Al-Risala · October 1985

تمہاری مدد کروں گا ،،

Al-Risala, October 1985, pp. 30–33

By Maulana Wahiduddin Khan

سورہ حشر (آیت ۲) میں یہود کے قبیلہ بنو نضیر کے اخراج کا ذکر ہے ۔ اس آیت کے تحت مذکورہ تفسیر میں ایک مفصل حاشیہ درج ہے جس میں یہ الفاظ ہیں :

" یہودی اس دنیا میں ایک عجیب قوم ہے اللہ کے رسولوں کو یہ جانتے ہوئے اس نے قتل کیا ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ۔ اور فخر کے ساتھ سینہ ٹھوک کر اس نے کہا ہے کہ ہم نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ،، سورہ لیل (آیت ۱۰) کے تحت ایک مفصل حاشیہ ہے جس میں حسب ذیل الفاظ ملتے ہیں :

" اور یہ جو فرمایا گیا کہ ایسے کو ہم سخت راستہ پر چلنے کی سہولت دیں گے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس سے بھلائی کے راستے پر چلنے کی توفیق سلب کر لی جائے گی ۔ بدی کرنا اس کے لیے آسان ہوگا اور نیکی کرنے کے خیال سے اس کو یوں محسوس ہوگا کہ جیسے اس کی جان پر بن رہی ہے۔ دوسری جگہ قرآن میں ۔ منافقین کے متعلق فرمایا کہ وہ نماز کی طرف آتے بھی ہیں تو کسمساتے ہوئے آتے ہیں ۔ اور یہ کہ ان میں ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جو راہِ خدا میں کچھ خرچ کرتے ہیں تو اسے اپنے اوپر زبردستی کی چٹّی سمجھتے ہیں (التوبہ ۹۸) سورہ النور (آیت ۳۱) کی تشریح کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ "عورتوں کے لیے بھی غضِ بصر کے احکام وہی ہیں جو مردوں کے لیے ہیں۔ لیکن مرد کے عورت کو دیکھنے کی بہ نسبت عورت کے مرد کو دیکھنے کے معاملہ میں احکام تھوڑے سے مختلف ہیں " اس کے بعد دورِ صحابہ کے کچھ واقعات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

" شوکانی نیل الاوطار میں ابن حجر کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ عورتوں کے باہر نکلنے کے معاملہ میں ہمیشہ جوانہ ہی پر عمل رہا ہے۔ مسجدوں میں ، بازاروں میں اور سفروں میں عورتیں تو نقاب منہ پر ڈال کر جاتی تھیں کہ مرد ان کو نہ دیکھیں ۔ مگر مردوں کو کبھی یہ حکم نہیں دیا گیا کہ وہ بھی نقاب اوڑھیں تا کہ عورتیں ان کو نہ دیکھیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے معاملہ میں حکم مختلف ہے (جلد ۶، صفحہ ۱۰۱) تاہم یہ کسی طرح بھی جائز نہیں ہے کہ عورتیں

اطمینان سے مردوں کو گھوریں اور ان کے حسن سے آنکھیں سینکیں "

۱۵- سورہ النور (آیت ۶۳) کا ترجمہ تفہیم القرآن میں اس طرح کیا گیا ہے : " مسلمانو ! اپنے درمیان رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا بلانا نہ سمجھ اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے چپکے سے سٹک جاتے ہیں۔ رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرتا چاہیے کہ وہ کسی فتنہ میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر درد ناک عذاب نہ آجائے‘‘ " سورہ النور (آیت ۶۱) میں ارشاد ہوا ہے کہ " تمہارے اوپر اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے گھروں سے کھاؤ ۔ یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھاؤ " اس کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تفہیم نے یہ الفاظ لکھے ہیں :

" ان میں سے کسی کے ہاں کھانے کے لیے اس طرح کی شرطوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ صاحب خانہ باقاعدہ اجازت دے تو کھائیں ورنہ خیانت ہوگی ۔ آدمی اگر ان میں سے کسی کے ہاں جائے اور گھر کا مالک موجود نہ ہو اور اس کے بیوی بچے کھانے کو کچھ پیش کریں تو بے تکلف کھایا جا سکتا ہے ۔ دوستوں کے معاملہ میں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ ان سے مراد بے تکلف اور جگری دوست ہیں جن کی غیر موجودگی میں اگر یار لوگ ان کا حلوا اڑا جائیں تو ناگوار گزرنا تو درکنار انھیں اس پر الٹی خوشی ہو "

۱۷- سورہ الفرقان (آیت ۷) میں ہے کہ مکہ کے منکرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں کہتے تھے کہ " یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے " اس کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تفہیم لکھتے ہیں :

" اگر آدمی ہی رسول بنایا گیا تھا تو کم از کم وہ بادشاہوں اور دنیا کے بڑے لوگوں کی طرح ایک بلند پایہ ہستی ہونا چاہیے تھا جسے دیکھنے کے لیے آنکھیں ترستیں اور جس کے حضور باریابی کا شرف بڑی کوششوں سے کسی کو نصیب ہوتا ۔ نہ یہ کہ ایک ایسا عام آدمی خداوند عالم کا پیغمبر بنا دیا جائے جو بازاروں میں جوتیاں چٹخاتا پھرتا ہو۔

سورہ الشعراء (آیت ۲۱۷) کی تشریح کے تحت لکھتے ہیں :

