Haroon Rasheed of Bombay
Al-Risala, October 1985, pp. 37–44
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر جلد ہی عبد الرحمن انتولے صاحب پر زوال آ گیا ۔ جہاں تک میں نے معلومات کیں ، وہ ایک لائق اور با صلاحیت آدمی ہیں ۔ ان کی خدمات کا لوگوں کو اعتراف ہے ۔ مگر ان کو غالباً اپنے اوپر ضرورت سے زیادہ اعتماد (Over-confidence) ہو گیا ۔ اور یہی چیز ان کے زوال کا سبب بن گئی ۔ اپنے آپ کو کم سمجھنا اگر مضر ہے تو اپنے آپ کو زیادہ سمجھنا ہلاکت کا باعث ہو جاتا ہے ۔
تاریخ انسانی کا یہ عجوبہ ہے کہ مسلمانوں کو جن لوگوں سے شکایت ہوتی ہے ، وہ اپنے عمل سے خود ان لوگوں کی تقویت کا ذریعہ بن جاتے ہیں ۔ مسلمانوں کو اکثریتی فرقہ کی طرف سے معاشی ظلم کی شکایت ہے ۔ مگر دوسری طرف یہی مسلمان اپنے بڑھے ہوئے اسراف کی بنا پر ان کے معاشی استحصال کا شکار ہو رہے ہیں ۔ شادیوں ، جشنوں اور تقریبات میں خرچ کیا ہوا بے حساب سرمایہ ہر روز وہ انھیں لوگوں کے جیبوں میں ڈال رہے ہیں جن کو وہ معاشی ظالم قرار دے کر ان کے خلاف چیخ پکار کر رہے ہیں ۔
بمبئی میں آپ کسی مسلمان سے گفتگو کریں تو وہ ہمیشہ شیو سینا کی شکایت کرتا ہوا ملے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ خود مسلمان ہیں جو شیو سینا کی تقویت کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں ۔ شیو سینا اور اس طرح کے دوسرے فرقہ پرست گروہوں کو یکسر نظر انداز کر دیں تو یقینی ہے کہ وہ اپنی موت آپ مر جائیں گے ۔ بعض اوقات دشمن کی موت دشمن کو نظر انداز کرنے میں ہوتی ہے مگر افسوس کہ مسلمان اس راز کو نہیں جانتے ۔
بمبئی کارپوریشن کے الیکشن (اپریل ۱۹۸۵) میں شیو سینا بڑی اکثریت سے کامیاب ہوئی ہے ۔ شیو سینا کو ووٹروں کی کل تعداد کا صرف ۲۳ فی صد ملا ۔ اس کے باوجود اس کی غیر معمولی کامیابی کا کم از کم ایک سبب وہی مسلمان تھے جو شیو سینا کے سب سے زیادہ شاکی بنے ہوئے ہیں ۔
یہاں تک کے معدہ کے حلق تک آتے مسلّمہ ووٹوں کا، اکثریت سے، مثلاً عظم کھاڑی یہاں معدود ایسے حلقہ انتخاب ہیں جن میں مسلم دونوں کی اکثریت ہے۔ ملا عمر بھاری اس حلقہ میں کل تیس ہزار ووٹر ہیں جن میں تقریباً ۲۰ ہزار مسلمان ہیں۔ مگر سننے والے تعجب کریں گے کہ مسلم اکثریت کے اس علاقہ میں بھی جو شخص کامیاب ہوا وہ شیوسینا کا امیدوار تھا۔ یہ عجوبہ کیسے ہوا ۔ مسلمانوں کے باہمی اختلاف کی وجہ سے ۔ عمر کھاڑی کے حلقہ انتخاب میں پانچ مسلمان امیدوار بن کر کھڑے ہو گئے۔ دوسری طرف شیوسینا کا امیدوار صرف ایک تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم ووٹ پانچ جگہ بٹ گئے اور شیوسینا کو اس کے تمام ووٹ محفوظ طور پر ملے ۔ ووٹوں کی اس تقسیم کی وجہ سے پانچوں مسلم امیدوار ہار گئے اور شیوسینا کا امیدوار جیت گیا ۔ مسلمان جہاں اقلیت میں ہیں وہاں مسلم اور غیر مسلم کا مسئلہ پیدا کر کے وہ اپنے کو کم کر لیتے ہیں اور جہاں وہ اکثریت میں ہیں وہاں ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر خود اپنے ہاتھوں اپنے کو کم کیسے ہیں جس میں اس کی روح کی تسکین کے سامان ہوتے ہیں ۔
