Al-Risala · October 1985

تفہیم القرآن کی مثال

Al-Risala, October 1985, pp. 26–29

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی " تفہیم القرآن " اردو تفسیر کی مشہور کتاب ہے۔ اس میں کثرت سے ایسے الفاظ پائے جاتے ہیں جن میں " رجسٹر " سے انحراف کیا گیا ہے۔ ذیل میں ہم تفہیم القرآن سے کچھ مثالیں پیش کریں گے ۔

سورہ نساء ( آیت ۱۵۷) میں یہود کے بارہ میں ارشاد ہوا ہے کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ کو قتل کیا ہے ۔ اس آیت کے تحت تفہیم القرآن میں جو حاشیہ ہے اس کا ایک فقرہ یہ ہے :

" (حضرت یحییٰ) نے دربار کی برائیوں پر تنقید کی تو اسے برداشت نہ کیا گیا ۔ جیل بھیجے گئے ۔ اور پھر والی ریاست کی معشوقہ کے مطالبے پر ان کا سر قلم کر دیا گیا ۔

یہودیوں کے اس ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ انھوں نے اپنے زعم میں مسیح کو سولی پر چڑھانے کے بعد سینے پر ہاتھ مار کر کہا ہو کہ ہم نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے ۔

۲- سورہ ابراہیم میں قیامت کا بیان ہے ۔ اس سلسلے میں ارشاد ہوا ہے کہ اور جب (قیامت میں) معاملہ کا فیصلہ ہو جائے گا تو شیطان کہے گا کہ بے شک اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو میں نے اس کے خلاف کیا ۔ اور مجھے تمہارے اوپر کوئی اختیار نہ تھا۔ میں نے تم کو بلایا تو تم نے میری بات مان لی ۔ اب مجھ کو ملامت نہ کرو اپنے آپ کو ملامت کرو ۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے میں خود اس سے بیزار ہوں کہ تم اس سے قبل مجھ کو شریک ٹھیراتے تھے ۔ ظالموں کے بے دردناک سزا ہے (ابراہیم ۲۲)

اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تفہیم نے حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں :

"شیطان اپنے پیروؤں سے کہے گا کہ اگر آپ حضرات ایسا کوئی ثبوت رکھتے ہوں کہ آپ خود راہِ راست پر چلنا چاہتے تھے اور میں نے زبردستی آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو غلط راستہ پر کھینچ لیا تو ضرور اسے پیش فرمائیے ۔ جو چور کی سزا سو میری ۔ اپنی اس دعوت کا ذمہ دار تو بلاشبہ میں خود ہوں اور اس کی سزا بھی پا رہا ہوں ۔ مگر آپ نے جو اس پر لبیک کہا اس کی ذمہ داری آپ مجھ پر کہاں ڈالنے چلے ہیں ۔ اپنے غلط انتخاب اور اپنے اختیار کے غلط استعمال کی ذمہ داری تو آپ کو خود ہی اٹھانی چاہیے ۔

سورہ نحل (آیت ۲۸) میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن اہل کفر اپنے کو لیے سہارا پائیں گے تو وہ سرکشی چھوڑ کر اطاعت ظاہر کرنے لگیں گے اور کہیں گے ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے تھے ۔ اس آیت کی تشریح تفہیم القرآن میں ان الفاظ میں کی گئی ہے : "کفار کی روحیں جب قبض کی جاتی ہیں تو وہ موت کی سرحد کے پار کا حال بالکل اپنی توقعات کے خلاف پا کر سراسیمہ ہو جاتی ہیں اور فوراً سلام ٹھونک کر ملائکہ کو یقین دلانے کی کوشش کرتی ہیں کہ ہم کوئی برا کام نہیں کر رہے تھے ۔ جواب میں ملائکہ ان کو ڈانٹ

بتاتے ہیں اور جہنم واصل ہونے کی پیشگی خبر دیتے ہیں ؛

۴- تفہیم القرآن میں سورہ روم کے دیباچہ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایسا ہوا کہ رومیوں کے اوپر ایرانیوں نے فتح حاصل کی۔ اس کے بعد حالات بدلے اور دوبارہ رومیوں کا ایرانیوں کے اوپر غلبہ ہو گیا۔ اس سلسلے میں پڑھنے والوں کو حسب ذیل فقرہ ملتا ہے :

