Al-Risala · October 1985

توہم پرستی

Al-Risala, October 1985, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانی زبانیں ہزاروں سال تک توہمات (Superstitions) کا شکار رہی ہیں ۔ یہ فرض کر لیا گیا کہ بعض زبانیں خدائی اصل (Divine Origin) رکھتی ہیں اور ان کے بولنے والوں کو دوسری زبانوں پر خصوصی درجہ حاصل ہے۔ مثلاً یونانی زبان کے متعلق عرصہ تک یہ سمجھا جاتا ر ہا کہ وہ تمام دوسری زبانوں سے اعلیٰ وہ دیوتاؤں کی زبان ہے ۔ دوسری زبانیں اس کے مقابلہ میں وحشیوں کی زبانیں ہیں ۔ یہی معاملہ عبرانی کا ہوا ۔ مسیحی دنیا میں صدیوں تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ عبرانی زبان خدا کی اپنی زبان ہے ۔ وہ سب سے پہلے دنیا میں بولی گئی ۔ ونڈرل اور نیڈا زبانوں پر مسیحی عقائد کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جن عوامل نے لسانی ترقی کو روکا ان میں سے ایک قدیم مسیحی مولفین کا یہ عقیدہ تھا جو نشاۃ ثانیہ کے دور میں شدت سے چھایا رہا کہ تمام زبانیں عبرانی سے نکلی ہیں : One of the factors which retarded linguistic progress was the belief among early Christian writers and persisting well into the Renaissance era, that all languages were derived from Hebrew. William L. Wonderly and Eugene Nida in "Linguistics and Christian Missions"

Printed page