اسلامی حکمران
Al-Risala, December 1985, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
صلاح الدین ایوبی (۱۱۹۳-۱۱۸۳) مصری سلطان کی فوج میں معمولی سپاہی تھے ۔ اپنے غیر معمولی کارناموں کی وجہ سے وہ ۳۱ سال کی عمر میں مصری افواج کے سپہ سالار مقرر کیے گیے ۔ اسی کے ساتھ انھیں مصر کا وزیر بھی بنا دیا گیا اور انھیں ملک کا خطاب دیا گیا۔ بعد کو ایک انقلاب کے نتیجہ میں وہ مصر کے خود مختار سلطان ہو گئے ۔
یہ وہ وقت تھا جب کہ طویل صلیبی جنگوں کے درمیان یورپ کی مسیحی طاقتوں نے یروشلم (فلسطین) پر قبضہ کر لیا تھا۔ صلاح الدین ایوبی نے مسلم حکمرانوں میں یہ تبلیغ کی کہ وہ اپنی متحدہ کوشش ہی سے مسیحی یلغار کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ چنانچہ وہ مصر و شام وغیرہ ممالک کو متحد کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے پوری قوم میں جہادی روح پیدا کر دی ۔ انھوں نے زبردست تیاری کے بعد جولائی ۱۱۸۷ء میں حطین (فلسطین) کے مقام پر مسیحی افواج پر حملہ کیا اور ان کو فیصلہ کن شکست اس کے بعد سلطان صلاح الدین کی فوجوں نے تیزی سے آگے بڑھنا شروع کیا ۔ یہاں تک کہ وہ یروشلم تک پہنچ گئیں اور بالآخر یروشلم کو فتح کر کے فلسطین کو دوبارہ اسلامی خلافت کا حصہ بنا دیا ۔ تاہم سلطان صلاح الدین کی فوجی کارروائی نمایاں طور پر مسیحی اقوام کی کارروائیوں سے مختلف مسیحی اقوام نے فلسطین پر قبضہ کرنے کے بعد نہایت وحشیانہ انداز میں مسلمانوں کا قتل عام کیا اس کے برعکس سلطان صلاح الدین ایوبی نے مکمل ضبط سے کام لیا ۔ انھوں نے کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں کی ۔ اس سلسلہ میں انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے :
Saladin’s crowning achievement and the most disastrous blow to the whole crusading movement came on October 2, 1187, when Jerusalem, holy to both Muslim and Christian alike, surrend- ered to the Sultan’s army after 88 years in the hands of the Franks. In stark contrast to the city’s conquest by the Christians, when blood flowed freely during the barbaric slaughter of its inhabitants, the Muslim reconquest was marked by the civilized good faith and courteous behaviour of Saladin and his troops. Encyclopaedia Britannica, 1984 Volume 16, p. 177
صلاح الدین کی شاندار کامیابی اور پوری صلیبی تحریک کی سب سے زیادہ تباہ کن شکست ۲ اکتوبر ۱۱۸۷ء کو ظہور میں آئی جب کہ یروشلم ، جو کہ مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کے نزدیک مقدس ہے ، وہ ۸۸ برس تک مسیحیوں کے قبضہ میں رہنے کے بعد دوبارہ سلطان کی فوجوں کے قبضہ میں آگیا۔ مسیحیوں نے جب شہر پر قبضہ کیا تھا تو انھوں نے وحشیانہ طور پر اس کے باشندوں کو قتل کیا اور آزادانہ طور پر لوگوں کا خون بہایا۔ کے برعکس مسلمانوں کا دوبارہ قبضہ مہذب انسانوں کا قبضہ تھا ، صلاح الدین اور اس کی فوجوں نے مفتوح کے ساتھ فیاضانہ برتاؤ کیا۔
رعایا کے ساتھ سلطان صلاح الدین ایوبی کا یہ انصاف محض اتفاقی نہ تھا ۔ یہ اس کی اسلامیت کا نتیجہ تھا۔ صلاح الدین صرف ایک بہادر اور حوصلہ مند شہ سوارہی نہ تھا۔ وہ ایک خدا ترس اور عبادت گزار آدمی تھا۔ اس کا ذہن اسلامی تعلیمات کے تحت بنا تھا۔
اسلامی تعلیمات کے اثر سے سلطان صلاح الدین کا یہ حال تھا کہ وہ دنیا سے زیادہ آخرت کو اہمیت دیتا تھا۔ وہ اس بات سے ڈرتا تھا کہ قیامت میں اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھ ہوگی۔ اسلام اس کے لیے اس میں مانع بن گیا تھا کہ اس کے اندر گھمنڈ کا مزاج پیدا ہو۔ اس کے برعکس اس کے اندر زہد اور تواضع کا مزاج تھا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۷ء) کے مقالہ نگار نے سلطان صلاح الدین کے زہد و تقویٰ کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے :
---- and on March 4, 1193, he died. While his relatives were already scrambling for pieces of the empire, his friends found that the most powerful and most generous ruler in the Muslim world had not left enough money to pay for his grave. (16/178)
اور ۴ مارچ ۱۱۹۳ء کو صلاح الدین کا انتقال ہو گیا ۔ جب کہ اس کے رشتہ دار ابھی سلطنت کے ٹکڑوں کے لیے آپس میں کش کش کر رہے تھے ، اس کے دوستوں نے پایا کہ مسلم دنیا کے سب سے زیادہ طاقت ور اور سب سے زیادہ فیاض حکمراں نے اپنے پیچھے اتنی رقم بھی نہیں چھوڑی ہے جو اس کی قبر کے اخراجات کو پورا کر سکے ۔