" اس وقت سلطنت روم پر ایران کے غلبے کا چرچا ہر زبان پر تھا۔ مکہ کے مشرکین اس پر بغلیں بجا رہے تھے اور مسلمانوں سے کہتے تھے کہ دیکھو ایران کے آتش پرست فتح پارہے ہیں اور وحی ورسالت کے ماننے والے عیسائی شکست پر شکست کھاتے چلے جارہے ہیں۔ اسی طرح ہم عرب کے بت پرست بھی تمہیں اور تمہارے دین کو مٹا کر رکھ دیں گے "، ۵- سورہ الحج (آیت ۱۱) میں منافقانہ طور پر اسلام کو اختیار کرنے والوں کا ذکر ہے۔ کنارہ پر رہ کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اگر فائدہ کی امید ہو تو بیٹھے رہتے ہیں اور اگر کوئی مصیبت دیکھتے ہیں تو فوراََ واپس چلے جاتے ہیں۔ اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : " یعنی دائرہ دین کے وسط میں نہیں بلکہ کنارے پر ، یا بالفاظ دیگر کفر و اسلام کی سرحد پر کھڑا ہو کر بندگی کرنا ہے۔ جیسے ایک مذبذب آدمی کسی فوج کے کنارہ پر کھڑا ہو۔ اگر فتح ہوتی دیکھے تو ساتھ آٹلے۔ اور شکست ہوتی دیکھے تو چپکے سے سٹک جائے ۔

۶- سورہ المومنون (آیت ۳۷) کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

" یہ لفظ یہاں محض فریاد و فغاں کے معنی میں نہیں بلکہ اس شخص کی فریاد و فغاں کے معنی میں بولا گیا ہے جو کسی رحم کا مستحق نہ ہو۔ اس میں تحقیر اور طنز کا انداز چھپا ہوا ہے۔ اندر یہ معنی پوشیدہ ہیں کہ اچھا ، اب جو اپنے کرتوتوں کا مزا چکھنے کی نوبت آئی تو بلبلانے لگے "، ۷- سورہ المومنون (آیت ۱۰۰-۹۹) کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے : یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ اے میرے رب ، مجھے اسی دنیا میں واپس بھیج دیجئے جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔ امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا۔ ہرگز نہیں ، یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ بک رہا ہے "، ۸- سورہ الحج کی آیت ۳۳ قربانی کے جانوروں کے بارہ میں ہے۔ اس کی تشریح کرتے

ہوئے لکھتے ہیں کہ عرب کے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ ہی کے جانوروں کو بیت اللہ کی طرف لے جانے لگیں تو ان پر سواری کرنا یا اور کسی شکل میں ان کو استعمال کرنا جائز نہیں ۔ نے بتایا کہ قربانی کی جگہ پہنچنے تک تم ان جانوروں سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ میں ایک حدیث ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں :

" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص اونٹ کی مہار تھامے پیدل چلا جا رہا ہے۔ اور سخت تکلیف میں ہے۔ آپ نے فرمایا اس پر سوار ہو جا۔ اس نے عرض کیا کہ یہ ہدی کا آپ نے فرمایا : ارے سوار ہو جا "

۹ - سورہ المومنون کی آیت ۴۷- ۴۵ کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے : پھر ہم نے موسی اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا۔ مگر انھوں نے تکبر کیا اور بڑی دوں کی لی کہنے لگے کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لائیں۔ اور آدمی بھی وہ جس کی قوم ہماری

۱۰- سورہ المومنون د آیت ۴۷ - ۵۳ ) میں دعوت رسالت کے منکرین کا ذکر ہے ، اس کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے :

" مگر یہ لوگ اس معاملے سے بے خبر ہیں۔ اور ان کے اعمال بھی اس طریقے سے مختلف ہیں۔ وہ اپنے یہ کرتوت کیے چلے جائیں گے یہاں تک کہ جب ہم ان کے عیاشوں کو عذاب میں پکڑلیں گے تو پھر وہ ڈکرانا شروع کر دیں گے ۔

۱۱- تفہیم القرآن میں سورہ احزاب کے دیباچہ میں یہودی قبیلہ بنونضیر کا قصہ درج ہے اس میں ایک مقام پر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں :

" جس روز انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کی سازش کی اور اس کا راز فاش ہوا اسی روز آپ نے ان کو نوٹس دے دیا کہ دس دن کے اندر مدینہ سے نکل جاؤ۔ اس کے بعد تم میں سے جو یہاں پایا جائے گا قتل کر دیا جائے گا۔ منافقین مدینہ کے سردار عبداللہ بن ابی نے ان کو ترغی دی کہ ڈٹ جاؤ اور مدینہ چھوڑنے سے انکار کر دو۔ میں دو ہزار آدمیوں کے ساتھ

Printed page