Al-Risala · October 1985

الفاظ کا رجسٹر

Al-Risala, October 1985, pp. 20–23

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم مدینہ میں یہود کے بعض قبیلے آباد تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بارہ سال بعد ہجرت کر کے مدینہ آئے تو یہود بھی آپ کی مجلسوں میں آ کر بیٹھنے لگے۔ قاعدہ ہے کہ سامعین میں سے کوئی شخص بات کو پوری طرح سمجھ نہ پائے تو وہ صاحب مجلس کو مزید متوجہ کرنے کے لیے کوئی لفظ بولتا ہے۔ یہود نے ایسے موقع پر راعنا کہنا شروع کیا۔

رَاعِنَا مراعات سے امر کا صیغہ ہے۔ اس کے لفظی معنی ہیں " ہماری رعایت کیجئے" مخاطب یہ لفظ بول کر متکلم پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس نے متکلم کی بات کو اچھی طرح نہیں سنایا اچھی طرح نہیں سمجھا۔ اس لیے وہ چاہتا ہے کہ متکلم اپنی بات کی دوبارہ وضاحت

بعض الفاظ لغت کے اعتبار سے بظاہر درست ہوتے ہیں مگر استعمال کے اعتبار سے ان میں ناپسندیدہ مفہوم پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ رَاعِنَا کا تھا۔ رَاعِنَا لغت کے اعتبار سے بظاہر ٹھیک معلوم ہوتا ہے۔ مگر یہود کے یہاں یہ لفظ استعمال کے اعتبار سے برے معنی کا حامل بن گیا تھا (کان هذا اللفظ سباً قبيحاً بلغة اليهود ---- قيل كان معناه يا احمق من الرعونة ، التفسير المظهري ، جلد اول ، صفحه ١١١ مدینہ کے مسلمانوں (انصار) پر سیکڑوں سال سے یہود کی دینی عظمت بیٹھی ہوئی تھی انھوں نے یہود کے عمل کو دیکھ کر سمجھا کہ شاید یہ بزرگوں اور پیغمبروں کو مخاطب کرنے کا چنانچہ وہ بھی آپ کی مجلسوں میں رَاعِنَا کا لفظ استعمال کرنے لگے۔ مگر قرآن میں مسلمانوں کو اس کے استعمال سے روک دیا گیا۔ حکم ہوا کہ تم لوگ ایسے مواقع پر اُنظُرْنَا

(ہمارے اوپر نظر کیجیے) کا لفظ بولا کرو، اور راعنا کا لفظ بولنا چھوڑ دو (البقرہ ۱۰۴) سورہ النور (آیت ۲۷) میں یہ حکم ہے کہ اے ایمان والو، جب تم اپنے گھر کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل ہو تو السّلام علیکم کہو اور اجازت لے کر داخل ہو۔ یہ حکم اترا تو اس کے آداب لوگوں کو صحیح طور پر معلوم نہ تھے۔ چنانچہ بعض عجیب واقعات اس سلسلے میں ایک روایت ابو داؤد میں اس طرح آئی ہے:

عن ربعی قال اتی رجل من بنی عامر حضرت ربعی کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عامر کا ایک شخص فاستاذن علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ آیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وسلم وهو فی بيته فقال ا اَلج فقال گھر میں تھے۔ اس نے آپ سے اندر آنے کی اجازت النبی صلی اللہ علیہ وسلم لخادمہ: چاہی اور کہا کہ کیا میں گھس آؤں۔ اخرج الى هذا فعلمه الاستئذان صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم سے کہا کہ اس شخص فقل له: قل السلام علیکم اَدخل کے پاس جاؤ اور اس کو بتاؤ کہ اجازت لینے کا طریقہ فسمعه الرجل فقال السلام علیکم کیا ہے۔ اس سے کہو کہ تمہیں یوں کہنا چاہیے کہ اَدخل - فاذن له النبي صلی اللہ السلام علیکم کیا میں اندر آجاؤں۔ آدمی نے آپ علیہ وسلم فدخل کا یہ کلام سن لیا۔ اس نے دوبارہ کہا کہ السلام علیکم تفسیر ابن کثیر، جز ر ثالث ، صفحه ۲۸۰ ) کیا میں اندر آ جاؤں۔ اس کے بعد آپ نے اس کو اجازت دے دی اور وہ اندر داخل ہوا۔

عربی زبان میں وَّلِجَ يَلِجُ کے معنی بھی اصلاً وہی ہیں جو دَخَلَ يَدْخُلُ کے معنی مگر استعمال کے اعتبار سے وَّلِجَ يَلِجُ کا مفہوم تقریباً وہ بن گیا ہے جس کو اردو زبان میں گھسنا کہتے ہیں۔ اس کے برعکس دَخَلَ يَدْخُلُ سادہ طور پر اندر آنے کے معنی میں بولا جاتا ہے۔

مذکورہ شخص کا بولا ہوا لفظ لغوی زبان کے اعتبار سے درست تھا۔ مگر وہ استعمالی زبان کے اعتبار سے درست نہ تھا۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً اس

