Al-Risala · December 1985

مسلم پریس

Al-Risala, December 1985, pp. 31–33

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلم دنیا میں پریس کا دور انیسویں صدی میں مغربی فاتحین کے ذریعہ آیا۔ ایک طرف غیر مسلم اقوام سے مغلوبیت کا تجربہ ہو رہا تھا۔ دوسری طرف عین اسی زمانہ میں وہ پریس کے دور میں بھی داخل ہو رہے تھے۔

اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم پریس اپنے آغاز ہی میں احتجاجی پریس بن کر رہ گیا۔ پریس کا کام صرف یہ رہ گیا کہ وہ اس ردِ عمل کی ترجمانی کرتا رہے جو مسلمانوں کے اندر سیاسی اور تہذیبی شکست کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔

بیسویں صدی کے آخر میں پہونچ کر بھی مسلم پریس کا یہ احتجاجی مزاج پوری شدت کے ساتھ باقی ہے۔ آج مسلم دنیا میں جتنے بھی اخبار یا رسالے نکلتے ہیں ان سب کا ایک مشترک نام رکھنا ہو تو یقیناً وہ احتجاج (Protest) ہوگا۔

مزید یہ کہ یہ احتجاج بھی عملاً صرف جھوٹے الفاظ کی بے اثر نمائش بن کر رہ گیا ہے۔ کی قیمت اس وقت ہے جب کہ وہ واقعات کے درست جائزہ پر مبنی ہو۔ مگر مسلم صحافت کا حال سراسر اس کے خلاف ہے۔ آج تقریباً ہر مسلم پرچے میں دنیا کے مسلمانوں کے احوال پر تبصرے شائع ہوتے ہیں۔ مگر یہ تبصرے ہمیشہ یک طرفہ ، مبالغہ آمیز اور حقائق سے زیادہ لفظی پر مشتمل اس معاملہ میں غالباً کسی بھی مسلم اخبار یارسالہ کا کوئی استثناء نہیں ۔ یہ بات مسلم صحافت میں اتنی زیادہ عام ہے کہ کسی بھی ملکی یا غیر ملکی زبان کے پرچے سے اس کی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔ یہاں ہم اپنی بات کی وضاحت کے لیے صرف ایک مثال نقل کرتے ہیں ۔

ترجمان القرآن (لاہور) مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی کا قائم کردہ ماہنامہ ہے جو نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ سے نکل رہا ہے ۔ اس کی اشاعت (ستمبر ۱۹۸۵ء) کے ۴۰ صفحات کے اداریہ میں دنیا بھر کے مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لیا گیا ہے اس اداریہ کا آغاز اس جملہ سے ہوتا ہے ــــــــــ "اس مرتبہ ہم احوالِ عالم پر ایک سرسری نظر ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ

یہ اندازہ ہو سکے کہ اسلام اور مسلمانوں کو کیا در پیش ہے “ (صفحہ ۴) اس مفصل اداریہ میں ہندوستان کے مسلمانوں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں اداریہ کا ایک جز حسب ذیل ہے :

(بھارت میں) پچھلے دنوں بڑا خوفناک واقعہ یہ ہوا کہ قرآن کو خلاف قانون قرار دلوانے کے لیے عدالت عالیہ میں استغاثہ لے جایا گیا۔ عدالت نے بھی کوئی باقاعدہ فیصلہ دینے کے بجائے معاملہ کو گول مول چھوڑ کر استغاثہ کو اپنے ریمارکس کے ساتھ محض روک دیا۔ گویا شرارت کا دروازہ اب بھی بند نہیں ہے۔ استغاثہ کے سلسلہ میں کم سے کم بنگلہ دیش میں بڑا ابھاری مظاہرہ ہوا۔

