ڈیسنٹ کو مقدس مقام دینا
Al-Risala, November 1985, pp. 39–47
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ اختلاف (Dissent) زندگی کی اہم ترین قدر ہے۔ اسلام کی تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں ہیں ۔ مثال کے طور پر جنگ بدر کے لیے " اختلاف " ہی کی وجہ سے زیادہ بہتر میدان کا انتخاب کیا جا سکا۔ ہم کو چاہیے کہ تنقید کو ختم کرنے کے بجائے تنقید کے بارہ میں لوگوں کی غیر ضروری حساسیت کو ختم کرنے کی کوشش کریں ۔
حیدر آباد میں قیام کے درمیان ہر وقت لوگ آتے رہے اور ان سے مختلف دینی ومستی موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ ۱۱فروری کی صبح کو ایک صاحب تشریف لائے ۔ ان کے اندر قومی اور ملی تعمیر کا کافی جذبہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کی کتابیں وغیرہ تو نہیں پڑھی ہیں ۔ میرے پاس فاضل زمین اور فاضل مکان ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ اس کو لے کر اس کو ملی تعمیر کے کام میں استعمال کریں ۔
میں نے کہا کہ آپ کا جذبہ بہت قابل قدر ہے۔ مگر اتحاد عمل سے پہلے اتحاد خیال ضروری ہے پہلے ہم آپ ایک دوسرے کے ذہن کو سمجھیں۔ اس کے بعد انتشار اثرمل کر کام کریں گے۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں نے بار بار ایک غلطی کی ہے ۔ وہ مسائل (Issues) پر اتفاق کو اتفاق سمجھ لیتے ہیں اور ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جاتے ہیں ، مگر جلد ہی اختلاف رائے پیدا ہوتا ہے اور سب الگ الگ ہو جاتے
دی کس زاویہ نظر سے دیکھتا ہے۔
مصر میں ”فاروق ہٹاؤ“ مہم پر بہت سے لوگ متحد ہو گئے مگر شاہ فاروق کے ہٹنے کے بعد جب ”اسلام لاؤ“ کا سوال آیا تو وہ ٹکرا کر الگ ہو گئے۔ پاکستان میں ”بھٹو کا احتساب“ کے نعرہ پر تمام اسلام پسند متحد ہو گئے۔ مگر بھٹو کے خاتمہ کے بعد اسلام کے نفاذ کا سوال ہوا تو وہ متحد نہ ہندوستان میں فساد کے مسئلہ پر تمام جماعتیں آل انڈیا مجلس مشاورت کے تحت متحد ہو گئیں۔ کے بعد ان کے لیڈر ایک دوسرے سے لڑکر الگ ہو گئے۔ مسلم یونیورسٹی کے سلسلے میں مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ :- که این سررشته تعلیم مادر دست ما باشد جدوجہد کے بعد یہ مطالبہ پورا ہو گیا تو اب متحد ہو کر یونیورسٹی کو ترقی دینے کے بجائے وہ آپس میں لڑرہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اشوز پر اتفاق کافی نہیں ہے۔ اشوز کے ساتھ زاویہ نظر میں بھی اتفاق ہونا لازمی طور پر ضروری ہے ورنہ تعمیر کے بجائے تخریب پیدا ہوگی۔
الرساله کیا ذہن پیدا کر رہا ہے۔ اس کا اندازہ ان چند واقعات سے ہوگا جو اس سفر کے دوران میرے علم میں آئے۔
