ادبی انقلاب
Al-Risala, October 1985, pp. 15–19
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۷۲۷) کی دریافتوں کے نتیجہ میں جو عظیم ذہنی انقلاب ہوا، اس کے بعد یورپ میں ایک ترقی یافتہ تکنیک وجود میں آئی اور پھر مطالعہ کے قطعی طریقے (Exact methods) پیدا ہوئے جن کو مسائل پر منطبق کیا جانے لگا۔ اس نہج نے فلسفہ، الہیات اور سیاسیات کے طریق مطالعہ کو متاثر کیا۔ اس باب میں ہم ادب پر اس انقلاب کے اثرات کا مطالعہ کریں گے۔ سائنسی علم (Scientific knowledge) سے پیدا شدہ صورت حال نے لکھنے والوں پر قابل لحاظ اثر ڈالا ہے۔ شکسپیر (۱۶۱۶ ۔ ۱۵۶۴) جو کچھ پورے اعتماد اور سنجیدگی کے ساتھ لکھ سکتا تھا، وہ ۱۶۰۸) کے لئے نا ممکن اور الگزینڈر پوپ (۱۷۴۴۔ ۱۶۸۸) کے لئے ناقابل قیاس تھا، اگر چہ ادبی صلاحیتوں (Literary talents) کے اعتبار سے تینوں یکساں بلندی کے انسان شکسپیر کو تینوں میں سب سے اونچا مقام حاصل ہوا۔ اس کی کم کم جزئی وجہ یہ تھی کہ اسے ایک خوش قسمت عہد (Fortunate period) ملا۔ وہ انگریزی زبان کے ایک عظیم دور کے آغاز میں اور عظیم ذہنی انقلاب سے پہلے پیدا ہوا۔ جس زمانہ میں اس نے اپنی تحریریں لکھیں، اس وقت استعاراتی انداز از اہمیت رکھتا تھا جو نیوٹن کے بعد اسے پھر حاصل نہ ہو سکا۔
تمثیل موجودہ زمانہ میں دو قسم کی ہو سکتی ہے۔ ایک تمثیل وہ ہے جو سائنس داں کے لئے عملی نمونہ (Working model) کا کام دیتی ہے۔ ایٹم کا قدیم تصور کہ وہ بالکل گول ہے، انتہائی سخت ہے۔ کا ایک ماڈل تھا ۔ بعد کو ردر فورڈ (۱۹۳۷ ۔ ۱۸۷۱) کا ایٹمی تصور بھی اس کی ایک مثال تھا جس کے مطابق اس کے اندر ایک ایٹمی نیوکلیں تھا جو مثبت برقی چارج رکھتا تھا اور اس کے گرد الیکٹرون (Electron) سیاروں کی طرح حرکت کر رہے تھے۔ تمثیل کی یہ قسم تجربات سے حاصل شدہ علم کے خلاصہ کے لئے استعمال اگر اندازے پورے اتریں تو ماڈل باقی رہتا ہے۔ اور اگر اندازے پورے نہ ہوں تو ماڈل کی یا تو تصحیح کی جاتی ہے یا اسے ختم کر دیا جاتا ہے۔
ادبی کنایہ (Literary analogy) جو عام طور پر تشبیہ کی شکل میں ہوتا ہے، اس کا مقصد بالکل مختلف ہوتا ہے۔ یہ اس لئے وضع کیا جاتا ہے کہ قاری کو ایک بیان کی صداقت کے بارہ میں
ایک دلچسپ نظیرے سے متاثر کیا جائے۔ سائنسی ماڈل کے مقابلے میں یہ بالکل وقتی نوعیت کی چیز ہے ۔ سائنسی ماڈل سائنس داں کے اندازوں کو ظاہر کرنے کے لئے اس وقت تک استعمال کیا جاتا ہے ، جب تک وہ غلط ثابت نہ ہو جائے۔ مزید یہ کہ ادبی تمثیل اپنی ذات میں کوئی ایک چیز نہیں ہے ، دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ حقیقی نہیں سمجھی جاتی۔
تا ہم عظیم ذہنی انقلاب سے پہلے یہ دو قسم کی تمثیلات ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ نہیں تھیں۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ اخلاقی نظام ہر اعتبار سے نہایت گہرائی کے ساتھ طبیعی دنیا سے مربوط ہے۔ اپنے ایک ڈرامے کے کردار کی زبان سے فوجی نظم و ضبط پر استدلال کرتے ہوئے اس سے کہتا ہے کہ سورج سیاروں کے درمیان کمانڈر کی سی پوزیشن رکھتا ہے تو وہ محض ایک تشبیہ نہیں دیتا بلکہ اپنے یقین کے مطابق وہ کائنات کی فطرت کے بارہ میں ایک صحیح سائنسی بیان دیتا ہے۔ یہ خدائی نظام کا ایک جزو تھا کہ سورج سیاروں کے اوپر حکمران ہو اور اسی طرح Agamemnon یونانیوں کے اوپر حکومت اور ان دونوں میں سے کسی کی حکمرانی میں بھی فرق آنا وسیع تر کائنات میں خلل پیدا کرنے کا سبب بن سکتا تھا :
