اخبار (۲۹ مئی ۱۹۸۵) نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ۔ جو قدرت کے غصہ کے سامنے انسان کی بے چاریگی کو بے نقاب کرتا ہے :
murderoues cyclones which expose man's helplessness before nature's fury. حادثات انسان کو حقیقت واقعہ کی یاد دلاتے ہیں ۔ وہ خدا کی قدرت اور انسان کے عجز کا واقعاتی اعلان ہیں ۔ وہ بتاتے ہیں کہ خدا کل کے دن انسان کو پکڑے گا جس طرح آج اس نے انسان کو پکڑا ہے ۔ موجودہ عارضی دنیا میں انسان اپنے عجز کو بھگتتا ہے ۔ ہوگا انسان کا حال اگر وہ آخرت کی ابدی دنیا میں اپنے گناہ کو بھگتے ۔