سِری ، مُلْطَان ، پیشور ، لاہور اور گجرات کے ۱۷ مئی ۱۹۸۵ بعد نماز مغرب ۱۷ مئی صبح ۱۰ بجے نماز جمعہ سے پہلے بمبئی میں پروگرام خطاب بمقام رتن بائی ہال خواتین سے خطاب، جامعہ اصلاح البنات بائندہ کی جامع مسجد میں خطاب بعد نمازِ مغرب بعد نمازِ عشار ۱۸ مئی ۱۲ بجے ۴ بجے شام بعد نمازِ عشار ۱۴ مئی ۱۱ بجے مسٹر جی ایم صدیقی کے مکان پر سوال و جواب کی نشست باندرا اردو ہائی اسکول میں خطاب سوال و جواب کی نشست باندرہ اسکو ل میں پریس کانفرنس ریڈیو کلب میں اکبر پیر بھائی ہال میں خطاب گورنمنٹ کالونی باندرا میں خطاب مہاراشٹر کالج ہال میں خطاب
بمبئی میں بڑی تعداد میں الرسالہ (اردو، انگریزی) آتا ہے۔ کتابیں کافی پھیلی اب کچھ لوگوں نے یہ پروگرام بنایا ہے کہ بڑی تعداد میں غیر مسلموں میں سنجیدہ اور تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک فہرست بنائی جائے اور ان کو اپنی طرف سے الرسالہ انگریزی جاری کرایا یہ ایک بے حد اہم کام ہے۔ اور اس کو ہر جگہ کیا جانا چاہیے ۔ پوری مسلم دنیا میں واحد اسلامی پر چہ ہے جو خالص دعوتی انداز میں نکل رہا ہے اور اس کی زبان بھی خدا کے فضل سے نہایت اعلیٰ ہوتی ہے ۔ بین اقوامی زبان میں ایسے ایک دعوتی پرچہ کا وجود میں آجا نا مسلمانوں پر زبردست ذمہ داری عائد کرتا ہے ۔ اب یہ مسلمانوں کی اپنی ذمہ داری ہے کہ اس پرچہ کو غیر مسلم حضرات تک پہنچائیں ، خواہ ڈاک کے ذریعہ یا دستی طور پر ملاقات کے ذریعہ ۔ ایسا نہ کرنا اپنی ذمہ داری میں زبردست کوتاہی کے ہم معنی ہے۔ اجتماعات ۱۶ مئی سے ۱۹ مئی تک مختلف مقامات پر ہوتے رہے ۔ ہر جگہ مرکز کی کتابوں کا ایک اسٹال بھی لگایا جاتا رہا۔ اسٹال توقع سے زیادہ کامیاب رہا۔ کتابوں کی خریداری کے علاوہ لوگوں نے الرسالہ کی ایجنسی میں اپنے نام لکھائے اور اس کی خریداری قبول کی ۔ ایک صاحب نے پچاس الرسالہ (۲۵ اردو، ۲۵ انگریزی) سے ایجنسی شروع کی ۔
بمبئی کے اجتماعات خدا کے فضل سے کافی کامیاب رہے ۔ ہر پروگرام میں تعلیم یافتہ اور باشعور طبقہ بڑی تعداد میں شریک ہوتا رہا۔ ۷ مئی کی شام کو مغرب اور عشاء کے درمیان باند رہ ہائی اسکول کے ہال میں تقریر تھی ۔ تقریر جاری بھی تھی کہ عشاء کی اذان ہو گئی۔ اس کے آدھ گھنٹہ بعد عشاء کی جماعت ہونے والی تھی ۔ مزید ۲۰ منٹ بولنے کے بعد میں نے تقریر ختم کر دی ۔ پورا مجمع کہنے لگا کہ ابھی تشنگی باقی اس لیے عشاء کی نماز کے بعد دوبارہ تقریر ہو۔ تاہم میں نے اس کو پسند نہیں کیا اور عشار کے پہلے تقریر ختم کر دی ۔ اس تقریر کا موضوع تھا " اسلامی دعوت کے جدید امکانات “ ۱۹ مئی کو مہاراشٹر کالج کے ہال میں تقریر تھی ۔ یہ تقریر خالص علمی اور تاریخی انداز کی تھی اور ڈھائی گھنٹہ تک مسلسل جاری رہی۔ اس کے باوجود پورا مجمع آخر تک انتہائی انہماک کے ساتھ سنتا رہا۔ ۱۶ مئی ۱۹۸۵ کی شام کو بمبئی کے ایک ہال میں تقریر کا پروگرام تھا۔ یہ ہال ان لوگوں کا تھا جو اپنے آپ کو سنی مسلمان کہتے ہیں۔ ہال باقا عدہ بک کیا گیا۔ اس کا مقررہ کرایہ
ادا کر دیا گیا ۔ ضروری کارروائیوں کی تکمیل کے بعد اجتماع سے ایک دن پہلے اس کا اعلان کر دیا گیا۔ جب ساری کارروائی ہو چکی تو اجتماع سے ۲۰ گھنٹے پہلے ہال کے ذمہ داروں نے مطلع کیا کہ آپ کو ہال نہیں دیا جا سکتا " کیوں کہ آپ کے مولانا صاحب جو دہلی سے آ رہے ہیں وہ دیوبندی ہیں " منتظمین اجتماع نے کہا کہ یہ بات آپ کو پہلے بتانی چاہیے تھی۔ اب تو ہم اعلان کر چکے ہیں مگر کسی قسم کی اپیل منتظمین کے لیے کارگر نہ ہوسکی ۔ بالآخر قریب کے ایک اور ہال میں اجتماع کا انتظام کیا گیا ۔ ۱۶مئی کی شام کو وہاں میری ایک گھنٹہ کی تقریر ہوئی ۔ مذکورہ انتشار کے باوجود ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ بہت سے لوگ کرسیوں پر جگہ نہ پانے کی وجہ سے کھڑے ہوئے نظر آئے تاہم میں نے اپنی تقریر میں اس ناخوش گوار واقعہ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
۱۹ مئی کی دوپہر کو پریس کانفرنس ہوئی۔ یہ پریس کانفرنس ریڈیو کلب میں تھی۔ کلب یہاں کا ایک ممتاز ادارہ ہے جو سمندر کے کنارے ایک پر فضا مقام پر واقع ہے ۔ کے ایڈیٹروں اور نمائندوں کی قابلِ لحاظ تعداد جمع ہو گئی تھی ۔ ابتداً ان کے درمیان اسلامی مرکز کا انگریزی تعارف نامہ تقسیم کیا گیا ۔ اس کے بعد میں نے مختصر طور پر خطاب کیا جس میں مرکز کے مقاصد کی وضاحت کی ۔ آخر میں سوالات و جوابات ہوئے ۔
سوالات و جوابات کا سلسلہ بہت دیر تک قائم رہا ۔ تاہم یہ بات میرے لیے زیادہ خوشی کی نہ تھی کہ اکثر لوگ اس قسم کے سوالات پوچھتے رہے کہ مسلم پرسنل لا کے مسئلہ میں آپ کی رائے کیا ہے ۔ فرقہ وارانہ فسادات کے بارہ میں آپ کیا کہتے ہیں۔ اردو اور مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے بارہ میں آپ کیا مرکز کیا کرنا چاہتا ہے۔
یہ سوچ کر مجھے بہت دکھ ہوا کہ اس ملک میں مسلمانوں نے اپنی جو تصویر بنائی ہے وہ بس یہ ہے کہ ان کے کچھ قومی اور مادی مسائل ہیں اور انھیں کے بارہ میں لکھنا اور بولنا سب سے بڑا مسلم مسئلہ ہے ۔ مسلم مسئلہ کا یہ تصور ہلاکت خیز حد تک غلط ہے۔ مگر اس معاملہ میں ہم دوسروں کی شکایت نہیں کرسکتے ۔ کیوں کہ مسلمانوں کی یہ تصویر خود ہمارے اپنے لیڈروں کی بنائی ہوئی ہے نہ کہ کسی دوسرے کی۔
