Al-Risala · November 1985

کامیاب انسان

Al-Risala, November 1985, p. 2

By Maulana Wahiduddin Khan

لی آئی کوکا (Lee Iacocca) کی پیدائش ۱۹۲۴ میں ہوئی ۔ ان کے والدین بہت غریب تھے اور وہ تلاش معاش میں اٹلی چھوڑ کر امریکہ چلے گئے ۔ آئی کوکا نے محنت سے تعلیم حاصل کی اور انجینئرنگ میں ماسٹر کی ڈگری لی ۔ تعلیم کے بعد مسٹر آئی کوکا کو فورڈ موٹر کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ وہ ترقی کرتے یہاں تک کہ وہ فورڈ کمپنی کے پریزیڈنٹ ہو گئے ۔ اس کے بعد ہنری فورڈ دوم سے ان کا اختلاف ہو گیا ۔ ۱۹۷۸ میں انھیں فورڈ کمپنی چھوڑ دینا پڑا ۔

آئی کوکا کو ایک اور کمپنی کی صدارت مل گئی جس کا نام کرائسلر کارپوریشن (Chrysler Corporation) ہے ۔ یہ کمپنی اس وقت بالکل دیوالیہ ہو گئی تھی ۔ آئی کوکا نے تین سال کی غیر معمولی محنت سے اس کو کامیابی کے ساتھ چلا دیا۔ حتیٰ کہ اب وہ فخر کے ساتھ کہتے ہیں ؛ I am the company آئی کوکا نے اپنی سوانح عمری لکھی ہے جس کا نام ہے (Iacocca: An Autobiography) اس خود نوشت سوانح عمری میں بہت سے قیمتی تجربات ہیں انھوں نے اپنے ایک تجربہ کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے :

The key to success is not information. It's people. And the kind of people I look for to fill top management spots are the eager beavers. These are the guys who try to do more than they're کامیابی کی کنجی معلومات اور ڈگریاں نہیں ہیں ۔ یہ دراصل افراد ہیں ۔ اور میں اپنی کمپنی کے بڑے عہدوں کے لیے جس قسم کے افراد کی تلاش میں رہتا ہوں وہ عمل کے شائق لوگ ہیں ۔ یہ وہ آدمی ہیں جو اس سے زیادہ کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں جتنی ان سے کرنے کی امید کی گئی ہو۔ (ٹائمز آف انڈیا ۲۲ ستمبر ۱۹۸۵)

امید سے زیادہ کام کرنا سنجیدہ اور باعمل آدمی کی قطعی پہچان ہے۔ جو لوگ امید سے زیادہ کام کرنے کی کوشش کریں وہی وہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی میں امید سے زیادہ کامیاب ہوتے ہیں ۔

Printed page