ایک تاجر باقاعدہ الرسالہ پڑھتے ہیں اور ہماری مطبوعات میں سے بھی اکثر پڑھ چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے یہاں انکم ٹیکس محکمہ کی ریڈ (Raid) ہوئی۔ تاجر طبقہ جانتا ہے کہ ”ریڈ“ کسی تاجر کے لیے کس قدر بھیانک واقعہ ہوتا ہے۔ تاہم تاجر نے بتایا کہ ریڈ کرنے والی ٹیم جب ان کے دفتروں میں گھس گئی تو ان کو بالکل ڈر نہیں معلوم ہوا۔ انھوں نے کہا کہ جو کچھ آپ دیکھنا چاہتے ہیں مگر ریڈ کے اس دنیوی واقعہ سے ان کا ذہن آخرت کی طرف مڑ گیا۔ انھوں نے سوچا ”اگر خدا اسی طرح ریڈ کر دے تو میں کیا کروں گا“ ایک صاحب نے اپنے مطالعہ کی روداد بتاتے ہوئے کہا کہ ”میں نے آپ کے یہاں کی مختلف پھر میں نے احیاء اسلام پڑھی۔ احیاء اسلام کو پڑھتے ہوئے جب میں اس صفحہ پر پہنچا جہاں آپ نے جنت کا ذکر کیا ہے تو۔ یہ کہتے ہوئے ان کی زبان اچانک بند ہو گئی۔ میں نے دیکھا تو ان کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ اس مجلس میں دوبارہ گفتگو
میں ہمیشہ جواب دیتا کہ ہمارا کارخانہ باقاعدہ سرکاری اجازت کے تحت قائم ہے۔ اگر آپ کو اعتراض ہے تو آپ جائیے مقدمہ قائم کیجیے۔ تاہم الرسالہ پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں تبدیلی ہوئی۔ روز میں اپنے کارخانے سے نکلا۔ میرے ایک پڑوسی اپنے گھر کے باہر صحن میں سفید شیروانی پہن کر بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے مجھ کو دیکھ کر بلایا اور کہا کہ آپ میری شیروانی کو دیکھئے۔ آج ہی میں نے یہ دُھلی ہوئی شیروانی پہنی ہے اور وہ آپ کے کارخانے کے دھوئیں سے کالی ہو رہی ہے۔ ان کی شیروانی پر کوئلہ کی راکھ دیکھی تو اچانک یہ خیال آیا۔ ”اگر میں اپنے پڑوسی کی جگہ پر ہوتا اور اس کے کارخانہ کی چمنی سے میری شیروانی کالی ہو رہی ہوتی تو میں کیا کرتا۔ میرے دل نے کہا کہ مجھے وہی شکایت ہوتی جو میرے پڑوسی کو ہو رہی ہے۔
اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے کارخانہ کو یہاں سے ہٹا دیں گے۔ چنانچہ ہم نے شہر کے باہر صنعتی علاقہ میں ایک بڑی زمین خریدی اور کارخانہ کو شہر سے اس نئے مقام پر منتقل پہلے ہمارا کارخانہ ایک ہزار گز زمین پر تھا۔ اب ہمارا کارخانہ پندرہ ہزار گز زمین پر ہے۔ نیز بہت سی سہولتیں جو شہر میں حاصل نہیں تھیں یہاں حاصل ہیں۔ ہم نے پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ ترقی کر لی ہے۔
ایک صنعت کار نے کہا کہ الرسالہ ہر آدمی کے لیے بہترین گائڈ ہے، میں نے اپنی کاروباری زندگی کے کئی مسائل الرسالہ کی تعلیمات کو استعمال کر کے حل کیے ہیں ۔
مرکز میں ایک فلسطینی نوجوان ملاقات اور انٹرویو کے لیے آئے ۔ انھوں نے مختلف اسلامی مرکز کے مشن کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہمارے نزدیک اصل کام عقیدہ کو زندہ کرنا اور عمل صالح کی روح پیدا کرنا ہے۔ سیاست اور حکومت اضافی چیزیں ہیں نہ کہ حقیقی چیزیں ۔
انھوں نے کہا کہ یہی تصور شیخ حسن البنا کا بھی تھا۔ میں نے کہا کہ پھر شیخ حسن البنا اور
