تہذیب جدید کا مسئلہ
Al-Risala, November 1985, pp. 6–34
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں مغربی تہذیب نے بہت سے مسئلے پیدا کیے ہیں۔ یہ مسئلے حقیقی سے زیادہ مصنوعی مغربی تہذیب نے بہت سے معاملات میں غیر فطری انداز اختیار کیا۔ اس کے نتیجہ میں غیر فطری مسائل پیدا ہوئے ۔ اس کے بعد مزید غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے غیر فطری طور پر ان کو حل کرنے کی کوشش کی، اس طرح مسائل میں اضافہ ہوتا چلا گیا ۔
انھیں میں سے ایک طلاق کا مسئلہ بھی ہے ۔ مغرب میں آزادی نسواں کے نام پر جو تحریک شروع ہوئی وہ اپنے ابتدائی جذبہ کے اعتبار سے بالکل غلط نہ تھی ۔ مگر اس کے علم بردار اس کی حد کو نہ جانتے چنانچہ آزاد سماج بنانے کی کوشش بالآخر اباحیت پسند سماج (Permissive society) تک عورتوں اور مردوں کے درمیان لامحدود اختلاط شروع ہو گیا ۔ اس نے نکاح کے بندھن کو کمزور مرد اور عورت میاں اور بیوی نہ رہے بلکہ حدیث کے الفاظ میں ذواقین اور ذواقات بن گئے ۔ اس کو مزید تقویت صنعتی دور کی اس آسانی سے حاصل ہوئی کہ عورت فورا ہی اپنے لیے آزاد معاش حاصل کر سکتی تھی ۔ جدید صنعتی معاشرہ میں ایک عورت جتنی آسانی سے اپنے لیے ذریعہ معاش حاصل کرلیتی ہے
وہ اس سے پہلے کبھی عورت کے لیے ممکن نہ تھا ۔ اس کی وجہ سے مرد کی قو امیت متاثر ہوئی اور عورتیں مرد کے زیر اثر رہنے پر راضی نہ ہو سکیں اور معاشرتی زندگی میں وہ مسائل پیدا ہوئے جنھوں نے طلاقوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھا دی ۔
طلاق کو روکنے کے لیے مغربی حکمار نے یہ تدبیر کی کہ مرد پر یہ قانونی پابندی لگادی کہ طلاق کے بعد بھی اس پر لازم ہوگا کہ وہ عورت کو گزارہ دیتا رہے ۔ یہ گزارہ مغربی معیار کے مطابق مقرر ہوا۔ حالات میں طلاق کے معنی مرد کے لیے یہ ہو گیے کہ وہ اپنے سرمایے کا بڑا حصہ اپنی مطلقہ بیوی کو دیدے اور مزید زندگی بھر کما کما کر اس کا حصہ اسے ادا کرتا رہے ۔
اس غیر فطری صورت حال کی ایک مثال لارڈ برٹرینڈ رسل ہے ۔
برٹرینڈ رسل ( ۱۹۷۰ - ۱۸۷۲) ایک نہایت ذہین اور تعلیم یافتہ انگریز تھا۔ اس کو ایک ایسی عورت در کار تھی جو اس کی ذہنی سطح کے مطابق اس کی رفیق حیات بن سکے ۔ اس نے شادی کی مگر تجربہ کے بعد اس نے محسوس کیا کہ اس کی بیوی اس کی پسند کے مطابق نہیں ہے ۔ ناموافقت ظاہر ہونے کے بعد اس نے فوراً اس سے علیحدگی اختیار نہیں کی ۔ سخت ذہنی اذیت کے باوجود اس کے بعد بھی وہ تقریباً دس سال تک اس کے ساتھ نباہ کرتا رہا ۔ آخر کار اس نے اس کو طلاق دے کر دوسری شادی کی ۔ دوسری عورت سے بھی نباہ نہ ہو سکا اور پھر اس کو چھوڑ کر برٹرینڈ رسل کو تیسری شادی کرنی پڑی ۔
یہ طلاق برٹرینڈ رسل کو بہت مہنگا پڑا ۔ طلاق کے بعد اس کو از روئے قانون اپنی بیویوں کو جو رقم ادا کرنی پڑی اس نے برٹرینڈ رسل کی معاشیات کو بر باد کر دیا ۔ چنانچہ وہ اپنی سوانح عمری میں لکھتا ہے : The financial burden was heavy and rather disturbing: I had given £ 10,000 of my Nobel Prize cheque for a little more than £ 11,000 to my third wife, and I was now paying alimony to her and to my second wife as well as paying for the education of my younger son. Added to this, there were heavy expenses in connection with my elder son`s illness; and the income taxes which for many years he had neglected to pay now fell to me to pay. Bertrand Russell, Autobiography, Unwin Paperbacks, 1978, pp. 563-64. مالیاتی بوجھ میرے اوپر بہت بھاری اور پریشان کن تھا ۔ مجھ کو اپنے نوبیل انعام کے گیارہ ہزار پاونڈمیں سے دس ہزار پاؤنڈ اپنی تیسری بیوی کو دے دینا پڑا ۔ اور اب میں اس کو اور اپنی دوسری بیوی کو نان نفقہ کی رقم بھی ادا کر رہا تھا ۔ اور اسی کے ساتھ اپنے چھوٹے بچے کی تعلیم کی ادائیگی بھی میرے ذمہ تھی ۔ مزید اضافہ یہ کہ میرے بڑے لڑکے کی بیماری کے سلسلہ میں بھی بھاری اخراجات تھے ۔ اور اس لڑکے کا کئی سال کا انکم ٹیکس
جو وہ ادا نہیں کر سکتا تھا وہ بھی مجھ کو ہی ادا کرنا پڑا۔
مغرب کا یہ قوانین بظاہر عائلی زندگی میں اصلاح کے لیے بنایا گیا تھا۔ مگر وہ مغربی ممالک کے لیے برٹرینڈ رسل کے مذکورہ تجربہ جیسے تجربات بے شمار لوگوں کو پیش آئے۔ لوگوں نے دیکھا کہ بیوی کو طلاق دینے کی صورت میں انھیں اس کی بہت بڑی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ لوگوں کو نکاح کا طریقہ بے حد مہنگا معلوم حتیٰ کہ ان کے اندر نکاح کے خلاف رجحان پیدا ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عورت اور مرد نکاح کے بغیر ایک ساتھ رہنے لگے۔ چنانچہ آج مغرب کی نئی نسل میں ۵۰ فیصد سے زیاوہ دہ لوگ ہیں جو غیر منکوحہ بیویوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