Al-Risala · December 1985

قدیم مقدس کتاب اپنے وقت سے 14 سو سال آگے

Al-Risala, December 1985, pp. 39–41

By Maulana Wahiduddin Khan

نئی دہلی کے اخبار ٹائمز آف انڈیا (۱۰ دسمبر ۱۹۸۴) میں یہ خبر حسب ذیل سرخی کے ساتھ چھپی : قرآن جدید سائنس پر بازی لے جاتا ہے جنینیات کے ایک عالم جن کا تعلق کناڈا کی ٹورانٹو یونیورسٹی سے ہے، انھوں نے سعودی عرب کے کئی سفر کیے ہیں تاکہ قرآن کی کہی آیتوں کی تشریح کرنے میں مدد کریں۔ یہ آیتیں وہ ہیں جن میں انسانی جنین کے ارتقار کا ذکر ہے ۔

یہ ڈاکٹر کیتھ مور ہیں۔ ان کی تحقیقات جو ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے موجد ڈاکٹر رابرٹ ایڈیورڈ ٹس سے مطابقت رکھتی ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کی متعلقہ آیتیں انسانی جنین کے درجہ بدرجہ ارتقا کا نہایت صحیح بیان ہیں۔ یہ چیز وہ ہے جس کا ذکر مغربی ماہرین نے پہلی بار ۱۹۸۱ میں کیا تھا۔ سلسلہ کی اکثر تفصیلات صرف پچھلے پندرہ برسوں میں علمی طور پر ثابت کی جاسکی ہیں۔ ڈاکٹر مور نے لکھا ہے کہ 14 سو سالہ قدیم قرآن میں خلینی ارتقار کے بارے میں اس قدر درست بیانات موجود ہیں کہ مسلمان معقول طور پر یقین کر سکتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے اتاری ہوئی کتاب ہے ۔

یہ دو برس پہلے کی بات ہے، ٹورانٹو یونیورسٹی کے ایک ماہر جنینیات ایک غیر معمولی سائنسی مشن پر سعودی عرب گئے۔ ان سے قرآن کی چند آیات کی تشریح میں مدد چاہی گئی تھی ۔ یہ ڈاکٹر کیتھ مور تھے ــــــــ اولین ٹیسٹ ٹیوب بچے کی پیدائش کے محقق ڈاکٹر ایڈیورڈ نے بھی ان کی توجیحات کی تصدیق کر دی تھی۔ دونوں سائنس دانوں نے مسلم علما کو آیات قرآنی کے بارے میں اپنی دریافت سے حیران کر دیا تھا۔ قرآن جس کو مسلمان تیرہ سو برس سے حفظ اور تلاوت کرتے چلے آرہے ہیں ۔

جو انھوں نے دریافت کیا تھا وہ یہ تھا کہ قرآن میں انسانی جنین کا جو نظریہ بیان کیا گیا ہے وہ اب ایک ناقابل تردید صداقت بن کر سامنے آیا ہے اور یہ کہ مغربی محققین پر اس حقیقت کا انکشاف ۱۹۸۱ میں ہوا

اس ضمن میں زیادہ تر معلومات تو محض گذشتہ پندرہ برس میں سامنے آئی ہیں۔ ڈاکٹر کیتھ مور ٹورانٹو یونیورسٹی کے شعبہ تشریح الاعضاء کے چیئر مین ہیں ، تخلیق انسانی سے بحث کرنے والی آیات قرآنی پر اپنا خصوصی مقالہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا :

" مجھے اس بات نے حیرت میں ڈال دیا ، جب مجھے یہ پتہ چلا کہ قرآن نے ساتویں صدی عیسوی میں جو حقائق پیش کیئے وہ کس قدر درست اور سائنسی صداقتوں کے حامل ہیں ۔