اس ملک میں مسلمانوں کی تصویر کیسی عجیب ہو کر رہ گئی ہے ۔ میں نے سوچا کہ کاش یہاں
مجھ سے یہ سوال کیا جاتا کہ خدا کے بارے میں اسلام کا تصور کیا ہے۔ آخرت کی اتنی زیادہ اہمیت اسلام میں کیوں ہے ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم کیوں ہوگئی ۔ انسان کی نجات صرف اسلام کو اختیار کرنے میں کیوں ہے ۔
اس قسم کے سوالات کیوں نہیں کیے گئے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کے موقع پر ہمیشہ دوسروں کی طرف سے وہی سوالات پیش آتے ہیں جو عملاً ماحول کے اندر چھڑے ہوئے ہوں۔ مسلمان چونکہ یہ نہیں کرتے کہ وہ توحید اور آخرت جیسے سوالات کو عوامی سطح پر ابھاریں۔ اس حیثیت سے لوگوں کے سامنے آتے ہیں کہ وہ ایسا گروہ ہیں جن سے کچھ چھینا گیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اس حیثیت سے متعارف نہیں کرتے کہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو دوسروں کو ان سے لینا چاہیے ۔ وہ اس ملک میں صرف مانگنے والے گروہ بنے ہوئے ہیں۔ وہ دینے والے گروہ نہ بن سکے ۔ ایسی حالت میں دوسرے بھی ان سے وہی سوال کرتے ہیں جو ایک کھوئے ہوئے گروہ سے کیا جاتا ہے۔ وہ ان سے وہ سوال نہیں کرتے جو ایسے گروہ سے کیا جاتا ہے جو کوئی چیز پائے ہوئے ہو۔
پریس کانفرنس میں ایک مسلم صحافی نے کہا کہ آپ ملت کی تعمیر کا جو طریقہ بتاتے ہیں وہ تو بہت دیر طلب ہے ۔ اتنے دیر طلب طریقہ کو کیسے اختیار کیا جا سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگوں کی مشکل یہ ہے کہ آپ لوگ ہمیشہ الٹا اہرام (Inverted pyramid) بناتے ہیں ۔ آپ واقعہ کو سنسنی خیز بنانے کے لیے یہ کرتے ہیں کہ جب کوئی خبر مرتب کرتے ہیں تو اس کو الٹ دیتے ہیں ۔ یعنی جو آخری بات ہے اس کو سب سے پہلے بیان کرتے ہیں ۔ مگر الٹا اہرام صرف کاغذ کے صفحہ پر بنتا ہے ۔ زمین پر کوئی حقیقی اھرام جب بھی بنے گا اسی طرح بنے گا کہ بنیاد سے کام شروع کر کے اس کو اس کی آخری چوٹی تک پہنچانے کی کوشش کی جائے ۔
ہفتہ وار بلٹر (یکم جون ۱۹۸۵) نے بمبئی کی پریس کانفرنس پر جو نوٹ شائع کیا تھا وہ یہاں نقل کیا جاتا ہے :
"مولانا وحید الدین خاں کو بھلا کون نہیں جانتا۔ ”الرسالہ“ جیسے دینی اور علمی پرچہ
سے انھوں نے سارے ہندوستان میں دھوم مچا رکھی ہے۔ مولانا نے خاص طور سے عصرِ جدید، سائنس اور اسلام کے تعلق سے معرکہ الآرا کتابیں لکھی ہیں۔ یہ بات بالکل پکی ہے کہ اس موضوع پر اس سے بہتر کتابیں آج تک نہیں لکھی گئیں۔ اسی لیے مولانا کی کتابیں اسلامی ممالک کے کئی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کرلی گئی ہیں۔ نیز ان کا ترجمہ دنیا کی کئی زبانوں میں کیا جا چکا ہے۔ مولانا وحید الدین کی اپنی ایک سوچ ہے اور اپنا ایک اندازِ فکر۔ ٹکراؤ کی پالیسی پر عمل نہیں کرتے۔ لیکن مصلحت پرستی کا شکار بھی نہیں۔ وہ اپنے پڑھنے والوں کی ہمت بڑھاتے ہیں حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے، زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کا سامنا کرنے کے لیے۔
