مواقع کا استعمال
Al-Risala, December 1985, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ کا واقعہ اجتماعی حکمت کی ایک عظیم الشان مثال ہے ۔ قریش نے اگر چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی سخت مخالفت کی۔ مگر شروع ہی سے ان کے درمیان ایک عنصر موجود تھا جو یہ چاہتا تھا کہ ہم محمدﷺ سے براہ راست نہ ٹکرائیں۔ بلکہ ان کا رخ دوسرے عرب قبائل کی ایک مرتبہ ربرکی بنی ہوئ چپیپل یا مہمم کفتی طرف پھیر دیں۔
مرکے کاتاموں اور جوتوں کے تلوں کی صفای کردی ہا روه راء ، بد عہدناری ، بند، ان ناری ، دوری ، درب، باتی ، قاڑیا ، ماتی کتاب تو مکہ کے سرداروں میں ایک ممتاز سردار عتبہ بن ربیعہ تھا۔ ہجرت سے قبل کا واقعہ ہے کہ قریش نے ایک بار عتبہ کو اپنا نمائندہ بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس ملاقات کا تفصیلی بیان سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ عتبہ جب آپ سے گفتگو کے بعد واپس آیا تو اس نے قریش سے کہا : پا معشر قريش اطيعوني وخلوا بين هذا الرجل وبين ما هو فيه فاعتزلوه فان تصبه العرب فقد كفيتموه بغيكم وان يَظهَرَ عَلَى العرب فَمُلْكُهُ مَلْكُكُم (سیرت ابن هشام، الجزء الأول ، صفحه ۳۱۴ ) اے قریش کے لوگو، میری بات مانو اور اس آدمی کے درمیان اور حبس میں وہ ہے اس کے درمیان حائل اور اسے چھوڑ دو۔ اگر عرب اس سے نمٹ لیں تو وہ تمہارے لیے کافی ہوگیے۔ اور اگر وہ عرب پر غالب آگیا تو اس کی حکومت تمہاری حکومت ہے اور اس کی عزت تمہاری عزت ہے ۔
اسی طرح ہجرت کے بعد جب قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ بدر چھیڑنے کے لیے نکلے تو راستہ میں آپس میں مشورہ کرنے لگے۔ اس وقت عتبہ نے قریش کے ایک گروہ کی نمائندگی کرتے ہوئے مکہ والوں سے کہا :
يا معشر قريش، انكم والله ما تصنعون بان تلقوا محمداً واصحابه شيئاً. والله لئن اصبتموه لا يزال الرجل ينظر في وجه رجل يكره النظر اليه ــ قتل ابن عمه او ابن خاله اورجلا من عشيرته۔
اے قریش کے لوگو ، خدا کی قسم محمد اور ان کے اصحاب سے ٹکرا کر تم کچھ بھی حاصل نہ کر سکو گے ، خدا کی قسم اگر ان سے تمہاری مڈبھیڑ ہوئی تو ہمارے ہر آدمی کے سامنے کسی ایسے آدمی کا چہرہ ہوگا جس کو قتل کرنا اسے پسند نہ ہو۔ یعنی چچا کا لڑکا ، ماموں کا لڑکا یا اپنے قبیلہ
فارجعوا وخلو بين محمد وبين سائر العرب - فان اصابوه فذلك الذي اردتم وان كان غير ذالك الفاكم ولم تعرضوا منه ما تريدون ( سیرت ابن ہشام ، الجزء الثانی ، صفحه ۲۶۳ ) موجودہ دنیا امتحان اور مقابلہ کی دنیا ہے کا کوئی آدمی۔ اس لیے تم لوٹ چلو اور محمد اور عرب قبائل کے درمیان سے ہٹ جاؤ۔ اگر اہل عرب محمد پر غالب آگئے تو یہ وہی ہوگا جو تم چاہتے ہو۔ اور اگر محمد عرب قبائل پر غالب آگئے تو محمد تم کو اس حال میں پائیں گے کہ تم نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی ہوگی تمہاری پوزیشن محفوظ ہوگی)
یہاں یہ ممکن نہیں کہ فریق ثانی کو عین اپنی پسند کی موجودہ دیا امتحان اور مقابلہ کی دنیا ہے ۔ یہاں یہ معین نہیں کہ فریق ثانی کو عین اپنی پسندی شروطوں پر راضی کیا جاسکے ۔ بیشتر حالات میں خود اپنے آپ کو فریق ثانی کی شروطوں پر راضی کرنا پڑتا ہے۔ یہی آدمی کی حکمت اور تدبیر کا امتحان ہے۔ یہاں یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ فریق ثانی کی شروطوں میں کہاں وہ گنجائش ہے جس کو مان کر ہم اپنے لیے مستقبل کی تعمیر کا راستہ نکال سکتے ہیں ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر یہی کیا۔ آپ نے کمال دانش مندی کے ساتھ قریش کے مذکورہ ذہن کو سمجھا اور اس کو انتہائی حکمت کے ساتھ استعمال کیا ۔ چنانچہ حدیبیہ کے مقام پر جب قریش نے آپ کو آگے بڑھنے سے روک دیا، اس وقت آپ نے قریش کو جو پیغام بھیجا اس میں یہ الفاظ بھی اس بات کے تسلیم کرنے میں بھی کوئی قباحت نہیں شامل تھے :
(انالم نحئ لقتاالآحاد ولكن جئنا معتمرین) ہم کسی سے لڑنے کے لیے نہیں آئے ہیں، بلکہ تم اِں قریشاً قد نهكتهم الحرب واضرت بهم فان شاؤا مددتهم مدة ويخلّوا بيني وبين الناس - فان أظهر فإن شاؤا أن يدخلوا فيما دخل فيه الناس فعلوا وإلَّا فقد جمُّوا .
عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں ۔ اور جنگ نے قریش کا بُرا حال کر رکھا ہے اور ان کو سخت نقصان پہچایا ہے ۔ اگر وہ چاہیں تو میں ان کے لیے ایک مدت (صلح کی مقرر کر دوں اور وہ میرے اور دوسرے عرب قبائل کے درمیان سے ہٹ جائیں ۔ اگر میں غالب رہا تو وہ چاہیں تو اس دین میں داخل ہو جائیں گے جس میں لوگ داخل ہوئے ہیں ۔ میں غالب نہ ہوا تو ان کا مدعا حاصل ہے ۔