Anthropological Linguistics, Vol. 5, pp. 104-144
Al-Risala, October 1985, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
چنانچہ صدیوں تک علماء لسان لاحاصل کوششوں میں مشغول رہے ۔ وہ ہر زبان کا رشتہ عبرانی سے ثابت کرتے رہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم اللسان ترقی نہ کر سکا ۔ اٹھار ہویں صدی میں جب یہ فکر مغلوب ہوا اس وقت یورپ کی مختلف زبانوں کا علم اللسان ترقی کرنا شروع ہوا ۔ خدائی زبان (Divine Language) کا تصور تمام تر توہمات کی پیدا وار ہے ۔ جو زبان کے ساتھ پیش آئی یہی قدیم زمانہ میں دوسرے انسانی شعبوں کا بھی حال تھا ۔ بے شمار قسم کے توہماتی عقائد تھے جنھوں نے انسانی ترقی کو روک رکھا تھا ۔ تاریخ میں پہلی بار جس نے اس بند کو توڑا وہ توحید کا انقلاب تھا جو پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں کے ذریعہ رونما ہوا ۔ اولاً عرب میں پیدا ہوا ۔ اس کے بعد اس کے اثرات ساری دنیا میں پہنچے ۔ توہم پرستی کے دور سے نکل کر حقیقت پسندی کے دور میں داخل ہو گئی ۔
حضرت علی کی نصیحتوں میں سے ایک نصیحت یہ ہے :
كلموا الناس على قدر عقولهم اتريدون لوگوں سے ان کی فہم کے مطابق بات کرو۔ کیا تم چاہتے ان يكذب الله ورسوله ہو کہ اللہ اور رسول کو جھٹلایا جائے۔
بعض باتیں بذات خود صحیح ہوتی ہیں، مگر ان کی گرفت وہی لوگ کر سکتے ہیں جو گہری سمجھ رکھتے ہوں عام لوگ ان کو پکڑ نہیں سکتے۔ ایسی حالت میں بات کرتے ہوئے مخاطب کے معیار فہم کا لحاظ رکھنا ضروری سادہ فہم کے لوگوں سے زیادہ گہری قسم کی باتیں کی جائیں تو اندیشہ ہے کہ اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے وہ اس سے متوحش ہو جائیں۔
ایک مرتبہ میں چند آدمیوں کے ساتھ تھا۔ ایک گفتگو کے دوران میری زبان سے یہ فقرہ نکلا :
" خود کفیل زندگی تمام نیکیوں کا آغاز ہے۔
یہ سن کر ہمارے ساتھی متوحش ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیا بات آپ نے کہدی ۔ ہم تو یہ سمجھتے رہے ہیں کہ ایمان سے نیکیوں کا آغاز ہوتا ہے ۔ اور آپ فرما رہے ہیں کہ خود کفیل زندگی تمام نیکیوں کا آغاز ہے۔
میں ابھی خاموش تھا کہ میرے ایک اور ساتھی نے بات سنبھال لی۔ انھوں نے کہا کہ بھائی یہ حکمت کا کلمہ ہے۔ اس کو قانون کی نظر سے نہ دیکھو بلکہ حکمت کی نظر سے دیکھو۔