گذشتہ دنوں مولانا وحید الدین نے بمبئی میں ایک پریس کانفرنس کو خطاب کیا، مولانا نے اپنے انوکھے مگر کار آمد مقصد کے حصول کے لیے ۱۹۷۰ء میں سی۔ ۲۹ نظام الدین، نئی دہلی ۱۱۰۰۱۳ میں اسلامک سنٹر کی بنیاد ڈالی تھی۔ اب مولانا کے محترم نے اپنے مقبول ترین جریدے ’’الرسالہ‘‘ کو انگریزی کا روپ بھی دے دیا ہے تاکہ ان کا مشن تیز سے تیز تر ہو سکے ۔ بمبئی کے دورانِ قیام لوگ برابر ملتے رہے اور طرح طرح کے سوالات کرتے رہے۔ لوگوں نے کلکتہ ہائی کورٹ میں قرآن کے خلاف رٹ پٹیشن کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ اس پٹیشن کو ہر حال میں خارج ہونا تھا۔ چنانچہ وہ ۱۳ مئی ۱۹۸۵ء کو خارج کر دی گئی۔ کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی سوچ کامل طور پر منفی ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی واقعہ کے صرف منفی پہلو کو دیکھ پاتے ہیں۔ اس کی قیمت انھیں اس شکل میں مل رہی ہے کہ وہ بہت سے فائدوں سے مستقل طور پر محروم ہو کر رہ گئے ہیں۔
اس طرح کا واقعہ ہمیشہ لوگوں میں ایک تجسس ابھارتا ہے اور ایک نئی صورت حال پیدا کرتا ہے ۔ اس صورت حال کو استعمال کر کے زبردست فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ رٹ پٹیشن کا واقعہ ایک سنسنی خیز واقعہ تھا۔ اس سے لوگوں میں یہ سوال ابھرا کہ قرآن کی تعلیمات اس موقع پر اگر اچھے انداز میں اسلام کی تعلیمات پیش کی جاتیں تو لوگ بہت توجہ سے سنتے اور پڑھتے مگر ہمارے اسلامی لیڈر یہ کام نہ کر سکے۔ وہ اپنی منفی ذہنیت کی بنا پر صرف
احتجاج اور شکایت کرنے میں مشغول رہے۔ صرف ایک صاحب کا مضمون سامنے آیا۔ یہ ٹائمس آف انڈیا کی بمبئی اور نئی دہلی دونوں جگہ کی اشاعتوں میں تین قسطوں (۱۴-۱۵-۱۶ مئی ۱۹۸۵) میں چھپا۔ اس کا عنوان تھا قرآن اور اس کا پیغام (The Quran And Its Message) مگر اس کے لکھنے والے کوئی عالم نہ تھے اس لیے وہ موضوع کی صحیح ترجمانی نہ کر سکے۔ ان کے مضمون میں قرآن کی تعلیمات کو اس انداز میں پیش کیا گیا تھا گویا کہ قرآن وحدت ادیان کا حامی ہے۔ یہ ایک بہترین موقع تھا کہ انگریزی، ہندی، بنگالی، تامل، تلگو، ملیالم، ہر زبان کے عوامی اخباروں میں اعلیٰ درجہ کے تعارفی مضامین شائع کیے جاتے۔ مگر تمام مسلمان احتجاج میں مبتلا رہے اور یہ ضروری کام انجام نہ پاسکا۔
