ہندوستان کا تجربہ
Al-Risala, November 1985, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
طلاق کو مشکل بنانے کا دوسرا تجربہ وہ ہے جو ہندوستان میں پیش آیا۔ ہندوستان کے قدیم مصلحین نے نظام ہر عورت کے تحفظ کے لیے مذہبی طور پر طلاق کو ممنوع قرار دے دیا۔ مزید یہ کہ عورت کے اندر طلاق کا رجحان روکنے کے لیے انھوں نے یہ کیا کہ طلاق ملنے بعد عورت کے لیے نکاح ثانی کا راستہ تمام تر بند کر دیا۔ سلسلہ میں انھوں نے جو قانون بنائے اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک بار جب شادی ہو جائے تو اس کے بعد نہ مرد اسے طلاق دے سکتا ہے اور نہ عورت کے لیے ممکن ہے کہ وہ پہلے شوہر سے جدائی کے بعد دوسرا نکاح کر سکے۔ مگر یہ اصلاح غیر فطری تھی چنانچہ ہندو سماج کو اس کی بہت مہنگی قیمت دینی پڑی۔ عورت اور مرد اگر نکاح کے بعد ایک دوسرے کو مطمئن نہ کر سکے تو ان کی ساری زندگی بد ترین تلخی میں گزرتی تھی۔ کیوں کہ مرد کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور نہ عورت کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ اپنے پہلے شوہر سے جدا ہو کر اپنا دوسرا نکاح کر سکے۔ اس کے لیے صرف یہ ممکن تھا کہ ساری عمر ایک غیر مطلوب مرد کے ساتھ پُراذیت زندگی گزارتی رہے اور اگر اس کا شوہر درمیان میں مر جائے تو اپنے آپ کو جلا کر ستی ہو جائے موجودہ زمانہ میں اس مسئلہ نے نئی شکل اختیار کی ہے۔ قانونی طور پر اگرچہ علیحدگی یا نکاح ثانی کو جائز کر دیا گیا ہے مگر ہندو سماج عملاً آج بھی انھیں روایات پر چل رہا ہے جو ہزاروں برس سے اس کے درمیان چنانچہ ہندو عورتوں کے بارہ میں کثرت سے اطلاعات مل رہی ہیں کہ وہ شوہروں سے ناموافقت کی بنا پر خود کشی کر لیتی ہیں۔ اس کا سبب مذکورہ بالا مسئلہ ہے۔ یہ عورتیں جانتی ہیں کہ اولاً تو شوہروں سے علیحدگی مشکل ہے اور اگر کسی طرح علیحدگی ہو جائے تو دوسرا نکاح اس سے بھی زیادہ مشکل۔