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن ساتویں صدی عیسوی میں خدا کی طرف سے اپنے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا۔ اس کے بعد انھوں نے اسلام دنیا کے سامنے پیش کیا۔ آج اسلام عیسائیت کے بعد دوسرا بڑا مذہب ہے ۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر مور یونائیٹڈ چرچ کے ممبر اور ایک بڑے پادری کے بیٹے ہیں۔ وہ اپنے عقیدے پر مطمئن ہیں اور ایک ملاقات میں بتا چکے ہیں کہ اسلام قبول کرنے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں۔ ڈاکٹر مور کہتے ہیں کہ میں نے بائبل کے عہد نامہ قدیم اور جدید کا تجزیہ بھی کیا ہے ۔ لیکن قرآنی آیات سے ان کی کوئی مماثلت نظر نہیں آئی ۔ جنینات پر ان کی دو تصنیفات معیاری درسی کتب کا درجہ رکھتی ہیں ۔ اور دنیا کی زبانوں میں ان کے ترجمے شائع ہو چکے ہیں ۔ ڈاکٹر مور کہتے ہیں کہ جنین کے ابتدائی ۴۲ روز میں نمو کے متعلق قرآنی آیات نے جو حقائق بیان کیئے ہیں وہ اتنے صحیح ہیں کہ انسانی عقل کو تعجب میں ڈال دیتے ہیں ۔ ڈاکٹر مور کو یقین ہے کہ : " قرآن کی آیات اور پیغمبر اسلام کے کچھ فرامین مذہب اور سائنس کے درمیان مدتوں سے حائل خلیج کو پاٹنے میں مدد کر سکتے ہیں ۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ خام چیر پھاڑ کے نتیجے میں یہ معلومات سامنے آگئی ہوں تو انھوں نے کہا کہ اس مرحلے پر جنین کی جسامت ایک ملی لیٹر کے دسویں حصے سے زیادہ نہیں ہوتی ۔ یہ انسانی آنکھ کو ایک چھوٹے سے نقطے کی شکل میں نظر آتا ہے ۔ اس کی شناخت ایک طاقت ور خوردبین کے بغیر ممکن نہیں اور یہ بات اپنی جگہ تسلیم شدہ ہے کہ سترھویں صدی عیسوی سے پہلے خوردبین ایجاد نہیں ہوئی تھی ۔ دو برس پہلے ڈاکٹر کیتھ مور کو جدہ کی شاہ عبد العزیز یونیورسٹی نے مدعو کیا تھا ۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر لیارٹ ایڈورڈ زکو بھی بلایا تھا ۔ یہ وہی ڈاکٹر رابرٹ ہیں کہ جن کے کیمبرج یونیورسٹی میں کیئے گیئے تجربات کی بدولت پہلے ٹیسٹ ٹیوب بچے کی پیدائش عمل میں آئی ۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر ٹی وی این پر شاد اور ڈاکٹر مارشل جانسن بھی مدعو عین میں شامل تھے ۔ ڈاکٹر مور کہتے ہیں کہ اس موقع پر منعقدہ کانفرنس کے علماء رتے ان

چاروں ماہرین کو قرآن کی متعدد آیات کے انگریزی میں تراجم پیش کیے اور ان سے رائے مانگی کہ آیا ان کی کوئی سائنسی تعبیر ہو سکتی ہے؟ ایک آیت جو پیش کی گئی وہ یہ تھی :

"وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تین تاریک پر دوں کے اندر تمہیں ایک کے بعد ایک شکل دیتا چلا جاتا ہے " ( الزمر 6)

ڈاکٹر مور کہتے ہیں کہ ان تین تاریکیوں کے بارے میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ان سے مراد پیٹ کی دیوار، رحم مادر کا پردہ اور بچے دانی کی اندرونی جھلی ہے ۔ ایک دوسری آیت میں بتایا گیا ہے کہ بعد میں بوند کو خون کے لوتھڑے (مضغہ) میں تبدیل کر دیا جاتا ہے ۔ عربی میں مضغہ کا لفظ جو نک کے لیے آیا ہے ۔ اور دوسرے ماہرین کا خیال ہے کہ عرب میں پائی جانے والی جو تک اور ۲۴ دن کے جنین میں حیرت انگیز طور پر مشابہت پائی جاتی ہے مزید یہ کہ اس مرحلے پر جنین رحم کی دیوار سے جو نک کی طرح لپٹ جاتا ہے ۔ آگے کی ایک آیت کہتی ہے کہ یہ جو نک نما مضغہ بعد میں چبائی ہوئی چیز کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس مرحلے پر جنین کی شکل کی وضاحت کرنے کے لیے ڈاکٹر مور نے پلاسٹک کی ایک چھوٹی سی چیز تیار کی اور پھر اسے اپنے دانتوں سے چبایا یا اور پھر اسے بتایا کہ ۲۸ روز کے جنین کی شکل ہو بہو ایسی ہوتی ہے اور اس پر جو نشانات پائے جاتے ہیں وہ بھی دانتوں کے نشانوں کے مماثل ہوتے ہیں ۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس مرحلے پر جسم کے چند ہی اعضا کی شناخت ہو سکتی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ صرف دل اور آنکھوں کے حد سے کی پہچان ممکن ہوتی ہے ۔

ڈاکٹر مور نے کہا کہ آیات قرآنی کہتی ہیں کہ تیزی سے نکلنے والے مادہ منویہ کے ایک انتہائی مختصر حصے میں بار آور کرنے کی صلاحیت رکھنے والا عنصر پایا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر مور نے اپنے مقالہ میں بتایا کہ جس حقیقت کی نشاندہی اسپیلن زینی نے اٹھارہویں صدی عیسوی میں کی جب اس نے تجرباتی طریقے سے ثابت کیا کہ جب تک کہ نراور مادہ کے جنسی تولیدی عناصر کی باہم آمیزش نہ ہو حیاتیاتی نمو نہیں ہو سکتی ۔ اس سے گیارہ صدیاں پہلے مخلوط قطرہ (نطفہ امشاج ) کی نشاندہی کر دی اور بتایا کہ مرد اور عورت کے نطفوں کے باہمی ملاپ سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے ۔ اسی طرح مار مہین کے ذیل میں یہ اشارہ موجود ہے کہ کس طرح ابتدائی حقیر بوند میں آدمی کا جامع نقشہ موجود ہو تا ہے ۔ یہ بوند مستقبل کے تمام کردار اور خصوصیات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی ہے ۔

Printed page