Al-Risala · December 1985

ہار میں جیت

Al-Risala, December 1985, pp. 7–8

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری عالمی جنگ (۱۹۳۹ء - ۱۹۶۵ء) میں ابتداً امریکہ براہ راست شامل نہ تھا۔ ہتھیار اور سامان کے ذریعہ اس کی مدد برطانیہ اور اس کے ساتھیوں کی طاقت کا ذریعہ بنی چنانچہ جاپان نے امریکہ کے خلاف ایک خفیہ منصوبہ بنایا۔ اس نے ۷ دسمبر ۱۹۴۱ کو اچانک امریکہ کے بحری اڈہ پرل ہاربر (Pearl Harbor) پر شدید حملہ کیا اور اس کو تباہ کر دیا۔ تاہم امریکہ کی ہوائی طاقت بدستور محفوظ رہی۔

یہ وہ وقت تھا جب کہ امریکہ میں ایٹم بم کی پہلی کھیپ زیر تکمیل تھی۔ چنانچہ اس کے مکمل ہوتے ہی امریکہ نے جاپان سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دے ورنہ اس کو برباد کر دیا جائے گا۔ جاپان کو امریکہ کی جدید قوت کا اندازہ نہ تھا، اس نے اس کو منظور نہیں کیا۔ چنانچہ ۶ اگست ۱۹۴۵ کو امریکہ نے جاپان کے دو صنعتی شہروں، ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے ایک لمحہ میں جاپان کی فوجی طاقت تہس نہس ہو کر رہ گئی۔ جاپان نے مجبور ہو کر ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر دیا۔

اس کے فوراً بعد جنرل میکار تھر (Douglas Macarthur) امریکی فوجوں کے ساتھ جاپان میں اُتر گئے۔ جاپان کے اوپر مکمل طور پر امریکہ کا فوجی قبضہ ہو گیا۔ جاپان اگر چہ خالص ہتھیار کے اعتبار سے شکست کھا چکا تھا مگر جاپانیوں کے درمیان جنگی جنون بدستور باقی تھا۔ جاپانیوں کا جنگی جنون اس زمانہ میں اتنا بڑھا ہوا تھا کہ وہ اپنے جسم میں بم باندھ کر جہازوں کی چمنی میں کو د جاتے تھے۔ اب جنرل میکار تھر کے سامنے یہ سوال تھا کہ اس جنگی جنون کا خاتمہ کس طرح کیا جائے۔ جنرل میکار تھر نے اس کا حل اس تدبیر میں تلاش کیا کہ جاپانیوں کے جذبہ کو جنگ سے ہٹا کر معاشی سرگرمیوں کی طرف پھیر دیا جائے۔ ایک امریکی مبصر ایتھونی لیوس (Anthony Lewis) نے لکھا ہے:

When Japan surrendered, 40 years ago, Gen. Douglas Macar- thur undertook not just to occupy but to remake the country. If he had been asked then what his most extravagant hope was, I think he might have said: to channel the drive of this aggres- sive people away from militarism and into economic ambition.

جب جاپان نے ہم سال پہلے ہتھیار ڈالے تو جنرل میکارتھر نے نہ صرف جاپان پر فوجی قبضہ کر لیا بلکہ اسی کے ساتھ ان کی مہم یہ بھی تھی کہ وہ ملک کی از سر نو تشکیل کریں۔ اگر اس وقت ان سے پوچھا جاتا کہ ان کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے تو میرا خیال ہے کہ وہ یہ کہتے کہ جاپان کے جارح عوام کے جوش کو جنگ کے بجائے اقتصادی حوصلوں کی طرف موڑ دینا۔ (ٹائمز آف انڈیا ۲۴ اگست ۱۹۸۵) اب جاپان کے لیے ایک صورت یہ تھی کہ وہ اپنے ذہن کو باقی رکھتا۔ اگر کھلے طور پر میدان جنگ میں لڑنے کے مواقع نہیں تھے تو خفیہ طریقہ پر امریکہ کے خلاف اپنی مقابلہ آرائی کو جاری رکھتا۔ آخری درجہ میں وہ اس کام کو کر سکتا تھا جس کا نمونہ ہندوستان کے مسلمانوں میں نظر آ رہا ہے۔ یعنی اپنے مفروضہ حریف کے خلاف الفاظ کی بے فائدہ جنگ جاری رکھنا۔

مگر جاپان نے فاتح کی پیش کش کو قبول کرتے ہوئے فوراً اپنے عمل کا رخ بدل دیا۔ نے امریکہ سے براہ راست ٹکراؤ کو مکمل طور پر ختم کر دیا اور اپنی تمام قوتوں کو سائنسی تعلیم اور تکنیکل ترقی کے راستہ میں لگا دیا۔

اس کا نتیجہ عظیم الشان کامیابی کی شکل میں برآمد ہوا۔ جاپان نے تیزی سے اقتصادی ترقی شروع کی۔ اس نے ۱۹۱۷ میں چھ بلین ڈالر کا تجارتی سامان امریکہ بھیجا تھا، اس کے بعد جاپانی مصنوعات کی مقبولیت امریکہ میں بڑھتی رہی یہاں تک کہ موجودہ اندازہ کے مطابق ۱۹۸۵ میں جاپان کے مقابلہ میں امریکہ کا تجارتی خسارہ (Trade deficit) کی مقدار ۴۵ بلین ڈالر تک پہونچ جائے گا (ٹائمز آف انڈیا ۴ ستمبر ۱۹۸۵) نیوزویک (۱۲ اگست ۱۹۸۵) میں ایک رپورٹ بعنوان (JAPAN: The 40-year Miracle) چھپی ہے ۔ اس میں ۱۹۴۵ میں جاپان کی کامل بربادی کے چالیس سال بعد اس کی غیر معمولی ترقی کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جاپانی قوم افسانوی پرندہ کی طرح خود اپنی راکھ کے اندر سے اٹھ کھڑی ہوئی :

The nation rose like the mythical phoenix from its own ashes. جاپان کو خود اپنے فاتح کے مقابلے میں یہ کامیابی اس لیے حاصل ہوئی کہ اس نے اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا۔ حقیقت کا اعتراف ہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔ اگرچہ بہت سے نادان لوگ حقیقت کے انکار میں کامیابی کا راز تلاش کرنے لگتے ہیں۔

Printed page