ایک سفر
Al-Risala, October 1985, pp. 34–37
By Maulana Wahiduddin Khan
۶ اپریل ۱۹۸۵ کی شام کو ۱۰ بجے میں دہلی میں اپنے کمرہ میں تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ اٹھایا نو معلوم ہوا کہ پونہ سے جناب عبدالصمد شیخ بول رہے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ بمبئی کے احباب سے بمبئی میں اجتماع کے لیے مشورہ ہوا ہے۔ انھوں نے اجتماع کے لیے ۸ - ۹ - ۱۰ - ۱۱ مئی ۱۹۸۵ کی تاریخیں تجویز کی ہیں۔ میں نے کہا کہ اگر یہ تاریخیں بہت ضروری نہ ہوں تو آپ اسی مہینہ کے اگلے ہفتے میں ۱۴ - ۱۷ - ۱۸ - ۱۹ مئی کی تاریخیں رکھ لیں ۔
اس مختصر گفتگو کے بعد ٹیلی فون بند کر دیا گیا ۔ صرف پانچ منٹ بعد پھر ٹیلی فون کی گھنٹی بجی دوبارہ عبدالصمد صاحب پونہ سے بول رہے تھے ۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے ابھی بمبئی سے ٹیلی فون پر بات کی ہے ۔ وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہاں ہم کو تاریخوں میں تبدیلی منظور ہے ۔ ۱۴ - ۱۷ - ۱۸ - ۱۹ مئی کی تاریخوں کو قطعی صورت دیدی جائے ۔
دہلی سے بمبئی کا فاصلہ سولہ سو کلومیٹر ہے ۔ دہلی سے پونہ بھی تقریباً اتنے ہی فاصلہ پر واقع ہے ۔ دورِ جدید کی خدائی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ دہلی اور پونہ اور بمبئی کے درمیان مشورہ کے ذریعہ ایک اجتماع کا پروگرام طے ہو۔ اور براہ راست متعلقہ افراد سے گفتگو کرکے اسے آخری شکل دی جائے اور یہ سب کچھ صرف پانچ منٹ میں انجام پا جائے ۔ اور پھر براہ راست ڈائلنگ کے نظام نے اس دور میں مواصلات کو کتنا آسان بنا دیا ہے ۔ اس کے بعد ۱۴ مئی ۱۹۸۵ کو جب میں صبح تو بجے بذریعہ ہوائی جہاز دہلی سے روانہ ہوا اور سولہ سو کلومیٹر کی دوری طے کر کے صرف ایک گھنٹہ ۴۵ منٹ میں بمبئی اتر گیا تو میں نے اپنے دل میں سوچا کہ موجودہ زمانہ میں خدا نے کیوں ایسا کیا کہ فاصلوں کا خاتمہ کر دیا۔ پوری دنیا کو ایک گھر کی طرح بنا دیا گیا کہ ہر وقت دوسرے سے ربط قائم کیا جا سکے ۔ ہر وقت دوسرے تک پہونچنا ممکن ہو ۔
دوبارہ میرے دل نے جواب دیا کہ یہ عظیم الشان نعمت ہم کو پیغمبر آخر الزماں کی بعثت کے طفیل میں حاصل ہوئی ہے ۔ آپ کی بعثت سارے عالم کے لیے ہے (لیکون للعالمین نذیرا)
آپ کی لائی ہوئی ہدایت کو تمام دنیا کے انسانوں تک پہنچنا ہے ۔ اس لیے آپ کی بعثت کے بعد آنے والے دور میں خدا نے سفر اور پیغام رسانی کے معاملہ کو انتہائی سریع بنا دیا تاکہ آپ کے امتی ان کو استعمال کر کے آپ کی ہدایت کو بہ سہولت سارے عالم تک پہنچا سکیں ۔ ان تیز رفتار مواصلاتی ذرائع کے دنیوی فائدے بھی ہیں ۔ مگر وہ مزید عنایت کے طور پر حاصل ہوئے ہیں نہ کہ انھیں دنیوی فائدوں کے لیے یہ ذرائع کھولے گئے ہیں ۔
بمبئی ہندوستان کی تجارتی راجدھانی ہے بمبئی اتنا بڑا ہے کہ وہ بذات خود ایک ملک معلوم ہوتا ہے ۔ بمبئی کے حجم کا اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہاں ۲۰ لاکھ انڈے روزانہ کھائے جاتے ہیں ۔ خوش قسمتی سے بمبئی میں مسلمان نسبتاً کافی اچھی حالت میں ہیں۔ یہاں ان کی معقول تعداد آباد ہے ۔ تجارتوں میں وہ قابلِ لحاظ حیثیت رکھتے ہیں ۔ بڑی تعداد میں ان کے تعلیمی اور سماجی ادارے اور کالج اور اسپتال قائم ہیں ۔ ایک صاحب نے فرمایا کہ بمبئی کے مسلمانوں کے پاس سب کچھ ہے ۔ مگر ان کی کمی یہ ہے کہ ان کی کوئی لیڈر شپ نہیں ۔ اسی کمی کا یہ نتیجہ ہے کہ یہاں انفرادی سطح پر جو مواقع انھیں حاصل ہیں ، ان کے لحاظ سے وہ اجتماعی کامیابی اپنے لیے حاصل نہ کر سکے ۔ میں نے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں کہ لیڈر نہیں اس لیے لیڈر شپ نہیں ۔ مگر بات اس کے بالکل برعکس ہے ۔ اصل یہ ہے کہ مسلمانوں کی خود سری انھیں کسی لیڈر شپ کو قبول نہیں کرنے دیتی ۔ اسی لیے ان کا کوئی لیڈر بھی نہیں ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ خود سر قوم بن گئے ہیں ۔ اور یہی ان کے درمیان کوئی حقیقی لیڈر شپ پیدا نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔
مسلمان صرف اس لیڈر کا ساتھ دے سکتے ہیں جو ان کا ساتھ دے۔ جو لیڈر ان کی خواہشات کا ساتھ نہ دے ، مسلمان بھی اس کو اپنا لیڈر بنانے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔ ماضی کی تاریخ اس کے ثبوت کے لیے کافی ہے ۔
بمبئی کی آبادی تقریباً ۸۰ لاکھ ہے۔ اس میں ایک تہائی مہاراشٹری ہیں اور دو تہائی بیرونی ریاستوں کے لوگ ہیں ۔ مسلمان تقریباً ۲۰ فی صد ہیں ۔ تاہم " جھگی جھونپڑی " کے باشندوں
میں ان کا تناسب ۵۰ فی صد تک پہنچ جاتا ہے ۔
بمبئی ایک صنعتی شہر ہے ۔ مگر یہاں کی صنعتوں میں مسلمانوں کا حصہ غالباً ایک فی صد سے بھی کم ہوگا ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی یہ کمی ہے کہ وہ مل کر کام نہیں کر سکتے ۔ دور کی صنعت مشترکہ سرمایہ پر قائم ہوتی ہے ۔ مسلمانوں کے پاس الگ الگ اتنا سرمایہ ہے کہ اگر وہ جمع ہو سکے تو بہت بڑی بڑی صنعتیں قائم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے ، مگر مشترکہ کام کرنے کے لیے برداشت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی وہ صفت ہے جس کو آج مسلمان سب سے زیادہ کھوتے ہوتے ہیں ۔
ایک صاحب نے کہا کہ مشترکہ سرمایہ کی کمپنیوں میں مسلمانوں کا کم حصہ ہونے کی وجہ اسلام کے قوانین ہیں ۔ اسلام میں سود حرام ہے حالانکہ سود ہی کی بنیاد پر بنک قائم ہوتے ہیں اور بنک سے سودی رقم لے کر تمام بڑی بڑی کمپنیاں شروع ہوتی ہیں۔ مسلمان سودی قرض کو حرام سمجھتے ہیں اسی لیے وہ بڑے کارخانے بھی قائم نہیں کر پاتے۔
میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ سود اسلام میں حرام ہے مگر امداد باہمی کی انجمن (کوآپریٹیو سوسائٹی) بنانا تو حرام نہیں۔ پھر مسلمان ایسا کیوں نہیں کرتے کہ امداد باہمی کی انجمنوں میں اپنی رقمیں جمع کریں اور اس کے ذریعہ سے مشترکہ سرمایہ کی کمپنیاں قائم کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی صنعتی پسماندگی کی وجہ ان کی بے اتحادی ہے نہ کہ سود کا مسئلہ ۔ آج ہر جگہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ معمولی سی خلاف مزاج بات پر بے برداشت ہو جاتے ہیں ۔ زندگی برداشت کا امتحان ہے اور برداشت کا سرمایہ ان کے پاس موجود نہیں ۔ مسلمانوں کی ’’مظلومی‘‘ ان کے بے برداشت ہونے کی قیمت ہے جس کو آج وہ ساری دنیا میں بھگت رہے ہیں ۔ اور ان کی یہی کمی ہے جو ان کے لیے جدید صنعتی دنیا میں داخلہ میں رکاوٹ بن گئی ۔
بمبئی کی یہ خصوصیت ہے کہ یہاں ایک مسلمان عبدالرحمن انتولے کو ریاست کا وزیر اعلیٰ ۱۹۸۰) بننے کا موقع ملا۔ عام طور پر لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا دور نہایت اچھا تھا۔ انھوں نے بہت سے مفید کام کیے ۔ انھوں نے راتوں کو جوا، شراب وغیرہ کے اڈوں پر چھاپہ
اس طرح کی ایک خبر انڈین ایکسپریس نے اس سرخی کے ساتھ شائع کی تھی کہ بمبئی کا ہارون رشید :