Prophet Of the Anti-Universe
Al-Risala, February 1985, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
پال ڈیر اک نے ایٹم میں پہلا اینٹی پارٹیکل دریافت کیا جس کو پازیٹران (Positron) کہا جاتا ہے۔ اس دریافت نے نیوکلیئر فزکس میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ لوگ جب پال ڈیر اک سے پوچھتے کہ آپ نے تخت ایٹم مادہ کی نوعیت کے بارہ میں اپنا چونکا دینے والا نظریہ کیسے دریافت کیا تو وہ بتاتے کہ وہ اپنے مطالعہ کے کمرہ میں اس طرح فرش پر لیٹ جاتے تھے کہ ان کا پاؤں اوپر رہتا تاکہ خون ان کے دماغ کی طرف دوڑے :
When people asked him how he got his startling ideas about the nature of sub-atomic matter, he would patiently explain that he did so lying on his study floor with his feet up so that the blood ran to his head. بظاہر یہ ایک لطیفہ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کوئی بڑا فکری کام وہی شخص کر پاتا ہے جو اپنے سارے جسم کا خون اپنے دماغ میں سمیٹ دے۔
بیشتر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوت کو تقسیم کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ایک مرکز پر کیوں نہیں کرتے اس لئے وہ ادھوری زندگی گزار کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ آدمی سے اس کی پوری قوت مانگتا ہے۔ وہی شخص بڑی کامیابی حاصل کرتا ہے جو اپنی پوری قوت کو ایک کام میں لگا دے۔
جمہوریت کی قیمت اسرائیل کا ایک دلچسپ واقعہ نظر سے گزرا۔ اس کے اصل الفاظ یہ تھے :
Worn out after an interminable meeting, a Tel Aviv company director said with a sigh, "If the children of Israel had been led by a committee instead of by Moses, they'd still be in Egypt." تل ابیب کی ایک کمپنی کا ڈائریکٹر لاتناہی میٹنگوں سے سخت اکتا چکا تھا۔ اس نے آہ بھرتے ہوئے کہا کہ اگر بنی اسرائیل کی رہنمائی حضرت موسیٰ کے بجائے ایک کمیٹی کر رہی ہوتی تو بنی اسرائیل ابھی تک مصرہی میںہوتے (ریڈرز ڈائجسٹ اکتوبر ۱۹۸۴) مجلس اور کمیٹی کی بحثوں کا جن لوگوں کو تجربہ ہے وہ جانتے ہیں کہ ان میں کس قدر بے فائدہ باتیں ہوتی ہیں ۔ لفظی نکتے، دور از کار امکانات، غیر اہم پیش بندیوں پر لوگ اس قدر بحثیں کرتے ہیں کہ الامان والحفیظ ۔ راقم الحروف اس دنیا میں جن چیزوں سے پناہ مانگتا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ خدا اس کو کبھی کسی مجلس یا کمیٹی کا ممبر نہ بنائے۔ کوئی بڑا کام اجتماعی کوشش سے ہوتا ہے۔ اور اجتماعی کوشش میں ہمیشہ بہت سے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صورت کیا ہو ۔ اختلاف رائے کو ساتھ لے کے ساتھ کس طرح مطابق کیا جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں ۔ ایک شخصی اعتماد اور دوسری جمہوریت ۔ اول الذکر میں یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنی اپنی رائے دیتے ہیں مگر بالآخر مرکزی قائد کی رائے کو تمام لوگ بلا بحث مان لیتے ہیں۔ ثانی الذکر میں یہ ہوتا ہے کہ جو معاملہ پیش آتا ہے اس پر ہر شخص کی الگ الگ رائے لی جاتی ہے اور جس طرف برائیوں کی کثرت ہوتی ہے اس کو اختیار کر لیا جاتا ہے۔ بظاہر ثانی الذکر طریقہ خوبصورت معلوم ہوتا ہے ۔ مگر اس طریقہ میں کام کم ہوتا ہے اور بحث مباحثہ زیادہ ۔ اسلام میں درمیان کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ ابتدائی مرکزی قائد کو منتخب کرنے میں عوامی رائے کا پورا لحاظ کیا جاتا ہے مگر جب عوامی رائے سے ایک امیر کا انتخاب ہو جائے تو اس کو اسی طرح مکمل اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں جیسے موجودہ زمانہ میں امریکہ کے صدر کو۔