زمانہ کی قسم
Al-Risala, December 1985, pp. 9–10
By Maulana Wahiduddin Khan
وَالْعَصْرِ - إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ - إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا قسم ہے زمانہ کی ۔ بے شک انسان بڑے خسارہ میں ہے ، سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انھوں نے اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔ عصر کا مطلب ہے گزرا ہوا زمانہ ۔ گزرتے ہوئے " زمانہ میں انسان ایک " ٹھہری ہوئی " مخلوق ہے۔ وہ بقیہ کائنات کے سرگرم قافلہ کے ساتھ لازمی طور پر بندھا ہوا نہیں ہے ۔ انسانی زندگی کی یہ آزاد نوعیت بتاتی ہے کہ اس دنیا میں کامیابی کے لیے آدمی کو بالارادہ کوشش کرنا ہے، جب کہ ناکامی اس کی طرف اپنے آپ چلی آ رہی ہے ۔
ایک بزرگ نے کہا کہ سورہ عصر کا مطلب میں نے ایک برف بیچنے والے سے سمجھا جو بازار میں آواز لگا رہا تھا کہ لوگو اس شخص پر رحم کرو جس کا اثاثہ گھل رہا ہے ، لوگو اس شخص پر رحم کرو جس کا اثاثہ گھل رہا اس کی پکار کو سن کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ جس طرح برف پگھل کر کم ہوتا رہتا ہے اسی طرح انسان کو ملی ہوئی عمر بھی تیزی سے گزر رہی ہے ۔ عمر کا موقع اگر بے عملی یا برے کاموں میں کھو دیا جائے تو یہی انسان کا گھاٹا ہے (تفسیر کبیر امام رازی)
انسان اپنی عمر رواں کے ساتھ آخرت کے ابدی انجام کی طرف چلا جا رہا ہے ۔ وہ ایسے فیصلہ کن مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں کامیابی صرف اس شخص کے لیے ہے جس نے اپنے عمل سے اس کا استحقاق پیدا کیا ہو۔ جو شخص عملی استحقاق کے بغیر وہاں پہونچے اس کے لیے آخرت کے دن ابدی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں ۔
موجودہ دنیا ایک انتہائی مکمّل دنیا ہے۔ یہاں انتہائی بامعنی قسم کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اور یہ سب کچھ ایک پابند نظام کے تحت ہورہا ہے۔ وسیع کائنات اپنے بے شمار اجزاء کے ساتھ ایک زبردست خدائی قانون میں جکڑی ہوئی ہے ۔ ہر چیز ٹھیک وہی کرنے پر مجبور ہے جس کے لیے اس کو بنایا گیا ہے۔ انسان کا معاملہ بالکل مختلف ہے ۔ انسان ، دوسری تمام چیزوں کے برعکس ، بالکل آزاد ہے ۔ انسان کی فلاح بھی تمام تر اسی میں ہے کہ وہ بقیہ کائنات کا ہم سفر بن جائے ۔ تاہم کائناتاتی طریقہ کو اختیار
کہنے یا نہ کرنے کا معاملہ تمام تر اس کی اپنی مرضی پر منحصر ہے ، وہ چاہے تو اس کو اپنا لے اور چاہے تو
کائنات کے مقابلہ میں انسان کی مثال ایسی ہے جیسے ٹرین کے مقابلہ میں اسٹیشن پر کھڑے ہوئے مسافر کی۔ ٹرین اپنے تمام اجزاء سمیت انجن کے ساتھ بھاگی چلی جارہی ہے۔ ٹرین کا ہر ڈبہ انجن سے بندھا ہواریل کی پٹری پر دوڑ رہا ہے۔ مگر مسافر اور ڈبہ میں یہ فرق ہے کہ ڈبہ تو انجن سے بندھا ہوا اپنے آپ چلا جارہا ہے۔ مگر انسان اس وقت ٹرین کا مسافر بنتا ہے جب کہ وہ بالقصد اپنے کو اس کے اندر داخل کرکے اس کا شریک سفر بننے پر راضی ہو جائے۔ گویا ہم کو ٹرین کا ہم سفر بننے کے لیے تو ارادی عمل کی ضرورت ہے مگر ٹرین سے بچھڑنے کے لیے کسی عمل کی ضرورت نہیں۔ بچھڑنے کا واقعہ اپنے آپ ہورہا ہے ، ٹھیک ویسے ہی جیسے برف پگھل کر ختم ہونے کا واقعہ اپنے آپ ہورہا ہے ۔ مگر اس کو بیچ کر اس سے نفع حاصل کرنے کے لیے بالقصد عمل کی ضرورت ہے ۔ یا جیسے کسی طالب علم کے امتحان میں ناکام ہونے کے لیے تو صرف اتنی بات کافی ہے کہ وہ کچھ نہ کرے۔ لیکن اگر وہ کامیاب ہونا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ امتحان کے نظام میں اپنے آپ کو شریک کرے اور ان تقاضوں کو پورا کرے جو تعلیم کے ذمہ داروں نے مقرر کیا ہے ۔
انسان کی زندگی کا زیادہ بڑا حصہ وہ ہے جو موت کے بعد شروع ہونے والا ہے۔ موت سے پہلے کی زندگی اس کے پورے عرصہ حیات کا محض ایک ابتدائی وقفہ ہے۔ یہی مختصر وقت انسان کا اصل سرمایہ ہے کیوں کہ اسی پر اس کی آئندہ آنے والی طویل تر زندگی کا فیصلہ ہونا ہے ۔
اس مختصر وقت کو صحیح طور پر استعمال کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ اس میں معمولی غفلت بھی ناقابلِ تلافی نقصان کی صورت میں انسان کو بھگتنی پڑے گی ۔
اس مختصر وقت کو صحیح استعمال کرنے والا کون ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو موجودہ دنیا میں تین باتوں کا ثبوت دے سکے ۔ ایک وہ جس کو ایمان کہا جاتا ہے ۔ یعنی حقیقت کا شعور اور اس کا اعتراف ۔ دوسرے عمل صالح ۔ یعنی عین وہی کہتا جو کرنا چاہیے اور وہ نہ کرنا جو نہیں کرنا چاہیے۔ تیسرے حق و صبر کی تواصی ۔ یعنی حقیقت کا ادراک اتنا گہرا ہو کہ آدمی اس کا داعی اور مبلغ بن جائے ۔