اقتصادی حملہ
Al-Risala, November 1985, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوائی (Hawaii) بحر الکاہل کا جزیرہ ہے۔ اس کے ایک ساحلی مقام کا نام پرل ہاربر ہے۔ پرل ہاربر کو امریکہ نے ایک فوجی بندرگاہ کے طور پر ترقی دی۔ یہ بحر الکاہل میں امریکہ کا سب سے زیادہ مضبوط بحری اڈہ بن گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ۲۷ دسمبر ۱۹۴۱ کو جاپان نے پرل ہاربر پر بمبار ہوائی جہازوں سے حملہ کیا۔ اس وقت امریکہ کے تقریباً ایک سو جنگی جہاز یہاں موجود تھے۔ بمباری نے ان میں سے اکثر کو تباہ کر دیا۔
اس کا بدلہ امریکہ نے اس طرح لیا کہ ۶ اگست ۱۹۴۵ کو اس نے دو ایٹم بم جاپان پر گرائے۔ کے نتیجہ میں جاپان کے دو اہم ترین صنعتی شہر بالکل تباہ ہو گئے۔ تاہم یہ دونوں شہر (ہیرو شیما اور ناگاساکی) اب دوبارہ زیادہ شاندار طور پر تعمیر کر لیے گیے ہیں۔ ۱۹۴۵ میں وہ جاپان کی بربادی کی ۱۹۸۵ میں وہ جاپان کی غیر معمولی ترقی کی علامت ہیں۔
دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ جاپان کی مکمل شکست پر ہوا تھا۔ مزید یہ کہ امریکہ نے اس کے اوپر اپنی فوجی اور سیاسی بالادستی قائم کر لی۔ مگر جاپان نے حیرت انگیز طور پر اس کا ثبوت دیا کہ وہ اپنے آپ کو حالات کے مطابق بدل لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے وہ ہتھیاروں پر یقین رکھتا تھا مگر جنگ کے بعد اس نے خود اپنی مرضی سے ہتھیار الگ رکھ دیئے اور خالص پرامن انداز میں اپنی نئی تعمیر شروع کر دی۔ جاپان نے لڑائی کے میدان کو چھوڑ دیا جو اس کے لیے بند ہو گیا اس نے تعمیر کے میدان کو اختیار کر لیا جو اب بھی اس کے لیے کھلا ہوا تھا۔ دوسری تدبیر پہلی تدبیر سے زیادہ کامیاب ہوئی۔ جاپان صنعت و تجارت میں اس حد تک آگے بڑھ گیا کہ آج وہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی اقتصادی طاقت سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ کے مقابلہ میں اس کا ٹریڈ سرپلس ۳۷ بلین ڈالر کے بقدر زیادہ ہے۔ جنگ کے فاتح امریکہ کو مفتوح جاپان نے اقتصادیات کے میدان میں شکست دے دی۔
اس صورت حال سے امریکہ کے لوگ بے حد پریشان ہیں۔ وہ جاپان کے موجودہ حملہ کو
اقتصادی پرل ہاربر (Economic Pearl Harbour) کا نام دیتے ہیں۔ امریکہ میں ایک کتاب چھپی ہے جو اس وقت امریکہ اور جاپان میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب بن گئی ہے۔ کتاب کا نام ہے: جاپان نمبر ایک (Japan – Number One)
اس کتاب میں دکھایا گیا ہے کہ جاپان اور امریکہ کے درمیان تجارت میں جاپان بہت زیادہ آگے بڑھ گیا ہے۔ اور عنقریب وہ برطانیہ سے بھی آگے بڑھ جانے والا ہے۔ بیرونی اثاثہ کے اعتبار سے جاپان آج دنیا کی سب سے زیادہ دولت مند قوم ہے۔ اس کا بیرونی اثاثہ ۱۹۸۴ کے آخر میں ۴۰۷ بلین ڈالر تھا۔ (ٹائمز آف انڈیا ۱۳۔ ۴ جون ۱۹۸۵)
جاپان نے اپنی فوجی شکست کو اقتصادی فتح میں کس طرح تبدیل کیا۔ جواب یہ ہے کہ اس کا راز یہ تھا کہ جاپان نے از سر نو وہاں سے اپنا سفر شروع کیا جہاں حالات نے اس کو پہنچا دیا تھا۔ اس نے اشتعال کے بجائے صبر کا طریقہ اختیار کیا۔ اس نے ٹکراؤ کے میدان سے ہٹ کر پر امن میدان میں اپنی قوتوں کو استعمال کیا۔ جو امکان برباد ہو گیا تھا، وہ اس کا فریادی نہیں بنا۔ بلکہ جو امکان باقی رہ گیا تھا اس نے اپنی ساری توجہ اس پر لگادی۔
خلاصہ یہ کہ جاپان نے دوسروں کو الزام دینے کے بجائے اپنے آپ کو الزام دیا اور اس کے بعد فوراً اس کی نئی تاریخ بننا شروع ہو گئی جو اس وقت تک نہ رکی جب تک وہ تکمیل کی حد کو نہ پہنچ گئی۔
آپ اس دنیا میں اکیلے نہیں ہیں بلکہ یہاں دوسرے بہت سے لوگ بھی ہیں۔ اور وہ سب بڑھنے اور غالب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس صورت حال کے مقابلہ میں آپ کا طریقہ دو قسم کا ہو سکتا ہے۔ ایک یہ کہ جہاں کوئی دوسرا آپ کو اپنی راہ میں حائل نظر آئے وہاں آپ اس سے لڑنا شروع کر دیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ٹکراؤ سے بچ کر اپنی مثبت تعمیر کرنے کی کوشش کریں۔ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں صرف دوسرا طریقہ کامیاب طریقہ ہے۔ برعکس پہلا طریقہ صرف بربادی کا طریقہ ہے۔ سمندری جہاز کو اگر چلتے ہوئے راستہ میں چٹان مل جائے تو وہ اس سے کتر آ کر نکل جاتا ہے۔ اور جو جہاز اس سے لڑکر جانا چاہے وہ ٹوٹ کر ختم ہو جاتا ہے۔ جہاز کے لیے منزل پر پہنچنا مقدر نہیں۔