۱۹ مئی ۱۹۸۵ کی سہ پہر کو نہر و پلانیٹریم دیکھا۔ نہرو پلانیٹریم جب بنا تھا تو اس کے بارہ میں الرساله (فروری ۷۸، ۱۹) میں ایک مضمون شائع کیا گیا تھا۔ اب اس کو دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا۔ بمبئی کے ایک صاحب جو ہمارے قافلہ کے ساتھ تھے، انھوں نے کہا کہ آج میں پہلی بار اس کو دیکھ رہا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ بمبئی کے پڑھے لکھے مسلمانوں میں شاید ۵ فی صد بھی نہ ہوں گے جنہوں نے اس پلانٹیرئیم کو دیکھا ہو۔ مسلمان یا تو حاجی علی کی درگاہ جاتے ہیں یا چوپاٹی جیسے تفریحی مقامات پر۔
پلانٹیرئیم میں وسیع کائنات کا مشاہدہ کرایا جاتا ہے۔ شمسی نظام اور ستاروں اور کہکشاؤں کی گردش کے مناظر دکھائے جاتے ہیں، یہ ایک عجیب حیران کن تجربہ ہوتا ہے۔ میں نے اس کو دیکھا تو وسیع کائنات میں بے شمار انتہائی بڑے بڑے اجسام کی گردش کے منظر نے دل کی عجیب کیفیت کر دی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا گویا کہ میں خدا کی ایک نئی صفت کو دریافت کر رہا ہوں یہ صفت میری اپنی زبان میں خود اعتمادی (Self-confidence) تھی۔ میں نے سوچا کہ اتنے وسیع خلاء میں اتنے بے شمار اجسام کو پیدا کر کے ان کو متحرک کرنا ایک بہت بڑا خطرہ مول لینا کیوں کہ ہر آن یہ اندیشہ ہے کہ یہ اجسام آپس میں ٹکرا کر تباہ ہو جائیں۔ ایسے حال میں کائنات کو پیدا کرنے کے لیے بے پناہ خود اعتمادی درکار تھی۔ کیسا عجیب طاقتوں والا ہے وہ خدا جس نے اس عظیم کائنات کو پیدا کیا اور ان کو خلائی وسعتوں میں اس طرح متحرک کر دیا کہ ارب ہا ارب
سال گزر جانے کے باوجود کہیں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔
بمبئی سے واپسی کے بعد وہاں سے جو خطوط ملے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سفر خدا کے فضل سے کامیاب تھا۔ ایک صاحب بمبئی سے لکھتے ہیں :
" آپ کے بمبئی آنے سے جو بہار آئی تھی اس کا اثر آج بھی تمام ساتھی محسوس کر رہے ہیں اور پھر منتظر ہیں کہ موسم بہار جلد لوٹے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و تندرستی عطا فرمائے اور آپ کا سایہ تا دیر ہم پر قائم رکھے تاکہ ایمانی حرارت پیدا کرنے کا کاز زیادہ سے زیادہ وسیع ہو سکے ( ۱۹ جولائی ۱۹۸۵ )
وہاں کے لوگوں میں خدا کے فضل سے کام کی نئی لگن پیدا ہوئی ۔ الرسالہ کی کئی بڑی ایجنسیاں قائم ہوئیں ۔ روزنامہ انقلاب ( ۱۰ اگست ۱۹۸۵) کے ایک اعلان سے معلوم ہوا کہ " الرسالہ فرینڈس سرکل بمبئی " کی بنیاد ڈالی گئی ہے ۔ جس نے بڑے پیمانہ پر کام کو پھیلانے کا نقشہ بنایا ہے ۔ اس کا پہلا اجتماع ۱۰ اگست ۱۹۸۵ کو ڈونگری (بمبئی میں ہوا ۔ صدر اسلامی مرکز کی آواز میں ماہانہ " الرسالہ کیسٹ " خدا کے فضل سے پابندی سے تیار ہو رہا ہے اور ہر ماہ خریداروں کے نام روانہ کیا جارہا ہے ۔ موجودہ منصوبہ کے مطابق دسمبر ۱۹۸۵ تک کے کیسٹ کی تفصیل حسب ذیل ہے :
کیسٹ نمبر ا عنقریب انشاء اللہ ان تمام کیسٹوں کی تقریریں کتاب کی صورت میں بھی شائع کردی جائیں گی۔