ان کے ساتھی شاہ فاروق کو اس کے سیاسی تخت سے بے دخل کرنے کی مہم میں کیوں شریک ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ شاہ فاروق مصر میں اسلام کے احیاء کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ اس لیے اس کو ختم کرنا ضروری تھا۔ میں نے کہا، کیا شاہ فاروق کے تخت سے ہٹنے کے بعد مصر میں اسلام کے احیار کی راہ ہموار ہو گئی۔ انھوں نے کہا کہ ظالم اگر ظلم کرے تو کیا اس کا ہاتھ نہ پکڑا جائے ۔ میں نے کہا کہ کیا شیخ اور ان کے ساتھی ظالم کا ہاتھ پکڑنے میں کامیاب ہو گئے ۔
اکثر لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ لوگ تضاد میں جیتے ہیں۔ وہ کوئی گہرا دینی کام نہیں کر پاتے ۔ ایک طرف وہ دعوت حق کا نام لیتے ہیں، اور دوسری طرف قومی جھگڑوں اور سیاسی ہنگاموں کو اسلامی جہاد قرار دے کر اس میں بھی کو دپڑتے ہیں، حالانکہ اس دنیا میں ایک کام کو کرنے کے لیے دوسرے کام کو چھوڑنا پڑتا ہے ۔ اگر آپ دہلی سے کلکتہ جانا چاہتے ہیں تو دہلی سے امرتسر کی ٹرین آپ کو چھوڑنی پڑے گی ۔ یہ ناممکن ہے کہ آپ قومی جھگڑوں اور سیاسی ہنگاموں کو اسلامی جہاد بتا کر عوام کی لیڈری حاصل کریں۔ اور اسی کے ساتھ آپ کو دعوت الی اللہ اور شہادۃ علی الناس کے کام کی توفیق بھی حاصل ہو ۔ لوگ صرف یہ جانتے ہیں کہ انھیں " کیا کرنا ہے " وہ اس سے بے خبر ہیں کہ انھیں کیا نہیں کرنا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے اقدامات کے باوجود انھیں کوئی حقیقی کامیابی حاصل نہیں وہ کہنے والے کام کی باتیں کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ نہ کرنے والے کام میں اپنے آپ کو الجھا دیتے ہیں ۔ آج سب سے پہلا کام لوگوں کو اس بے شعوری سے نکالنا ہے ۔ اس کے بغیر آگے کا کوئی کام نہیں کیا جا سکتا ۔
اس سے قبل میں تقریباً ڈیڑھ سال پہلے حیدر آباد گیا تھا ۔ اس وقت ۱۱ فروری ۱۹۸۴ کی شام کو اسلامی مرکز کی شاخ حیدر آباد کا افتتاح ہوا تھا۔ جناب سید مکرم شاہ صاحب (چیرمین میونسپل کونسل، آندھرا پردیش) اور جناب سید ہاشم علی صاحب (موجودہ وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) مہمان خصوصی کے طور پر اسٹیج پر موجود تھے ۔ انھوں نے اپنی تقریروں میں مسلمانوں کو نہایت قیمتی مشورے دیئے۔ مرکز کا وسیع لان پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ شہر کا تعلیم یافتہ طبقہ بہت بڑی تعداد میں اس موقع پر جمع ہو گیا تھا۔ اور اس نے آخر تک نہایت توجہ کے ساتھ تقریروں
آخر میں راقم الحروف کی تقریر ہوئی۔
اس کے بعد اب جولائی ۱۹۸۵ میں حیدر آباد کا سفر ہوا۔ اندازہ ہوا کہ اس مدت میں حیدر آباد میں اسلامی مرکز کی آواز پہلے سے زیادہ پھیل گئی ہے۔ ہر اجتماع میں غیر معمولی طور پر کافی زیادہ تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ اور کثرت سے ملاقاتیں کرتے رہے۔ اکثر لوگوں نے کہا کہ اس قسم کی باتیں ہم کو پہلی بار سننے میں آ رہی ہیں۔ لوگوں کا اصرار تھا کہ مزید قیام کر کے اور زیادہ اجتماعات کیے جائیں اور حیدر آباد کے اطراف (محبوب نگر وغیرہ) میں بھی ضرور پروگرام رکھا جائے ۔ مگر میرے لیے زیادہ ٹھہرنے کا موقع نہیں تھا۔