The rise of science led to a separation of reason from emotion; سائنس کے عروج نے عقل اور جذبات کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا۔ اور فطری طور پر شاعری کے دور کی جگہ نثر کے دور نے لے لی۔
سترھویں صدی کے وسط سے پہلے نثر بھی رنگین اور شاعرانہ طرز کی ہوتی تھی۔ سولیفنٹ (۱۴۵۷ء ۔ ۱۶۶۷) اور ایڈسن (۱۹۱۷-۱۷۲۷) کے وقت سے یہ محض سخن سازی سمجھی جانے لگی۔ ماقبل سائنس کے استعاراتی انداز کی ایک مثال لائیلی (۱۶۰۶-۱۵۷۸) کی کتاب (Euphues) میں ملتی ہے۔ یہ کتاب پہلی بار ۱۵۷۹ میں شائع ہوئی ۔ اس وقت وہ ایک پسندیدہ کتاب تھی اپنے اسٹائل کے اعتبار سے بھی اور اخلاقی مضامین کے اعتبار سے بھی۔ ۱۶۳۶ تک وہ بار بار چھپتی رہی۔ اس کے بعد عام قارئین میں اس نے اپنی جاذبیت کھودی اور محض ایک ادبی عجوبہ (Literary curiosity) بن کر رہ گئی۔
۱۶۵۰ تک ایک شخص انگلش لٹریچر میں عالم خیال اور عالم فطرت کے درمیان کالیت (Wholeness)
اس صدی کے وسط سے دونوں کے درمیان خلیج پیدا ہونا شروع ہوئی اور آرٹ اور سائنس کی تقسیم کی شکل میں دونوں الگ الگ ہوگئے ۔ اس کے بعد انگریزی میں ایک سادہ اور استعارہ اور کنایہ سے خالی انداز پیدا ہونے لگا جس کی سب سے بڑی وجہ یورپ میں سائنس کی طرف بڑھتا ہوا رجحان تھا سادگی اظہار (Simplicity of expression) پیدا ہونے کی اور بھی وجہیں تھیں۔ سترہویں صدی میں جب تعلیم بڑھی تو یونانی اور لاطینی کلاسیکل کتابوں کے مقابلہ میں لوگ زیادہ تر فلکیات بحریات، جہاز سازی اور گھڑی سازی کے مطالعہ میں دل چسپی لینے لگے۔ اس طرح فطری طور پر سادہ زبان کا رجحان بڑھا کیونکہ یہ مضامین شاعرانہ طرز کے ادب میں بیان نہیں کئے جاسکتے تھے۔ پہلے سو برس میں اخبار کی زبان بھی اس سے اثر پذیر ہوئی ہے۔ تعلیمی انفجار (Literary explosion) کے بعد عوامی صحافت (Popular journalism) پیدا ہوئی اور اسٹائل میں سادگی آتی چلی گئی۔ سترہویں صدی کے بعد پیدا ہونے والے ادب کو ٹھیک ٹھیک حقائق (Precise facts) بیان کرنے تھے۔ سادہ انداز بیان کا پیدا ہو نا بالکل فطری تھا۔
سپراٹ (Spart) نے ۱۶۶۷ میں (History of Royal Society) لکھی ۔ اور اس میں نثر کے اسٹائل کے اصول مقرر کئے ۔ اس میں اس نے لکھا کہ ہم کو فطری طرز کلام (Natural way of speaking) اختیار کرنا چاہئے جس میں ریاضیاتی ڈھنگ کی واقعیت ہو اور لفظی رنگینیوں سے خالی ہو۔
۱۶۶۴ میں رائل سوسائٹی نے بالقصد ایک کمیٹی قائم کی جس کا مقصد یہ تھا کہ انگریزی زبان کے اسٹائل میں اصلاح کی کوشش کرے۔