" ترجمان القرآن " مسلم دنیا کا ایک مشہور اور ذمہ دار ماہنامہ ہے۔ مگر اس نے اپنے اداریہ میں ہندوستانی مسلمانوں کے مذکورہ مسئلہ کے بارے میں جو الفاظ لکھے ہیں وہ سراسر خلاف یہ ماہنامہ اپنے آپ کو جس قرآن کا ترجمان بتاتا ہے اس میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب تم کو کوئی خبر ملے تو اس کی مکمل تحقیق کرو ( اذا جاءکم فاسق بنبا فتبيّنوا) اور یہ کہ درست بات کہو ( قولوا قولا سديدا ) مگر حال یہ ہے کہ جس مقدمہ کو ہندوستانی ہائی کورٹ نے قطعی خارج کر دیا اس کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں کہ عدالت نے اس کو گول مول چھوڑ دیا۔ مذکورہ قرآنی حکم کا تقاضا تھا کہ یہ ماہنامہ اس معاملہ پر رائے زنی کرنے سے پہلے اس کی پوری تحقیق کرتا اور چوں کہ یہ معاملہ ایک عدالتی معاملہ تھا اس لیے اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس عدالتی فیصلہ کو حاصل کر کے پڑھے جس کی روشنی میں وہ اپنی رائے دے رہا ہے۔ کے مذکورہ الفاظ تقریباً یقینی طور پر بتاتے ہیں کہ وہ عدالت کے فیصلہ کو پڑھے بغیر لکھے گئے ہیں راقم الحروف کی یہی رائے عام مسلم تبصرہ نگاروں کے بارے میں ہے۔ تقریباً ہر قابل ذکر مسلمان نے اس معاملہ میں رائے زنی کی ہے۔ مگر میری معلومات کے مطابق شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس نے مذکورہ قرآنی احکام پر نہایت عدہ عمل کیا ہو ۔

راقم الحروف کو جب اخبارات سے کلکتہ ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلہ کا علم ہوا تو اس

نے سب سے پہلے یہ کوشش کی کہ وہ اس عدالتی فیصلہ کو حاصل کرے ۔ میں نے اپنے کلکتہ کے ایک رفیق جناب قاری محمد اسماعیل ظفر ایم اے کو خط لکھا کہ وہ عدالت سے اس کی مکمل نقل حاصل کرکے روانہ کریں ۔ انھوں نے فوراً اس کی کوشش شروع کر دی ۔ یہاں تک کہ انھوں نے فیصلہ کی مکمل نقل حاصل کرنے کے مجھے روانہ کی جو ۱۱ اگست ۱۹۸۵ کو مجھے دہلی میں مل گئی ۔ جسٹس بمل چندر باسک (کلکتہ ہائی کورٹ) نے اپنا یہ فیصلہ ۷ مئی ۱۹۸۵ کو دیا ہے اور وہ ۱۸ صفحات پر مشتمل ہے ۔ اس فیصلہ کے اہم پیرا گراف ہیں۔ جسٹس باسک تفصیلی جائزہ کے بعد اپنے فیصلہ کے پیرا گراف نمبر ۳۹ میں کہتے ہیں کہ مذکورہ اسباب کے تحت یہ بات واضح ہے کہ اس عدالت کے حدود اختیار سے باہر ہے کہ وہ قرآن پر پابندی لگانے کا حکم جاری کرے جس کی کہ درخواست میں اپیل کی گئی ہے ۔

اس کے بعد پیرا گراف نمبر ۴۰ میں واضح طور پر یہ الفاظ ہیں کہ مذکورہ اسباب کی بنا پر یہ درخواست ڈسمس کی جاتی ہے :

For the aforesaid reasons this application stands dismissed. کیسی عجیب بات ہے کہ ایک مقدمہ جس کو ہندوستان کی عدالت نے خارج کر دیا، اس کی بابت بالکل غلط طور پر یہ الفاظ لکھے گئے ہیں کہ عدالت نے باقاعدہ فیصلہ دیے بغیر اس کو گول مول حالت میں چھوڑ دیا اور اس طرح شرارت کا دروازہ کھلا رکھا ۔ نیز اس سلسلہ میں بنگلہ دیش میں ہونے والے جھوٹے مظاہرہ کا حوالہ اس طرح دیا گیا ہے گویا کہ وہ کوئی قابل فخر اسلامی کارنامہ ہو۔

میرا ذاتی تجربہ ہے کہ اُس قسم کے واقعات کی رپورٹنگ غیر مسلم پریس میں اس سے زیادہ صحیح ہوتی ہے جو نام نہاد مسلم پریس میں نظر آتی ہے۔ مسلم پریس کی تقریباً تمام رپورٹیں اسی طرح بے اصل ہوتی ہیں جس کا ایک نمونہ اوپر کی مثال میں نظر آتا ہے ۔ یعنی واقعات کی صحیح تصویر دیے بغیر ایک طرفہ طور پر فریق ثانی کو برا بتانا ۔ اس قسم کا جھوٹا احتجاج نہ خدا کے نزدیک کوئی قیمت رکھتا ہے اور نہ خلق کے نزدیک ۔ مسلمان اگر ایک ہزار سال تک اس قسم کا احتجاج کرتے رہیں تب بھی اس کا کوئی فائدہ انھیں ملنے والا نہیں ۔

Printed page