۱۵ جولائی کی صبح کو میں واپس ہو کر دہلی کے ہوائی اڈے پر اترا۔ کا استقبال کرنے کے لیے ان کے عزیزوں اور دوستوں کے مسکراتے ہوئے چہرے موجود تھے۔ دل نے کہا : ہر مسافر کے لیے وہ لمحہ بہت قریب آگیا ہے جب کہ اس کا ایک اور سفر ہو۔ آخرت کی طرف سفر۔ وہاں کسی کا استقبال کرنے کے لیے خدا کے فرشتے کھڑے ہوں گے۔ ہو گا جس کا وہاں کوئی استقبال کرنے والا نہ ہوگا۔ آہ کیسا عجیب ہو گا سفر کا یہ خاتمہ ، کیسا عجیب ہو گا مسافروں کا یہ انجام ۔
صدر اسلامی مرکز کی آواز میں ماہانہ "الرسالہ " خدا کے فضل سے پابندی سے تیار ہو رہی ہے اور ہر ماہ خریداروں کے نام روانہ کیا جا رہا ہے ۔ موجودہ منصوبہ کے مطابق دسمبر ۱۹۸۵ تک کے کیسٹ کی تفصیل حسب ذیل ہے :
کیسٹ نمبر ا عنقریب انشاء اللہ ان تمام کیسٹوں کی تقریریں کتاب کی صورت میں بھی شائع کر دی جائیں گی۔
۲۵ اگست ۱۹۸۵ء کو مہینہ کا آخری اتوار تھا۔ حسب معمول مرکز میں ماہانہ درسِ قرآن کا اجتماع ہوا۔ صدر اسلامی مرکز نے "قربانی" سے متعلق آیات کی روشنی میں ایک گھنٹہ کا درس دیا۔ اس اجتماع کی اطلاع اسی دن کے انگریزی اخبارات میں بھی شائع ہو گئی تھی۔ مثلاً ٹائمس آف انڈیا، انڈین ایکسپریس، اسٹیٹمین، نیشنل ہیرلڈ (۲۵ اگست)
مدرسہ باب العلوم (کلکتہ) نے اپنے سالانہ مجلہ کے لیے پیغام کی فرمائش کی تھی۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز نے ان کو ایک پیغام روانہ کیا۔ یہ پیغام زیر نظر اشاعت میں شامل ہے۔
صدر اسلامی مرکز سے ملنے کے لیے روزانہ مرکز میں مختلف قسم کے لوگ آتے ہیں اور ان سے مختلف قسم کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ ۲ ستمبر ۱۹۸۵ء کو ایک ڈاکٹر صاحب ملنے کے لیے آئے جو ایک عرب ملک کے اسپتال میں کام کرتے ہیں۔ انھوں نے پوچھا کہ باہر کے لیے الرسالہ کا سالانہ چندہ کتنا ہے۔ صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ بیرونی ملک کے لیے سالانہ چندہ کی مقدار تو آپ کو نیچے کے دفتر میں الرسالہ کے منیجر صاحب بتائیں گے۔ البتہ اتنی بات میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ آپ الرسالہ کا سالانہ چندہ جمع کریں اور ایک سال تک اس کے بارہ شمارے پڑھیں آخر میں اگر آپ کو یہ احساس ہو کہ الرسالہ اس قابل نہ تھا کہ میں اتنی رقم اس کے لیے خرچ کرتا تو آپ سال کے بارہ شمارے ہمیں واپس بھیج دیں آپ کو آپ کی پوری رقم بغیر کسی کمی کے لوٹا دی جائے گی۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ سن کر کہا: آپ کا مرکز تو بالکل انوکھا مرکز ہے ۔ ایسا تو دنیا کا کوئی بھی پرچہ نہیں کہے گا۔ اللہ کے فضل سے "جدید اسلوب میں اسلامی تعلیمات" اب اسلامی مرکز کی امتیازی صفت بن چکی ہے۔ جو لوگ بھی اس موضوع پر کچھ لکھنا یا بولنا چاہتے ہیں وہ اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں کہ الرسالہ یا ادارہ الرسالہ کی مطبوعات سے مدد لیں۔ وہ مختلف طریقوں سے اس کو استعمال کرتے ہیں اگرچہ قوم میں اعتراف کی نفسیات نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ الرسالہ یا ادارہ الرسالہ کا حوالہ دیے بغیر یہ کام کر رہے ہیں۔ عدم اعتراف کے پردہ میں اس اعتراف کی مثالیں ہر روز کثرت سے سامنے آرہی ہیں۔ مثال کے طور پر تعمیر حیات (لکھنؤ) نے اپنی
ستمبر ۱۹۸۵ میں صدر اسلامی مرکز کا ایک مضمون "عورت کی یادداشت" کے عنوان سے نقل کیا ہے مگر صدر اسلامی مرکز کا نام اس میں شامل نہیں ۔ اسلامی مرکز کے افکارِ خدا کے فضل سے عربی اخبارات ورسائل میں برابر شائع ہوتے رہتے ہیں اس طرح اسلامی مرکز کا پیغام وسیع تر مسلم دنیا میں پہنچ رہا ہے ۔ سعودی عرب کے انتہائی کثیر الاشاعت ہفت روزہ الدعوة ( ۹ ستمبر ۱۹۸۵) میں رسالہ کے ایک مضمون کا عربی ترجمہ اہتمام کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ اس کا عنوان ہے : الامتحان الدنیوی سنۃ الہیۃ ۔ پہلے اسی الدعوة (۶ جون ۱۹۸۳) میں صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو چھپ چکا ہے۔ عنوان تھا : مع المفکر الاسلامی الکبیر وحید الدین خان اسلامی مرکز کی دو کتابیں، الاسلام اور احیاء اسلام ، کا ترجمہ عربی زبان میں شائع ہو گیا ہے اول الذکر کتاب کا عربی نام واقعنا ومستقبلنا فی طور الاسلام ہے ۔ اور ثانی الذکر کتاب کا عربی نام قضیۃ البعث الاسلامی : المنهج والشروط ہے ۔ یہ دونوں کتابیں دارالصعوۃ قاہرہ نے شائع کی ہیں ۔
ایک صاحب سعودی عرب سے لکھتے ہیں : ۳ اگست ۱۹۸۵ شام ساڑھے چار بجے ریڈیو ریاض سے آپ کی کتاب " الاسلام متحدی " اور تحریک الرسالہ پر تبصرہ نشر کیا گیا تھا. جس میں " عبد الرحمن صالح العشماوی " نے جناب کے فکر کو بہت سراہا۔ خاص طور پر آپ جدید حالات سے جو سبق لے کر امت مسلمہ کو ایک نئی انرجی عطا کرتے ہیں۔ اور جیسا کہ آپ نے اپنی مختلف تصانیف میں ذکر کیا ہے ۔ یہ بات عبد الرحمن صاحب نے بڑے مضبوط انداز میں پیش کی۔ نشریہ روزانہ پیش کیا جاتا ہے کسی بھی بڑے مصنف ومفکر وادیب کی کتاب میں سے جس کا عنوان ہوتا ہے" قرأة من الکتاب " خدائے تعالیٰ کا شکر ہے الرسالہ تحریک عالم اسلام کی اہم تحریکوں میں اور اپنی حیثیت میں منفرد تحریک کا مقام حاصل کر چکی ہے ۔ خدا سے دعا ہے کہ اس عظیم تحریک میں ہمیں وہ استعمال ہونے اور لگنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ایک صاحب دھولیہ سے لکھتے ہیں : الرسالہ کیٹ نمبرم جدید امکانات کے لیے مبارکباد قبول فرمائیے ۔ آپ نے صحیح راستہ کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔ ان دنوں یہاں مولانا ......
