Al-Risala · November 1985

متاع کا مطلب

Al-Risala, November 1985, pp. 2–6

By Maulana Wahiduddin Khan

طلاق کے احکام میں سے ایک حکم وہ ہے جس کے لیے قرآن میں ” متاع “ کا لفظ آیا ہے ۔ اس سلسلہ میں سورہ البقرہ کی دو آیتیں حسب ذیل ہیں :

لا جناح علیکم ان طلقتم النساء تم پر کچھ گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو اس وقت مالم تمسوھن او تفرضوالھن فریضة طلاق دو کہ ان کو تم نے ہاتھ نہ لگایا ہو اور ان کے ومتعوهن علی الموسع قدره ۵ لیے کچھ مہر مقرر نہ کیا ہو ۔ اور ان کو کچھ دو ، وسعت وعلى المقتر قدره ۵ متاعاً بالمعروف والے پر اس کے موافق ہے اور تنگی والے پر اس حقا علی المحسنين (۲۳۶) کے موافق ہے ، دستور کے مطابق ۔ لازم ہے نیکی وللمطلقات متاع بالمعروف کرنے والوں پر ۔ اور طلاق دی ہوئی حقا علی المتقين (۲۴۱) عورتوں کو فائدہ دینا ہے دستور کے موافق ۔ ہے پرہیزگاروں کے لیے ۔

فقہی تفصیلات سے قطع نظر، پہلی آیت (۲۳۶) کا سادہ مطلب یہ ہے کہ نکاح کے وقت اگر مہر نہیں ٹھہرایا گیا تھا اور نہ مرد نے عورت کو ہاتھ لگایا تھا ، اور اس سے پہلے مرد نے طلاق دیدیا تو مرد پر لازم ہے کہ عورت کو رخصت کرتے ہوئے اسے کچھ دے ۔ یہ دینا اپنی حیثیت کے مطابق ہوگا۔ ایسی صورت میں مہر دینا لازم نہیں۔

دوسری آیت (۲۴۱) میں یہی حکم عمومی انداز میں طلاق کے تمام واقعات کے لیے ہے ۔ جب بھی کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے تو آخری علیحدگی کے وقت اس کو چاہیے کہ حسن جدائی کی علامت کے طور پر عورت کو کچھ دے ۔ مثلاً کپڑا یا اور کوئی چیز ۔ بعض فقہاءءء کے نزدیک پہلی صورت میں "متاع" دینا ضروری ہے ۔ جب کہ دوسری صورت میں متاع دینا صرف مستحب ہے۔ اس آیت کے سلسلہ میں فقہا کے درمیان ضمنی اختلافات ہیں ۔ تاہم یہ بات تمام فقہا کے درمیان متفق علیہ ہے کہ اس کا تعلق اس مسئلہ سے ہے کہ طلاق واقع ہونے کے بعد وقتی طور سابق بیوی سے کیا سلوک کیا جائے ۔ اس مسئلے سے اس آیت کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ طلاق اور علیحدگی کی تکمیل کے باوجود مطلقہ عورت کو مرد کی طرف سے مستقل گزارہ (Maintenance) دیا جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دوسرا تصور تمام تر جدید تہذیب کی پیدا وار ہے۔ یہ تصور کبھی بھی الہی شریعت میں نہیں پایا گیا ہے۔ نہ اسلام میں اور نہ اسلام سے پہلے کی آسمانی شریعتوں میں۔

کے درمیان آیت کے عملی انطباق کے سلسلہ میں بہت کچھ جزئی اختلافات ہیں ۔ مگر فقہاء میں سے کسی کی بھی یہ رائے نہی ۔ اس آیت کے تحت مرد کے اوپر لازم ہے کہ وہ باقاعدہ طلاق واقع ہونے کے بعد بھی مستقل طور پر اپنی سابقہ بیوی کو گزارہ دیتا رہے ۔ ایک شخص بطور خود اس قسم کا خیال ظاہر مگر قرآن یا حدیث کے اندر اس کے حق میں کوئی دلیل یا ماخذ موجود نہیں ۔ اور نہ اسلامی فقہاء میں سے کسی بھی فقیہہ کی یہ رائے ہے ۔

اسلامی فقہ میں اسی لیے اس مُتعہ کو مُتعہ طلاق کہتے ہیں نہ کہ مُتعہ حیات ، یعنی وہ مُتعہ - (کچھ مال) جو طلاق دے کر رخصت کرتے وقت عورت کو دیا جائے ۔

قرآن ہر مسئلہ کو فطری انداز میں حل کرنا چاہتا ہے ۔ اس لحاظ سے یہ بات سراسر قرآنی روح کے خلاف ہے کہ جس مرد سے نباہ نہ ہونے کی بنا پر عورت کی جدائی ہوئی ہے اسی مرد سے اس عورت کا نفقہ دلوایا جائے ۔ یہ چیز سماج میں منفی ذہنیت پیدا کرنے کا ذریعہ بنے گی ۔ چنانچہ قرآن میں نکاح و طلاق کے احکام کے ذیل میں ارشاد ہوا ہے :

وان يتفرقا يُغنِ الله كُلاً من اور اگر دونوں جدا ہو جائیں تو اللہ ہر ایک کو سعتہ وكان الله واسعا حكيمًا اپنی وسعت سے بے نیاز کر دے گا اور اللہ وسعت والا حکمت والا ہے ۔

