Al-Risala · December 1985

تقریر حضرت مولانا اظہار الحسن صاحب

Al-Risala, December 1985, pp. 26–28

By Maulana Wahiduddin Khan

"آپ حضرات اور ہم مولانا وحید الدین خاں صاحب کی والدہ ماجدہ کے جنازہ میں شرکت کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ مولانا وحید الدین خاں کی والدہ کا جنازہ ہے۔ حالاں کہ یہ سوچ غلط ہے بلکہ یہ جنازہ ہمارا اور آپ کا اور پورے انسانوں کا ہے۔ اور یہ جنازہ بتا رہا ہے کہ یہ وقت سب پر آ رہا ہے۔ امیر ہو کہ غریب، کالا ہو کہ گورا، عربی ہو کہ عجمی، کوئی اس سے مستثنی نہیں۔ آج آپ اس جنازہ کی نماز پڑھنے کے لیے آئے ہیں کل دوسرے لوگ آپ کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے آئیں گے۔ آپ اس جنازہ کو کاندھا دے رہے ہیں اور کل کو دوسرے لوگ آپ کی لاش کو اپنے کندھوں پر اٹھائے یہ جنازہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے:

وإذا حملت الى القبور جنازة فاعلم بانك بعدها محمول یہ مہسری جس پر مولانا کی والدہ آرام فرما رہی ہیں اس کے پائے پائے سے آواز آ رہی ہے : انظر الى بعقلك انا المتهيأ لنقلك انا سرير المنايا كم سار مثلى بمثلك یہ مہسری کہہ رہی ہے کہ اپنی عقل کی آنکھیں کھول اور غفلت کی چادر ہٹا اور دیکھ کہ مجھ کو تیرے مکان سے گور غریباں پہونچانے کے لیے ہی بنایا گیا ہے۔ میں موت کی مہسری ہوں۔ میری جیسی کتنی مہسریوں نے تجھ جیسے کتنے انسانوں کو گورستان میں پہونچا دیا ہے۔ ایک مرتبہ ایک بزرگ حضرت عبد الرحمن بن شجیر تشریف لے جا رہے تھے۔ سامنے سے ایک جنازہ گزر رہا تھا۔ ایک راہ گیر نے حضرت سے پوچھا کہ حضرت کس کا جنازہ ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ بھئی آپ ہی کا تو ہے۔ اس آدمی کو یہ بات ناگوار گزری اور کہنے لگا۔ "واہ جی میرا کیوں ہونے لگا"۔ فرمایا بھتیا تمھارا نہیں تو میرا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنازہ کو دیکھ کر یہ پوچھنا بیکار ہے کہ کس کا ہے۔ بلکہ جنازہ کو دیکھ کر یہ غور کرنا چاہیے کہ یہ وقت خود ہم پر آرہا ہے اور بہت جلد آرہا ہے اس کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔ ہماری اس مسجد سے یہی آواز لگائی جارہی ہے کہ مرنے کے بعد کی زندگی کے لیے تیاری کی جائے اور ہر شخص اس کی فکر کرے۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ آواز عالم کے گوشہ گوشہ میں پہونچ رہی ہے اور دنیا کے گوشہ گوشہ سے آدمی اپنی آخرت کی تیاری کے لیے آرہے ہیں اور تیاری کر رہے ہماری بستی والوں سے بھی درخواست ہے کہ مسجد کی آواز کو آکر سنیں اور آخرت کی تیاری میں حصہ لیں۔

مولانا اظہار الحسن صاحب قبلہ کا مزاج تقریر وغیرہ کا نہیں ہے۔ یہ ان کے معمول کے لحاظ سے ایک خلاف توقع بات تھی ۔ حتی کہ وہ مسجد اور مدرسہ سے باہر بھی بہت کم جاتے ہیں۔ تاہم حضرت مولانا کی یہ تقریر اس موقع پر بے حد مؤثر ثابت ہوئی۔ گویا کہ ماحول چارج ہو گیا۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا کہ لوگ اس حقیقی کیفیت کے ساتھ نمازِ جنازہ ادا کر رہے ہیں جیسا کہ فی الواقع ادا کرنا چاہیے۔ اظہار الحسن صاحب کے بروقت کلمات نے نماز جنازہ کو واقعی نماز جنازہ بنا دیا۔ والد کے انتقال کے وقت والدہ کی عمر زیادہ نہیں تھی۔ والد کے بعد بھی وہ ۵۵ سال تک زندہ رہیں، تاہم انھوں نے صرف بچوں کے خیال سے دوسری شادی نہیں کی۔ غالباً یہی وہ وجہ تھی جس کی بنا پر والدہ کے مزاج میں کسی قدر سختی اور جھنجھلاہٹ آگئی تھی۔ چنانچہ بعض اوقات لوگوں کو ان سے شکایت ہو جاتی مگر ان کا باطن بہت صاف و شفاف تھا۔ وہ نہ صرف نماز روزہ کی سختی سے پابند تھیں بلکہ دل کے اعتبار سے پورے معنوں میں مومنہ اور مسلمہ تھیں انھوں نے جان بوجھ کر کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی اور نہ کبھی جان بوجھ کر کسی کی بدخواہی کی ۔

