Al-Risala · December 1985

ایک امکان

Al-Risala, December 1985, pp. 42–43

By Maulana Wahiduddin Khan

اخرج ابو نعيم عن محمود بن لبيد اخي بني عبد الاشهل قال : لما قدم ابو الهيثم بن رافع مكة ومعه فتية من بني عبد الاشهل فيهم ایاس بن معاذ رضى الله عنه يلتمسون الحلف من قريش على قومهم من الخزرج ۔ فمع رسول الله صلی الله علیہ وسلم بهم فاتاهم فجلس اليهم فقال : هل لكم الى خير مما جئتم له فقالوا وما ذاك قال انا رسول الله بعثني الله الى العباد ادعوھم الى الله ان يعبدوا الله ولا يشركوا به شيئًا وانزل على الكتاب ثم ذكر الاسلام وتلا عليهم القرآن فقال اياس بن معاذ وكان غلاما حدثا ای قوم ، ھذا والله خير مما جئتم له مدینہ کے مشترک سردار ابو الهيثم مدینہ سے مکہ آئے ۔ ان کے ساتھ بنو عبد الاشہل کے کچھ جوان ان میں ایاس بن معاذ بھی شامل تھے (جو بعد کو مسلمان ہوگئے ) وہ لوگ قبیلہ خزرج کے مقابلہ میں قریش کو اپنا حلیف بنانا چاہتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آمد کی خبر سنی تو آپ ان کے یہاں گیے ۔ آپ ان کے پاس بیٹھے اور فرمایا : تم لوگ جس مقصد کے لیے آئے ہو، کیا اس سے بہتر چیز کی تمہیں رغبت ہے ۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیا چیز ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اس نے مجھے بندوں کی طرف بھیجا ہے ۔ میں ان کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں ۔ اور خدا نے میرے اوپر کتاب اتاری ہے ۔ پھر آپ نے اسلام کا تذکرہ کیا اور ان کو قرآن پڑھ کر سنایا ۔ یہ سن کر ایاس بن معاذ نے کہا ، وہ اس وقت ایک نوجوان تھے ، کہ اے قوم ، یہ خدا کی قسم اس سے بہتر ہے جس کے لیے تم یہاں آئے ہو ۔

مکہ قدیم زمانہ میں عرب کا مرکز تھا۔ مختلف بیرونی مقامات سے لوگ مکہ آتے رہتے تھے ۔ مقصد سے آتا، کوئی تجارتی مقصد سے ، کوئی مذہبی مقصد سے ۔ سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ایسی کسی جماعت یا کسی شخص کی آمد کی اطلاع ملتی تو آپ چل کر اس کے

پاس جاتے اور اس کے سامنے اسلام پیش کرتے۔ پھر کوئی مانتا اور کوئی انکار کر دیتا۔ بھی اسی اسوہ پر عمل کرتے۔

موجودہ زمانہ میں مجموعی اعتبار سے عرب ملکوں کی یہی صورت ہو رہی ہے۔ یہاں دنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ آرہے ہیں۔ ان میں بہت بڑی تعداد غیر مسلموں کی ہوتی ہے۔ یہ لوگ معاش کے حصول کے لیے یا دوسرے مقاصد کے لیے عرب ملکوں میں آتے ہیں ۔ اس طرح دوبارہ زیادہ بڑے پیمانہ پر وہی موقع پیدا ہو گیا ہے جو قدیم زمانہ میں رسول اور اصحاب رسول کو حاصل تھا۔ آج ضرورت ہے کہ عرب ممالک میں نہایت خاموش اور نہایت منظم انداز میں اسی طرح لوگوں کے سامنے دین حق کی دعوت پیش کی جائے جس طرح دور اول میں پیش کی گئی تھی۔ انہیں بتایا جائے کہ تم لوگ یہاں پٹرول ڈالر کے لیے آئے ہو، مگر ہمارے پاس تمہارے لیے اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے۔ اللہ کا سچا دین ہے جو آدمی کے لیے جنت میں داخلہ کی ضمانت ہے ۔ پٹرول ڈالر تمہارے معیار زندگی کو کچھ بڑھا مگر خدا کا سچا دین اختیار کر کے تم اپنی ابدی زندگی کو لامحدود طور پر کامیاب کر سکتے ہو۔ اگر ایسا کیا جائے تو یقین ہے کہ ان میں " ایاس بن معاذ " کی طرح ایسے لوگ نکلیں گے جو کہہ پڑیں کہ اى قوم ، هذا والله خير مما جئتم له (اے لوگو، یہ اس سے بہتر ہے جس کے ارادہ سے تم یہاں آئے ہو) اس طرح یہ ہوگا کہ عرب دنیا جو آج لوگوں کے لیے صرف پٹرول ڈالر حاصل کرنے کا ذریعہ بنی ہوئی ہے وہ اس سے زیادہ بڑی دولت ، دین حق کی دولت حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے گی ۔ اطلاعات بتاتی ہیں کہ اس وقت بھی عرب دنیا میں لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ کے جو لوگ عرب ممالک میں تلاش روزگار کے لیے جاتے ہیں وہ اپنی معاشی ضرورت کے تحت عربی زبان سیکھتے ہیں ۔ وہ اسلامی تہذیب کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ وہ عربوں سے میل ملاپ کے دوران اسلام کے بارہ میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح ان کی ایک تعداد اسلام سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیتی ہے ۔

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کسی دعوتی جدوجہد کے بغیر اسلام قبول کر رہے ہیں۔ باقاعدہ طور پر دعوت و تبلیغ کی جدوجہد شروع کی جائے اور اس کو حکیمانہ انداز میں چلایا جائے تو یہ رفتار یقینی طور پر بہت زیادہ بڑھ جائے گی ۔

Printed page