" حضرت موسیٰ نے قومِ فرعون کے ایک شخص کو ایک اسرائیلی سے لڑتے دیکھ کر ایک گھونسا مار دیا تھا جس سے وہ مر گیا۔ پھر جب حضرت موسیٰ کو معلوم ہواا کہ اس واقعہ کی اطلاع قومِ فرعون کے لوگوں کو ہو گئی ہے اور وہ بدلہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں تو وہ ملک چھوڑ کر مدین کی طرف فرار ہو گئے تھے۔ اب جو آٹھ دس سال کی رو پوشی کے بعد یکایک انہیں یہ حکم دیا گیا کہ تم پیغامِ رسالت لے کر اسی فرعون کے دربار میں جا کھڑے ہو جس کے ہاں تمہارے خلاف قتل کا مقدمہ پہلے سے موجود ہے تو حضرت موسیٰ کو بجا طور پر یہ خطرہ ہو کہ پیغام سنانے کی نوبت آنے سے پہلے ہی وہ تو مجھے اس قتل کے الزام میں پھانسی دے گا ۔

۱۹ - سورہ لقمان ( آیت ۳۲ ) میں ارشاد ہوا ہے کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کی کشتی سمندر کے طوفان میں گھر جاتی ہے تو وہ یکسو ہو کر خدا کو پکارنے لگتے ہیں۔ اور جب اللہ تعالیٰ ان کی کشتی کو طوفان سے بچا کر ساحل پر پہنچا دیتا ہے تو وہ دوبارہ غافل اور سرکش بن جاتے ہیں ۔ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تفہیم القرآن لکھتے ہیں :

" وہ خطرے کا وقت ٹل جانے کے بعد بے تکلف اپنے کفر، اپنی دہریت اور اپنے شرک کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ وہ یہ نہیں مانتے کہ انھوں نے طوفان کی حالت میں خدا کے ہونے اور ایک ہی خدا کے ہونے کی کچھ نشانیاں خارج میں بھی اور اپنے نفس میں بھی پائی تھیں اور ان کا خدا کو پکارنا اسی وجدانِ حقیقت کا نتیجہ تھا۔ ان میں سے جو دہریے ہیں وہ اپنے اس فعل کی یہ توجیہہ کرتے ہیں کہ وہ تو ایک کمزوری تھی جو بحالتِ اضطراب ہم سے سرزد ہو گئی۔ ورنہ درحقیقت خدا ودا کوئی نہ تھا جس نے ہمیں طوفان سے بچایا ہو۔ ہم تو فلاں فلاں اسباب وذرائع سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ۔

سورہ احزاب ( آیت ۳۳ ) میں ازواجِ رسول کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم لوگ گھروں میں وقار کے ساتھ رہو اور تبرج جاہلیت کا طریقہ مت اختیار کرو۔ اس سلسلہ میں صاحب تفہیم اپنے تفسیری نوٹ میں لکھتے ہیں :

" عورت کے لیے جب لفظ "تبرج" استعمال کیا جائے تو اس کے تین مطلب ہوں گے ۔ کہ وہ اپنے چہرے اور جسم کا حسن لوگوں کو دکھائے۔ دوسرے یہ کہ وہ اپنے لباس اور زیور کی شان

دوسروں کے سامنے نمایاں کرے ۔ تیسرے یہ کہ وہ اپنی چال ڈھال اور چمک مٹک سے اپنے آپ کو نمایاں کرے ۔

سورہ حم السجدہ کے دیباچہ میں صاحب تفہیم نے سورہ کے موضوع اور مضمون کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے :

بڑا ہی بد قسمت ہے وہ انسان جس کے ساتھ ایسے شیاطین جن و انس لگ جائیں جو اسے ہر طرف ہرا ہی ہرا دکھاتے رہیں ۔ اس کی حماقتوں کو اس کے سامنے خوشنما بنا کر پیش کریں اور اسے کبھی نہ خود صحیح بات سوچنے دیں نہ کسی دوسرے سے سننے دیں۔ اس طرح کے نادان لوگ آج تو یہاں ایک دوسرے کو بڑھاوے چڑھاوے دے رہے ہیں اور ہر ایک دوسرے کی شہہ پا کر پہلے پر دہلا مار رہا ہے ۔ مگر قیامت کے روز جب شامت آئے گی تو ان میں سے ہر ایک کہے گا کہ جن لوگوں نے مجھے بہکایا تھا وہ میرے ہاتھ لگ جائیں تو انھیں پاؤں تلے روند ڈالوں گا ، اوپر جو اقتباسات نقل کیے گئے ہیں ان میں نشان زد جملوں پر غور کیجیے ۔ یہ جملے اگر چہ قواعد کی رو سے درست ہیں مگر اُسلوب کے اعتبار سے یقیناً وہ موزوں نہیں ۔ یہ بازار میں بولی جانے والی زبان ہے نہ کہ وہ زبان جو قرآن کی تفسیر میں لکھی جائے ۔ ڈکشنری میں اگر چہ تمام الفاظ ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں ۔ مگر جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ، استعمال کے اعتبار سے الفاظ کا الگ الگ " رجسٹر " ہوتا ہے ۔ آدمی جس موضوع پر لکھ رہاہو ، اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اسی موضوع کے رجسٹر سے وہ اس کے مطابق الفاظ کا انتخاب کرے ۔ مذکورہ اقتباسات بتاتے ہیں کہ تفہیم القرآن کے مصنف اگر چہ تفسیر قرآن کے موضوع پر لکھ رہے تھے مگر متعدد مقامات پر انھوں نے ایسے غیر متعلق رجسٹر سے الفاظ لے لیے جو تفسیر کے مقدس موضوع سے مناسبت نہیں رکھتے تھے ۔

( باقی )

Printed page