Al-Risala · October 1985

ایک انگریزی کتاب

Al-Risala, October 1985, pp. 23–26

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں الفاظ کے رجسٹر کے موضوع پر بڑی بڑی تحقیقی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہاں ہم ہاروڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈوائٹ بولنگر کی کتاب کا حوالہ دیں گے جو کہ حسب ذیل ہے :

پروفیسر بولنگر نے " رجسٹر" کے مسئلے پر تفصیل سے کلام کیا ہے۔ اور مختلف پہلوؤں سے بہت سی مثالیں نقل کی ہیں ۔ مثلاً ایک جگہ وہ کہتے ہیں :

ایک مذہبی معلم عبادت خانہ میں وعظ کہہ رہا ہو اور حاضرین آمین اور بارک اللہ کہیں تو یہ وہاں کے لیے بالکل مناسب ہوگا۔ لیکن ایک پروفیسر اگر فلکیاتی طبیعیات کے موضوع پر یونیورسٹی میں لکچر دے تو پروفیسر سخت حیرت میں پڑ جائے گا اگر سامعین اس طرح کے کلمات سے اس کی حوصلہ افزائی کرنے لگیں ۔

اسی طرح وہ ایک مقام پر لکھتے ہیں :

ایک شخص کھانے کی میز پر ہو اور وہ مزید کھانے سے معذرت کرنا چاہے تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ سر یا ہاتھ کے اشارے کے ساتھ کہے کہ شکریہ ۔ اس کے بجائے اگر وہ کہے کہ "اب نہیں" تو یہ آداب کلام کے خلاف ہوگا ۔

اسی طرح ایک اور پہلو سے مثال دیتے ہوئے پروفیسر بولنگر لکھتے ہیں : انگریزی زبان میں Worry اور Apprehension معنی کے اعتبار سے ملتے جلتے الفاظ ہیں۔

مگر مذکورہ فقرہ میں worry کا استعمال درست نہیں۔ کیوں کہ سیکرٹری کسنجر کے ساتھ Apprehensive کا لفظ ان کے ڈپلومیٹ ہونے کی حیثیت کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے جب کہ worried کے لفظ میں ان کی حیثیت ایک عام انسان جیسی ہو کر رہ جاتی ہے۔ جس طرح مختلف مواقع کے لیے استعمال کی زبان الگ الگ ہوتی ہے، اسی طرح مذہبی کلام اور غیر مذہبی کلام کے لیے بھی الفاظ کا رجسٹر الگ الگ ہوتا ہے۔ جدید ترقی یافتہ زبانوں کے اچھے مصنفین اس معاملہ میں بہت محتاط ہوئے ہیں۔ وہ جس موضوع پر لکھتے ہیں اسی کے رجسٹر سے اپنے لیے الفاظ لیتے ہیں۔ وہ کبھی دوسرے موضوع کے رجسٹر سے الفاظ لینے کی غلطی نہیں کرتے۔

بدقسمتی سے اردو زبان ابھی اس معاملہ میں بہت پیچھے ہے۔ یہاں کسی چیز کا کوئی معیار نہیں حتی کہ بڑے بڑے مشہور مصنفین بھی اس طرح لکھتے ہیں جیسے کہ وہ اس بات کو جانتے ہی نہ ہوں کہ الفاظ کا الگ الگ رجسٹر ہوتا ہے۔ اور کسی موضوع پر لکھتے ہوتے آدمی کو اسی رجسٹر سے الفاظ لینے چاہئیں جو اس کے موضوع سے مطابقت رکھتے ہوں۔ قرآن کی تفسیر بلا شبہ سب سے زیادہ مقدس موضوع ہے۔ تفسیر کی کتاب میں اس قسم کا لسانی عیب قطعاً نہیں ہونا چاہیے ۔ مگر اردو زبان میں معیار بندی نہ ہونے کا یہ نتیجہ ہے کہ تفسیر کی کتابیں بھی اس سے خالی نہیں۔ اس سلسلہ میں ڈپٹی نذیر احمد مرحوم کا ترجمہ سب سے زیادہ واضح مثال ہے۔ اس میں تقریباً صفحہ صفحہ پر اس قسم مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں کہ مترجم نے رجسٹر سے باہر کے الفاظ کو قرآنی آیات کے ترجمہ کے لیے استعمال کیا ہے۔ تاہم دوسرے نسبتاً محتاط مفسرین کی کتابیں بھی اس عیب سے خالی نہیں۔ چند مشہور مفسرین قرآن کی مثال سے اس معاملہ کو واضح کریں گے ۔ آئندہ جو اقتباسات دیے جارہے ہیں ان میں نشان زد الفاظ پر غور کیجئے ۔ یہ واضح طور پر تفسیر کی زبان کے لیے یہ رجسٹر سے خارج الفاظ ہیں جن کو مقدس کلام کے ترجمہ و تشریح کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

سورہ کہف ( آیت ۵۰) میں شیطان کی ذریت ( وذريته ) کا لفظ ہے۔ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ مولانا اشرف علی تھانوی نے ان الفاظ میں کیا ہے : " سو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے ، وہ جنات میں سے تھا ۔ سو اس نے اپنے رب کے حکم سے عدول کیا۔ سو کیا پھر بھی تم اس کو اور اس کے چیلے چانٹوں کو دوست بناتے ہو مجھ کو چھوڑ کر ، حالاں کہ وہ تمہارے دشمن ہیں "

سورہ مائدہ ( آیت ۳۸) میں سارق اور سارقہ کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ کا ترجمہ مولانا عبد الماجد دریا بادی نے ان الفاظ میں کیا ہے : " اور چوتے اور چوٹی دونوں کے ہاتھ کاٹ ڈالو ۔ ان کے کرتوتوں کے عوض میں ، اللہ کی طرف سے بطور عبرت ناک سزا کے ۔ اور اللہ بڑا قوت والا ، بڑا حکمت والا ہے " سورہ النور ( آیت ۳۲) میں نکاح کا ایک حکم ہے۔ اس کا ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی نے ان الفاظ میں کیا ہے :

" اور اپنی رانڈوں اور رنڈوؤں اور ذی صلاحیت غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح اگر وہ تنگ دست ہوں گے تو اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا اور اللہ بڑی سمائی رکھنے والا اور علم والا ہے ۔

Printed page