Al-Risala · November 1985

بڑا کام

Al-Risala, November 1985, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

ولیم بلیک (William Blake) نے کہا ہے کہ عظیم کام اس وقت ہوتے ہیں جب کہ انسان اور پہاڑ ملتے ہیں؛ کوئی عظیم کام سڑک پر دھکا کرنے سے نہیں ہوتا۔ Great things are done when men and mountains meet. This is not done by jostling in the street. ولیم بلیک کی یہ بات صد فی صد درست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بڑے کام کے لیے بڑا عمل درکار ہوتا ہے۔ پہاڑوں کی کٹھن چڑھائی کے بعد آدمی چوٹی پر پہنچتا ہے۔ شور و غل کرنے یا جلسوں میں الفاظ کے دریا بہانے سے کوئی بڑا مقصد کبھی حاصل نہیں ہوتا۔ حقیقی معنوں میں کوئی بڑا انجام پانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ حالات کو انتہائی گہرائی کے ساتھ سمجھا جائے۔ اپنے وسائل اور خارجی امکانات کی پوری رعایت کرتے ہوئے منصوبہ بندی کی جائے۔ سفر شروع کیا جائے تو اس حقیقت کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے کیا جائے کہ راستہ میں دوسرے بہت سے مسافر بھی موجود ہیں۔

پھر یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی ہر وہ قربانی دے جو اس کا مقصد اس سے تقاضا کہیں وہ مال کی قربانی دے اور کہیں وقت کی۔ کہیں وہ رائے کی قربانی دے اور کہیں جذبات کی۔ کہیں وہ دوسروں سے نمٹے اور کہیں وہ خود اپنا احتساب کرے ۔ کہیں وہ چلے اور کہیں شدید ہیجان کے باوجود رک جائے۔

پہاڑ کی چڑھائی جیسی محنت کیے بغیر کوئی بڑا کام انجام نہیں پاتا۔ ہر بڑا کام بڑی جدوجہد ایسا کام جو آدمی کے مرنے کے بعد بھی اپنے مثبت اثرات باقی رکھے۔ ایسا کام جو مستقبل کی نقشہ گری کرنے والا ہو، ایسا کام جو تاریخ کے رخ کو موڑ دے، بے پناہ محنت چاہتا ہے۔ کام کے لیے اَتھاہ دانش مندی درکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کا کام وہی لوگ کر پاتے ہیں جو فی الواقع پہاڑ کی چڑھائی جیسے عمل کا ثبوت دیں۔ اس کے برعکس جو لوگ سڑکوں پر شور و غل کرنے کو کام سمجھیں وہ صرف اجتماعی کثافت میں اضافہ کرتے ہیں ۔ وہ تاریخ کو کوئی حقیقی تحفہ دینے کی توفیق نہیں پاتے۔

Printed page