Al-Risala · December 1985

خبر نامه اسلامی مرکز۔ ۱۴

Al-Risala, December 1985, pp. 45–46

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۹ ستمبر ۱۹۸۵ء کو مہینے کا آخری اتوار ہوا۔ حسب معمول مرکز میں ماہانہ درسِ قرآن کا پروگرام تھا۔ اس اجتماع کا اعلان دہلی کے متعدد اخبارات میں شائع ہو گیا تھا۔ مثلاً پرتاپ اردو، نو بھارت ٹائمس ہندی، ہندوستان ہندی، ہندوستان ٹائمس انگریزی، اسٹیٹس مین انگریزی، صدر اسلامی مرکز نے سورہ الفتح کی ابتدائی آیات کی روشنی میں درس دیا۔ اس درس کا ٹیپ مرکز میں سامعین میں زیادہ تر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ سپریم کورٹ کے ایک غیر مسلم بیرسٹر بھی آنے والوں میں شامل تھے۔

۲- الرسالہ کیسٹ کا سلسلہ خدا کے فضل سے کافی پسند کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں بطور نمونہ ایک انگریزی خط کا ایک پیرا گراف یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ یہ خط ہم کو بمبئی سے موصول ہوا ہے اور اس پر ۱۱ ستمبر ۱۹۸۵ء کی تاریخ درج ہے :

Immediately after receiving the cassettes I heard it and I have been much impressed and influenced by the contents. I think such lectures through the cassettes will help to awa- ken the minds and hearts of the people. It will also remove the misunderstanding regarding Islam especially from the minds of the Muslims which is more essential at this time. ۳- الرسالہ کے مطالعہ سے لوگوں میں کس قسم کے اثرات پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کی مثالیں روزانہ سامنے آتی رہتی ہیں۔ ایک صاحب جو باہر سے صدر اسلامی مرکز سے ملنے آئے تھے انھوں نے کہا کہ میرا تجربہ ہے کہ جو لوگ الرسالہ کا برابر مطالعہ کرتے ہیں ان میں سنجیدگی اور حقیقت پسندی پیدا ہو جاتی ہے۔ محبوب نگر سے ایک صاحب کا خط (۱۲ اپریل ۱۹۸۵ء) موصول ہوا ہے۔ اس خط کا ایک حصہ یہ ہے :

میں حیدر آباد بذریعہ ٹرین جانے کی تیاری میں تھا کہ الرسالہ اپریل ۱۹۸۵ء آپہونچا۔ سوچا کہ ڈھائی گھنٹہ کے سفر کا ساتھی مل گیا۔ ٹرین چلتی رہی۔ میں الرسالہ میں محو تھا۔ کہ آخری مضمون شروع ہوا۔ رقت طاری ہوتی گئی، آنسو رواں ہو گئے۔ گرد و پیش کی کچھ خبر نہ رہی، یہ بھی یاد نہیں رہا کہ میں سفر میں ہوں میرے اطراف کم از کم چار چھ مسافر تو مجھے دیکھ رہے ہوں گے۔ مضمون ختم ہوا تو پاس میں بیٹھے ایک غیر مسلم معمر ہم سفر نے پوچھا کیا بات ہے

بھائی کوئی ٹریجڈی بھری کہانی پڑھ رہے تھے کیا۔ میں نے کہا نہیں یہ مذہبی پرچہ ہے۔ پھر میں نے ان نے کہنے پر مضمون کے بارہ میں مختصراً بتاتے ہوئے کچھ اقتباسات پڑھ کر سنائے جس سے وہ کافی متاثر ہو کر کہنے لگے "جو تحریک ایثار اور قربانی پر مبنی ہے وہ ضرور کامیاب ہوتی ہے"۔ ۵ اکتوبر ۱۹۸۵ء کو گول مارکیٹ نئی دہلی، میں ایک اجتماع ہوا، اس میں سب تعلیم یافتہ حضرات صدر اسلامی مرکز نے اسلامی عبادت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے نماز کی حقیقت پر تقریباً ایک گھنٹہ گفتگو کی۔ اجتماع میں بعض غیر مسلم حضرات بھی شریک تھے ۔ "تعبیر کی غلطی" (مکمل) زیر کتابت ہے۔ انشاء اللہ جلد ہی کتابت کی تکمیل کے بعد شائع کر دی

اسلامی مرکز کی مطبوعات کی اشاعت کا دائرہ خدا کے فضل سے دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ حکومت ہند کی وزارت تعلیم نے اپنے خط نمبر (5-7/81-BPU .F) مورخہ ۲۴ ستمبر ۱۹۸۵ء کے تحت ماہنامہ الرسالہ کی خریداری منظور کی ہے۔ چنانچہ انھیں الرسالہ بذریعہ ڈاک بھیجنا شروع کر دیا گیا ہے ۔

مہاراشٹر اسٹیٹ بیورو آف ٹیکسٹ بک پروڈکشن اینڈ کریکولم ریسرچ کے اپنے خط مورخہ ۱۵ اکتوبر ۱۹۸۵ء ہم کو مطلع کیا ہے کہ انھوں نے اسکول نصاب کی ایک کتاب میں الرسالہ کے بعض مضامین کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی طرف سے جو خط موصول ہوا ہے اس کا فوٹو مقابل کے صفحہ پر شائع کیا جا رہا ہے اطلاع ملی ہے کہ بعض مقامات پر کتب خانے یہ کر رہے ہیں کہ وہ الرسالہ کیٹ ایک یا زیادہ تعداد میں منگاتے ہیں اور جو لوگ خرید نہیں سکتے ان کو معمولی رقم پر کرایہ پر دیتے ہیں۔ اس طرح وہ لوگ بھی الرسالہ کیٹ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جو بیک وقت پوری رقم ادا کر کے کیٹ کو خرید نہیں سکتے۔ یہ طریقہ بہت مفید ہے۔ ضرورت ہے کہ دوسرے مقامات پر بھی اس کو اختیار کیا جائے ۔ دسمبر ۱۹۸۵ء میں الرسالہ کیٹ کا پہلا سلسلہ پورا ہو جائے گا۔ یہ کل پانچ کیٹ ہیں۔ کی تقریروں کو علیحدہ کتابی شکل میں شائع کرنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ اس کا نام الرسالہ کیٹ حصہ اول ہوگا انشاء اللہ العزیز۔

Printed page