Al-Risala · December 1985

خدا کی مدد

Al-Risala, December 1985, pp. 36–37

By Maulana Wahiduddin Khan

عالمِ اسلام پر مغرب کے حملہ کا آغاز سولھویں صدی عیسوی میں ہوتا ہے جب کہ پرتگالیوں نے یورپ اور ہندوستان کے درمیان سمندری راستہ دریافت کر کے بحر عرب پر قبضہ کر لیا اور عربوں کی تجارت اس علاقہ سے کاٹ دی۔ سترہویں صدی میں اسٹیم انجن کی دریافت اور اٹھارویں صدی میں جدید ٹکنالوجی کا وجود میں آنا یورپ کے لیے طاقت و قوت کا نیا میدان کھل جانے کے ہم معنیٰ تھا۔ اس کے بعد ۱۸۶۹ میں جب نہر سوئیز بنی اور اس نے بحر روم اور بحر احمر کے درمیان سیدھا سمندری راستہ کھول دیا تو عالمِ اسلام پر مغرب کے غلبہ کا عمل اپنی آخری انتہا کو پہنچ گیا۔ انیسویں صدی کے آخر تک ایشیا اور افریقہ کا کوئی مسلم ملک نہ تھا جو بالواسطہ یا براہ راست طور پر مغربی استعمار کے قبضہ میں نہ آچکا ہو۔ مادی قوت کے اعتبار سے مسلم اقوام اور مغربی اقوام کا فرق صرف مقداری نہ تھا بلکہ نوعی تھا۔ یعنی عالمِ اسلام اگر "دستی ہتھیاروں" سے مسلح تھا تو عالمِ مغرب "دور مار ہتھیاروں" سے۔ ایسی حالت میں لوگوں کا یہ تاثر بظاہر بجا نہ تھا کہ مغرب کا غلبہ اب ختم ہونے والا نہیں۔ مگر قدرت کا فیصلہ ظاہر ہوا۔ جنگ عظیم (۴۱- ۱۹۳۹) میں مغربی طاقتیں خود آپس میں لڑگئیں۔ تاریخ انسانی کی اس سب سے زیادہ بھیانک جنگ نے ان کو اتنا کمزور کر دیا کہ ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ ایشیا اور افریقہ کے مقبوضات سے واپس چلی جائیں۔

تاہم ایک شدید تر محاذ ابھی باقی تھا۔ یہ مغرب کی صنعتی برتری تھی ۔ مسلم اقوام اپنے محدود وسائل اور ناکافی ٹکنیکل صلاحیت کے ساتھ اس میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ مگر ایلون ٹافلر کے الفاظ (۱۹۰) میں سوال یہ تھا کہ مسلم قو میں جب بہزارہ دقت اپنے آپ کو انڈسٹریل ایج میں پہونچانے میں کامیاب ہوں گی، اس وقت مغرب سپر انڈسٹریل ایج میں پہونچ چکا ہوگا۔ عین اس وقت " پیٹر وڈار" ایک خدائی کرشمہ بن کر ظاہر ہوا اور اس نے نہ صرف مسلم اقوام کی صنعتی پسماندگی کی تلافی کر دی بلکہ بہت سے پہلوؤں سے ان کو جدید اقتصادی دنیا میں برتری عطا کر دی۔

حقیقت یہ ہے کہ امت مسلمہ کتاب محفوظ کی حامل ہے۔ اس کے طفیل میں اللہ تعالیٰ نے اس کی دنیوی حفاظت کی ذمہ داری لے لی ہے ۔ اسی خدائی حفاظت نے تاتاری حملے اور صلیبی لڑائیوں کے وقت مسلمانوں

کو محفوظ رکھا۔ اور اسی نے موجودہ زمانہ میں ان کو جدید طاقموں کا شکار ہونے سے بچایا ہے ۔ تاہم حفاظت کا یہ معاملہ صرف دنیوی پہلو سے ہے۔ آخرت کی نجات کے لیے اللہ تعالیٰ نے کسی سے اس قسم کا کوئی وعدہ نہیں کیا ہے۔ آخرت کی نجات کا تمام تر انحصار ، ذاتی اصلاح کے بعد، اس پر ہے کہ ہم خدا کی امانت کو اس کے دوسرے بندوں تک پہنچاتے ہیں یا نہیں۔ رسول نے جس طرح اپنے زمانہ کے لوگوں پر خدا کے دین کی گواہی دی ، ٹھیک اسی طرح ہر دور کے مسلمانوں کو اپنے زمانہ کے لوگوں کے سامنے اس کا گواہ بن کر کھڑا ہونا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو صرف ذاتی اصلاح بھی ان کو خدا کے یہاں باز پرس سے نہیں بچا سکتی۔

ختم نبوت کے بعد امت مسلمہ نبوت کی قائم مقام ہے ۔ اس کی کامیابی یا ناکامی اسی کارِ شہادت کی ادائیگی پر موقوف ہے جس پر نبی کا معاملہ موقوف ہوتا تھا۔ نبی اگر خدائی پیغام رسانی کے کام کو انجام نہ دے تو خدا کی نظر میں اس کی حیثیت رسالت ہی متحقق نہیں ہوتی تھی (مائدہ ۔ ۶۷)، اسی طرح ہم اگر اپنے زمانہ کی قوموں پر دین کی گواہی دینے کا فریضہ ادا نہ کریں تو اندیشہ ہے کہ ہمارا امت محمدی ہونا ہی مشتبہ نہ ہو جائے ۔ اور آخرت میں ہم ناکام و نامراد قرار پائیں ۔ اگر تمام مسلم قومیں اس کام کے لیے نہیں اٹھتیں تو کم سے کم کسی ایک قوم یا کسی ایک جماعت کا دعوت الی اللہ کے اس کام کے لیے اٹھنا ضروری ہے۔ قدیم زمانہ میں جب کہ سیاست کی بنیاد مذہب پر ہوتی تھی ۔ ایک بے ضرر دعوتی تحریک کو بھی حکمراں طبقہ اپنے خلاف ایک خطرہ سمجھنے لگتا تھا۔ اور بہت جلد اس کو مٹانے کے لیے کھڑا ہو جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانہ میں اس مقصد کے لیے اٹھنے والے لوگ آریوں سے چیرے گیے۔ اور آگ میں جلائے گیے۔ موجودہ زمانہ میں مذہب اور سیاست کی علحدگی نے ہم کو دعوتی کام کا انتہائی قیمتی موقع فراہم کر دیا ہے اگر ہم مناظرہ بازی سے بچیں اور سیاسیات میں الجھنے کی غلطی نہ کریں تو آزادی فکر اور سائنسی طریق مطالعہ کے اس زمانہ میں ہر قسم کے خطرہ سے محفوظ رہ کر ساری دنیا میں اسلام کی اشاعت کا کام جاری رکھ سکتے ہیں ۔

مزید یہ کہ جدید افکار نے اسلام کو لوگوں کے لیے قابلِ فہم بنانے کے بہت سے نئے امکانات کھول دیئے ہیں جو اس سے پہلے کبھی موجود نہ تھے ۔ ان امکانات کو استعمال کیا جائے تو اسلام کو معجزاتی استدلال کے ساتھ جدید دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔

Printed page