والدہ کا ایک مزاج یہ تھا کہ وہ اپنا کام ہمیشہ خود کرنا پسند کرتی تھیں ۔ جب وہ تندرست اور طاقتور تھیں تو بڑے بڑے کام بھی تنہا کر ڈالتی تھیں ۔ بعد کو جب وہ کمزور ہو گئیں اس وقت بھی ان کا یہ مزاج ہم لوگ بہت کہتے کہ آپ کو جو کام یا ضرورت ہو اس کے لیے کہہ دیا کریں ۔ مگر بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ وہ اپنے کسی کام کے لیے دوسرے سے کہیں ۔ اسی مزاج کی وجہ سے بڑھاپے کی عمر میں کئی بار ایسا ہوا کہ وہ کسی کام کے لیے اٹھیں اور پھر گر پڑیں۔ پھر بھی ان کا یہ مزاج آخر عمر تک باقی رہا۔ والدہ کی محبوب دعاؤਂ میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اٹھ اٹھیں چلتی پھرتی حالت میں اٹھائے۔ یہ دعا بھی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ۔ آخری چند دن کے سوا وہ اپنا سب کام خود کرتی رہیں ۔ آخر میں اگرچہ وہ پاؤں سے چلنے سے معذور ہو گئی تھیں ۔ مگر وہ کسی نہ کسی طرح اپنا ہر کام کر ڈالتی تھیں ۔ والدہ کے اندر خود غرضی اور مادہ پرستی بالکل نہیں تھی ۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی خدمت کرنے کے لیے تیار رہتی تھیں۔ ان کا ایک محبوب طریقہ یہ تھا کہ غریب اور یتیم لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنے یہاں رکھ کر پرورش کرتیں اور اگر ممکن ہوتا تو ان کی شادی بھی کرا دیتیں ۔ پڑوس کے ایک شخص جوان کے یہاں

بطور باورچی کام کرتے تھے، ان کو انھوں نے اپنے گھر کے وسیع صحن کا بڑا حصہ صرف اس لیے دے دیا کہ وہ اپنے گھر کی توسیع کر سکیں۔

والدہ کے میکے کے لوگ بڑے زمیندار تھے۔ وہاں کی زمیندار ی میں ان کا تقریباً ۳۰ بیگھہ (پختہ) حصہ ہوتا تھا۔ مگر والدہ نے بطور خود اپنا حصہ چھوڑ دیا اور دست برداری کے کاغذ پر اپنی رضامندی سے دستخط کر دیئے۔ والدہ کی زبان پر سب سے زیادہ جو جملہ رہتا تھا وہ یہ تھا کہ " اللہ آخرت میں ٹھکانا دے ! " وہ اکثر گہرے تاثر کے ساتھ اس دعائیہ جملہ کو دہراتی رہتی تھیں۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالی نے ان کے دل کی یہ پکار سن لی اور ان کی نیک نفسی کی بنا پر انھیں آخرت میں اچھا ٹھکانا دیا۔ ان کے تمام آخری رسوم نہایت بہتر طور پر انجام پائے۔ ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ ان دنوں بارش کا زمانہ تھا۔ روزانہ بارش کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ مگر ۸ اکتوبر کو بارش رُکی رہی۔ حالاں کہ ۴ اکتوبر سے پہلے بھی بارش جاری تھی، اور ۸ اکتوبر کے بعد بھی بارش جاری رہی۔ مجھے بعد کو معلوم ہوا کہ والدہ کے انتقال کی خبر سننے کے بعد تبلیغی مرکز (نظام الدین نئی دہلی) میں ان کے لیے اجتماعی دعا کی گئی۔ اسی طرح اور بعض مساجد اور مدارس میں ان کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں ۔

یہاں ایک خواب قابلِ ذکر ہے جو میری ڈائری میں ۲۸ مارچ ۱۹۷۷ء کی تاریخ کے ساتھ درج میں نے خواب میں دیکھا کہ والدہ اس دنیا سے رخصت ہو کر آسمان کی طرف لے جائی جا رہی ہیں۔ وہ اوپر پہنچ ہی ہیں تو ایک مقام آیا جہاں ایک سرنگ نما بالکل اندھیرا راستہ تھا۔ اس وقت والدہ کے بارہ میں اوپر سے آواز آئی کہ :

ان کو دوسری طرف دروازہ نور پر لے جاؤ، ان کو وہاں سے داخلہ ملے گا یہ خواب جو میں نے ۱۹۷۷ء میں دیکھا تھا وہ گویا میرے لیے ایک پیشگی بشارت تھی کہ تمہاری والدہ کو موت کے بعد والی دنیا میں تو پرانی گھر میں جگہ ملنے والی ہے ۔ خدایا تو میری والدہ پر اپنے نور کی بارش فرما، ان کو جنت کے اعلیٰ مقامات میں جگہ دے، اور ہم سب کو اپنی رحمتِ خاص سے بخش دے ۔

Printed page