تاریخ سے
Al-Risala, November 1985, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
راجر دوم - ۱۰۹۵) سسلی کا بادشاہ تھا ۔ وہ نارمن سلطنت کا بانی تھا۔ قرون وسطی کے مغربی بادشاہوں میں اس کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے ۔ اس کا دارالسلطنت پالرمو (Palermo) تھا ۔ راجر دوم نے سسلی کو ایک خوش حال ملک بنا دیا ۔ ایک مضبوط انتظامیہ طاقت ور بحری بیڑہ تیار کیا۔ راجر دوم کو یہ کامیابی، ایک مغربی مورخ کے الفاظ میں، اس لیے ملی کہ اس نے سسلی کو یورپی اور عربی علماء کا مرکز بنا دیا تھا : Roger made Sicily a meeting place of European and Arabic scholars. (VIII/634) الادریسی اسی راجر دوم کا ہم عصر تھا۔ وہ مراکش میں پیدا ہوا۔ اس نے اسپین کی یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم حاصل کی اور ایشیا اور افریقہ اور یورپ کے سفر کیے۔ وہ علم جغرافیہ میں اپنے وقت کا سب سے بڑا ماہر رہتا ۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ راجر دوم نے الادریسی کو سسلی بلایا تاکہ اس کے لیے وہ دنیا کا ایک نقشہ بنائے۔ الادریسی راجر دوم کا ایک قریبی دوست اور مشیر تھا۔ سسلی کے اس نارمن بادشاہ کے دربار میں الادریسی سرکاری جغرافیہ داں کے طور پر رہا :
Al-Idrisi was a close friend and adviser to Roger II, at whose court he served as official geographer. Roger II invited Al-Idrisi to Sicily to make a map of the world for him. (9/198)
گزرے ہوئے زمانہ میں مسلمانوں کو جو اونچا مقام ملا اور انھوں نے ساری دنیا میں اسلام کا جو غلبہ قائم کیا ، اس کا راز یہی تھا ۔ یہ عظمت انھیں نہ احتجاج اور مطالبہ سے ملی اور نہ تیر اور تلوار سے یہ عظمت انھیں صرف اس لیے ملی کہ وہ دنیا کے لیے مفید بنے ۔ انھوں نے علوم وفنون میں اتنی ترقی کی کہ وہ دنیا کے فکری امام بن گئے۔ انھوں نے صدیوں تک انسانیت کی علمی رہنمائی کی ۔ نے دنیا کو وہ دیا جو دنیا کے پاس موجود نہ تھا۔ یہی امامت کا رتبہ ہے ماضی کے لیے بھی اور حال اور مستقبل کے لیے بھی ۔