Al-Risala · November 1985

طلاق کا حکم

Al-Risala, November 1985, p. 2

By Maulana Wahiduddin Khan

نکاح کا مسئلہ زندگی کا اصل مسئلہ ہے جب کہ طلاق کا مسئلہ صرف ایک استثناء ہے ۔ چوں کہ ایسا استثناء بار بار پیش آتا ہے اس لیے الہی قانون اور وضعی قانون دونوں میں اس کی بابت احکام مقرر کیے گئے ہیں ۔

الہی شریعت کی صحیح اور کامل نمائندگی اب صرف وہ ہے جو قرآن کی صورت میں پائی جاتی ہے ۔ کیوں کہ قرآن ایک محفوظ کتاب ہے ۔ قرآن میں ، اور اسی طرح اس کی مستند شرح کے طور پر سنت میں ، طلاق کی بابت بہت سے احکام دیئے گئے ہیں۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ طلاق انتہائی ناگزیر حالات میں دی جائے ۔ چنانچہ حدیث میں اس کو ابغض المباحات (سب سے زیادہ نا پسندیدہ حلال) کہا گیا ہے ۔ اور دوسری چیز یہ کہ جب طلاق کا معاملہ کیا جائے تو اس طرح کیا جائے کہ دونوں عزت اور شرافت کے ساتھ علیحدہ ہوجائیں ۔ ایسا نہ ہو کہ ایک یا دوسرے کے اندر ضد کی نفسیات پیدا ہو جائے اور وہ فریق ثانی کو بے عزت یا بے سہارا کرنے کی کوشش کرنے لگیں ۔ قرآن میں طلاق کے حکم کے ذیل میں ارشاد ہوا ہے : وسرحوهن سراحاً جميلاً (الاحزاب ۴۹) یعنی جب انہیں طلاق دے کر رخصت کرو تو نو بھلے طریقہ سے اور شریفانہ انداز سے رخصت کرو ۔

Printed page