کی ایک تقریر قرآن پر پابندی کے سلسلہ میں بہت دھوم کر رہی ہے۔ اس کے بعد جب ”جدید امکانات“ کو میں نے سنا تو میں سکتہ میں رہ گیا کہ یہ بھی ایک طریقہ ہے اور وہ بھی ایک وہ طریقہ چندہ پر ختم ہوا اور یہ دینی تبلیغ پر ختم ہوتا ہے (۷ ستمبر ۱۹۸۵)۔ ۹- ایک صاحب بمبئی سے لکھتے ہیں : الرسالہ میں ایک منفر دبات یہ ہے کہ اسے کسی بھی شخص کو خواہ وہ کسی بھی شعبہ کا ہو اور کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو دینے میں ہچکچاہٹ نہیں یہ بات کسی اور کتاب میں نہیں ہے ۔ ہمیں کوئی بھی پرچہ دینے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے اور بہت سی جگہ نہ دینے پر گز ارانہ کرنا پڑتا ہے۔ الرسالہ خدا کا خوف ، حضور سے شدید محبت اور ایمان مضبوط کرتا ہے۔ اس کے ذریعہ غصہ ، تکبر، گھمنڈ کم ہوتا ہے اور آخرت کا ڈر اور اسلام کو پھیلانے کا احساس بڑھتا ہے۔ ایک پروفیسر صاحب الرسالہ (انگریزی) پر نظر ڈالتے ہوئے خود بخود کہہ اٹھے ، بے شک بے شک ۔ آج کے دور میں کم خرچ ، کم وقت اور زیادہ مناسب طریقہ پر ہم غیر مسلموں میں اسلام کو ، انگریزی ”الرسالہ کے ذریعے ہی پیش کر سکتے ہیں۔
۱۰- مالیگاؤں سے ایک ندوی عالم لکھتے ہیں : الرسالہ جولائی ۱۹۸۵ موصول ہوا۔ کا مسئلہ “ پڑھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے میں کسی بے آب و گیاہ صحرا میں آبلہ پا اور خشک دہن پانی کی تلاش میں سرگرداں تھا کہ اچانک کسی نے آب زلال کا ایک چھلکتا ہوا جام میرے سامنے کر دیا ہو۔ یہ بالکل اپنے دلی تاثر کی سچی اور غیر مبالغہ آمیز، نیز غیر عقیدت آمیز ترجمانی فی الواقع یہ مختصر سا مضمون موجودہ مشکلات و مسائل کے ایک نہایت اہم مسئلے کا مثبت اور مدلل جواب ہے جو یقینا بے چین اور تڑپتی ہوئی اور بے چارگی و بے بسی کے احساس سے پیچ و تاب کھاتی ہوئی روحوں کے لیے تسکین کا سامان ہے۔ یعنی نفقہ مطلقہ کے متعلق ہماری عدالت عالیہ کے فیصلہ سے مخلصان اسلام اور دردمندان شریعت کو جو قلبی اذیت و جراحت اس کی جلن اور سوزش کا مرہم ہے۔
۱۱- جناب ڈاکٹر اوصاف علی صاحب نے اطلاع دی ہے کہ ”پيغمبر انقلاب کا ترجمہ انڈونیشی زبان میں شائع اس سلسلہ میں ڈاکٹر اوصاف علی صاحب کے خط کا عکس یہاں دیا جار ہا ہے۔
مکرمی و محترمی ! السّلام علیکم ۔