اللہ کی وسعت سے مراد وہ وسیع فطری نظام ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنے بندوں کے لیے مہیا کر رکھا ہے ۔ عورت کو جب طلاق ہو جائے تو اس کے تمام خونی رشتوں میں فطری طور پر اس سے ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ کسی دباؤ کے بغیر اس کی مدد اور سرپرستی کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں ۔ خود عورت کے اندر نئی قوت ارادی ابھرتی ہے اور وہ اپنے مسئلہ کے حل کے لیے اکثر ایسے کام کر ڈالتی ہے جو اس نے اس سے پہلے سوچا بھی نہیں تھا ۔ سابقہ تجربات اس کو زیادہ سمجھ دار اور محتاط بنا دیتے ہیں اور اس طرح وہ اس قابل ہو جاتی ہے کہ اگر وہ دوبارہ کسی سے رشتہ نکاح میں منسلک ہو تو زیادہ کامیابی کے ساتھ رشتہ کو نباہ سکے ۔ طلاق کے بعد اس سلسلہ میں دوسرا سوال یہ ہے کہ طلاق کے بعد ایک عورت کے لیے اپنے ضروری

اخراجات پورا کرنے کی صورت کیا ہے۔ اس کا ایک جواب اسلام کا قانون وراثت ہے۔ خاندانی جائیداد میں عورتوں کا جو حصہ مقرر کیا ہے اگر اس پر با قاعدہ عمل درآمد ہو تو عورت کے لیے بے سہارا ہونے کا کوئی سوال نہیں۔ خاندانی جائیداد میں عورت کا مستقل حصہ مقرر کرنا ایک اعتبار سے اسی لیے ہے کہ عورت ہنگامی حالات میں اپنی کفالت آپ کر سکے ۔

تاہم اسلام نے عورت کے معاشی مسئلہ کو تمام تر وراثت پر منحصر نہیں رکھا۔ وراثت کا معاملہ ہمیشہ یقینی نہیں ہوتا۔ اس کا مزید انتظام اسلام کے قانون نفقات میں موجود اس سوال کی اہمیت مسلم ہے۔ مگر اس کا تعلق قانون طلاق سے نہیں ہے بلکہ قانون نفقات سے ہے ۔ آدمی کو اس کا جواب اسلام کے قانون نفقات میں تلاش کرنا چاہیے نہ کہ اسلام کے قانون طلاق میں ۔ یہاں ہم مختصر ا چند پہلوؤں کا ذکر کریں گے :

مطلقہ عورت اگر بے اولاد ہے یا اولاد کمانے کے قابل نہیں ہے تو اسلامی شریعت کے مطابق اس کے اخراجات کی ذمہ داری اس کے والد پر ہوگی ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہی صورت دوبارہ لوٹ آئے گی جو شادی سے پہلے تھی ۔ شادی سے پہلے باپ اپنی لڑکی کا کفیل تھا ، طلاق کے بعد دوبارہ وہ اپنی لڑکی کا کفیل ہو جائے گا ؟

فالا ناتُ عليه نَفَقَتُهُنَّ الى ان يتزوجن باپ پر اس کی لڑکیوں کا نفقہ اس وقت تک ہے اذالم يكن لهنّ مال وليسر لَّه ان يوجرھن جب تک وہ شادی نہ کریں جب کہ لڑکیوں کے فى عمل ولا خدمة وإن كان لهنّ قدرة پاس مال نہ ہو۔ اور باپ کو حق نہیں کہ وہ انھیں واذا طلقت وانقضت عدتها عادت کسی عمل یا خدمت پر لگائے ، اگر چہ ان کے اندر اس کی قدرت کیوں نہ ہو۔ اور جب لڑکی کو طلاق نفقنها على الاب فتح القدير ، جلد ۳ ، صفحه ۳۴۴ ہو جائے اور اس کی عدت پوری ہو جائے تو اس کا نفقہ دوبارہ باپ پر لوٹ آئے گا۔

مطلقہ عورت اگر ماں ہے ۔ یعنی وہ ایسی اولاد رکھتی ہے جو صاحب معاش ہے تو ایسی صورت میں اس کے اخراجات کی پوری ذمہ داری اس کی اولاد پر ہوگی ۔

انّ جميع ما وجب للمراة وجب للاب وہ سب جو بیوی کے لیے واجب ہے وہ سب

والأم على الولد من طعام وشراب باپ اور ماں لیے لڑکے کے پر واجب ہوگا، وكسوة وسكنى حتى الخادم یعنی کھانا، پینا، کپڑا، مکان، یہاں تک کہ رد المحتار على الدر المختار ، جلد ۲ ، صفحه ۹۳۳ خادم بھی۔

اگر مطلقہ عورت کا باپ نہ ہو یا اس کی اولاد اس کی کفالت کرنے کے قابل نہ ہو تو دوسرے قریبی اور محرم اعزہ اس کی معاشی کفالت کے ذمہ دار ہوں گے ۔ مثلاً چچا، بھائی، وغیرہ۔ اگر یہ تیسری صورت بھی موجود نہ ہو تو اسلامی شریعت کی رو سے ریاست کا بیت المال اس کے اخراجات کو پورا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ مطلقہ عورت کو قانونی طور پر یہ حق ہوگا کہ وہ ریاست سے اس کو وصول کرے ۔

شریعت کے اسی اہتمام وانتظام کی وجہ سے اسلام کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا اور نہ آج ایسا ہے کہ مسلمان عورتیں طلاق پا کر بے سہارا اپڑی ہوئی ہوں اور کوئی ان کی کفالت اور سرپرستی کرنے والا موجود نہ ہو۔

Printed page