کی اصلاح فرمائی ۔

کسی تحریر یا تقریر میں الفاظ کی موزونیت (Appropriateness) بے حد اہم چیز ہر تقریر یا تحریر کا کوئی محل ہوتا ہے، اور اسی کے لحاظ سے اس کے لیے موزوں یا غیر موزوں الفاظ ہوتے ہیں۔ جدید علم اللسان میں اس کو الفاظ کا رجسٹر (Register) کہا جاتا ہے ، ہر زبان میں استعمال کے اعتبار سے الفاظ کے مختلف ’’ رجسٹر ‘‘ ہوتے ہیں۔ لفظ ایک موقع کے لیے درست ہوتا ہے ، مگر وہی لفظ کسی دوسرے موقع کے لیے درست اس لیے لکھنے یا بولنے والے کو چاہیے کہ وہ اس فرق کو جانے ۔ وہ جس موضوع پر لکھ یا بول رہا ہے اس کے رجسٹر سے اپنے لیے الفاظ کا انتخاب کرے ۔ اسلام دین کا مل ہے۔ اس میں ہر معاملہ کے بارہ میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ مذکورہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ اسلام میں اس لسانی مسئلہ کو بھی بتا دیا گیا کہ الفاظ کا رجسٹر ہوتا ہے اور آدمی کو چاہیے کہ وہ رجسٹر کے لحاظ سے موضوع کلام کے مطابق الفاظ استعمال وہ رجسٹر کے باہر کے الفاظ استعمال کرنے سے پر ہیز کرے ۔ یہ کسی ایک زبان کی بات نہیں ۔ بلکہ اس اصول کا تعلق ہر زبان سے ہے۔ میں ایسا ہوتا ہے کہ بعض الفاظ استعمال کے اعتبار سے کسی متعین مفہوم کے لیے خاص ہو جاتے ہیں ایسے الفاظ کے سلسلے میں ضروری ہے کہ صرف ان کا لغوی مفہوم نہ دیکھا جائے بلکہ ان کا استعمالی مفہوم بھی دیکھا جائے اور ان کو لکھتے یا بولتے ہوئے ان کے استعمالی مفہوم کا لحاظ رکھا جائے ۔

اوپر ہم نے عربی زبان کی مثال نقل کی ہے ۔ اب ذیل میں اردو اور انگریزی زبان کی ایک ایک مثال نقل کی جاتی ہے ۔

سورہ کہف ( آیت ۱۸) میں اصحاب کہف کے سونے کی کیفیت بیان ہوئی ہے یہ اللہ تعالیٰ کا ایک خصوصی انتظام تھا۔ چنانچہ اس کی تشریح کرتے ہوئے مولانا امین احسن اصلاحی اپنی تفسیر " تدبر قرآن " میں لکھتے ہیں :

" وہ غار میں محو خواب تھے لیکن صورت حال ایسی تھی کہ اگر اتفاق سے کوئی ان کو دیکھ پاتا تو یہ گمان نہ کرتا کہ وہ سورہے ہیں بلکہ وہ یہی سمجھتا کہ جاگ رہے ہیں۔ یعنی ان کو سوتا اور بے خبر سمجھ کر کوئی ان کو نقصان پہنچانے کی جرات نہ کر سکتا بلکہ ان کو اپنی حفاظت کے لیے بیدار وہوشیار خیال کرتا۔ ان کے سونے کی ہیئت ایسی تھی کہ معلوم ہوتا کہ کچھ لوگ ذرا دم لینے کے لیے بس لیٹ گیے ہیں۔ ایسی نہیں کہ دیکھنے والا سمجھے کہ انسٹاغفیل پڑ کر سورہے ہیں " اوپر کی عبارت میں خط کشیدہ لفظ پر غور کیجیے۔ یہ خالص لغوی معنی کے اعتبار سے درست مگر تفسیر قرآن اور اصحاب کہف کے تذکرہ میں اس لفظ کا استعمال قطعا موزوں نہیں ۔ موضوع کے اعتبار سے یہ رجسٹر سے باہر کا لفظ ہے جس کو یہاں بے تکلف استعمال کیا گیا ہے۔ راقم الحروف کی کتاب ” پیغمبر انقلاب “ میں صفحہ ۶۲ پر حضرت اسامہ بن زید کی مہم کا اس سلسلہ میں بتایا گیا ہے کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق کو اس کی اہمیت کا اتنا زیادہ احساس تھا کہ آپ " لشکر کو خود رخصت کرنے کے لیے پیدل چل کر رشک بار گاہ تک پہنچے اسامہ بن زید کو ان کے لشکر کے ساتھ روانہ کیا۔ جب اسامہ اپنی سواری پر چلے تو حضرت ابو بکر صدیق بھی ساتھ ساتھ باتیں کرتے ہوئے چلنے لگے "

اس عبارت کے آخری فقرہ کا انگریزی ترجمہ ایک صاحب نے ان الفاظ میں کیا : With Usamah aloft on his mount, the Caliph of the Muslims walked alongside, chatting with him. یہاں Chatting کا لفظ خالص لغت کے اعتبار سے غلط نہیں ہے ۔ مگر وہ استعمال کے اعتبار سے سراسر غلط ہے ۔ کیوں کہ Chatting کا لفظ انگریزی زبان میں غیر سنجیدہ گفتگو کے لیے مستعمل ہے نہ کہ خلیفہ اسلام جیسی مقدس شخصیت کی سنجیدہ گفتگو کے لیے ۔

Printed page