اس وقت کے یورپ میں عوامی لہر پوری طرح شعر ، استعارہ اور شاعرانہ نثر (Poetic prose) کے خلاف تھی۔ فلاسفہ عام طور پر اس طرز بیان کو سچائی (Truth) میں ایک رکاوٹ سمجھتے تھے۔ (۱۶۷۹ - ۱۵۸۸) کے نزدیک وہ سیدھے فکر (Straight thinking) میں خلل پیدا کرنے والا تھا روسو (۱۷۷۸ - ۱۷۱۲) نے کہا تھا کہ ڈیکارٹ (۱۶۵۰ - ۱۵۹۶) کے فلسفہ نے شاعری کو قتل کر دیا۔ جان لاک (۱۷۰۴ - ۱۶۳۲) نے صاف طور پر کہا کہ شاعری خوبصورت تصویروں کا مجموعہ ہے مگر وہ بنیادی طور پر گمراہ کن ہے۔
ملٹن آخری شاعر تھا جو قدر کے نگاہ سے دیکھا گیا اور سر ٹامس براؤن (۱۶۸۲-۱۶۰۶) شاید آخری شخص تھا جس نے اس طرز کی نثر لکھی۔ ٹامس براؤن ایک تعلیم یافتہ شخص تھا۔ مگر وہ قدیم طرز کی زبان استعمال کرتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خواہش کے باوجود رائل سوسائٹی کا فیلو نہ بنایا جا سکا۔ اس وقت کے اہل فکر ایک ایسی نثر وجود میں لانا چاہتے تھے جو فلسفہ فطرت کے نئے میکانکی تصور سے ہم آہنگ
They were interested in the development of prose style in accordance with new mechanical concepts of natural philo-
نثر میں سادگی پیدا کرنے کی تحریک کا سہرا خاص طور پر جان ڈرائڈن (۱۷۰۰-۱۶۳۱) کے سر ہے اس نے مسلسل اس کی تبلیغ کی اور خود سادہ نثر استعمال کی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حبہ دید انگیز یزی در حقیقت ڈرائڈن کی زبان ہے۔
اٹھارویں صدی کو’’ ایج آف ریزن‘‘ کہا جاتا ہے۔ نیوٹن کے بعد محسوس کیا گیا کہ جس طرح عالم افلاک میں نظم و ضبط ہے اسی طرح لٹریچر کو بھی نظم و ضبط کا پابند ہونا چاہئے۔ ایڈمنڈ والر (۱۶۸۷۔ ۱۶۰۶) اور ڈرائڈن نے شاعرانہ زبان کے ذریعہ تاثیر پیدا کرنے کی بجائے یہ کوشش کی کہ متوازن خیالات (Well-balanced thoughts) کو معتدل اور مناسب زبان میں ادا کر کے یہ فائدہ حاصل
ایڈیسن (۱۷۱۹-۱۶۷۲) نے اپنی کتاب (The Spectator) میں انھیں خیالات کی
اس ادبی تحریک (Literary move) نے ارسطو کو دوبارہ اہمیت کا مقام دے دیا۔ نے فطرت (Nature) کی پیروی کی تلقین کی۔ ورڈسورتھ کی فطرت کی نہیں بلکہ وہ فطرت جس کو نیوٹن نے دریافت کیا تھا۔
ولیم بلیک (۱۸۲۷-۱۷۵۷) نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ وہ شاعر کو اسی قسم کی ایک مخلوق سمجھتا تھا جیسے قدیم اسرائیلی پیغمبر۔ اسی طرح ورڈسورتھ (۱۸۵۰-۱۷۷۰) نے بھی اس کے خلاف احتجاج کیا۔ اس نے کہا کہ حقیقت کی کچھ اور قسمیں ہیں جو ان مادی صداقتوں کے علاوہ ہیں
جن کو سائنس داں بیان کرتے ہیں۔ یہ دوسری قسم کی صداقتیں وہ ہیں جن تک صرف شاعر کی پہنچ ہو سکتی ہے۔
رومانی تحریک (Romantic Movement) ایک معنی میں نیوٹنی قطعیت (Newtonian certainty) کے خلاف شاعرانہ رد عمل تھی اور ہابس کے خلاف جس نے کہا تھا کہ انسان بنیادی طور پر ایک مشین ہے۔
رومانیت (Romanticism) ایک قسم کی فراریت (Escapism) تھی۔ رومانیت شاعری کے اندر ۱۹۱۴ء سے جنگ عظیم ۱۸-۱۹۱۴ تک رہی۔
اب یورپ میں تین سو سالہ دور کار عمل ہو رہا ہے۔ صنعتی دور کی خشکی سے اکتا کر وہ سائنس کے ساتھ آرٹ کی اہمیت کو بھی تسلیم کر رہا ہے۔ بہترھویں صدی میں سائنس نے زبردست ترقی کی تھی۔ آرٹ نے بھی قدیم زمانہ میں بہت بلند مقام حاصل کیا تھا۔ ہو سکتا ہے مستقبل میں وہ دوبارہ اپنے مقام پر لوٹ آئے۔
ردی گریٹ انٹلیکچول ریولوشن کے ایک باب استعارہ کی موت (The Death of Metaphor)