Al-Risala · February 1985

هذا ما قاضي عليه محمد رسول الله

Al-Risala, February 1985, pp. 18–20

By Maulana Wahiduddin Khan

سہیل بن عمرو نے ان الفاظ پر سخت اعتراض کیا۔ انھوں نے کہا کہ خدا کی قسم اگر ہم جانتے کہ آپ خدا کے رسول ہیں تو ہم آپ کو بیت اللہ سے نہ روکتے اور نہ آپ سے لڑائی کرتے (و الله لو كنت اعلم انك رسول الله ما صل دناك عن البيت ولا قاتلناك بعد کی تاریخ نے بتایا کہ سہیل بن عمرو ان الفاظ میں پوری طرح صادق تھے۔ وہ واقعہ نہ سمجھنے کی وجہ سے مخالفت کر رہے تھے۔ چنانچہ بعد کو جب ان کی سمجھ میں آگیا کہ آپ سچے پیغمبر ہیں تو وہ ایمان لائے اور اس کے بعد اپنی پوری زندگی اسلام کی حمایت اور تائید میں وقف کر دی۔

۳ تیسری مثال ابوجہل کی ہے۔ ابو جہل نے اگر چہ اسلام قبول نہیں کیا۔ مگر اس کے یہاں بھی اس عرب کردار کا ایسا نمونہ ملتا ہے جس کی مثال مشکل سے کہیں دوسری جگہ ملے گی۔

مکی دور کا واقعہ ہے کہ ایک روز ابو جہل کی ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی۔ اس نے آپ کو بہت برا بھلا کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ یہ واقعہ کہ کی ایک عورت

دیکھ رہی تھی۔ اس نے آپ کے چچاحمزہ بن عبدالمطلب سے کہا کہ آج ابوجہل نے آپ کے بھتیجے سے بہت نازیبا انداز میں کلام کیا ہے ۔ اس وقت حمزہ کے ہاتھ میں لوہے کی کمان تھی ۔ وہ اس کو لئے ہوئے ابوجہل کے پاس آئے اور کمان سے اس کے سر پر اس طرح مارا کہ اس کا سر بری طرح زخمی ہوگیا۔ کے قبیلہ (بنو مخزوم) کے کچھ لوگ حمزہ کو مارنے کے لئے دوڑے۔ ابو جہل نے اپنے آدمیوں کو روک دیا اور کہاکہ حمزہ کو چھوڑ دوکیوں کہ خدا کی قسم میں نے ان کے بھتیجے کو آج بہت برا بھلا کہہ دیا تھا (دعوا اباعمارة فانی والله قد سببت ابن اخيه سباً قبيحاً)

ہرقل کے مشہور واقعہ میں آتا ہے کہ اس نے ابوسفیان سے پوچھا کہ کیا نبوت کے اعلان سے پہلے تم لوگوں نے محمد کو کبھی جھوٹ بولتے ہوئے پایا ہے۔ ابوسفیان نے کہا کہ نہیں۔ یہ واقعہ نقل کر کے ابن کثیر لکھتے ہیں :

وكان ابوسفيان اذذاك رأس الكفرة ابوسفیان اس وقت کافروں کے سردار اور شرکوں وزعيم المشركين ومع هذا اعترف بالحق کے لیڈر تھے، اس کے باوجود انھوں نے حق (تفسیر ابن كثير، الجز والثانی، صفحه ۴۱۰) کا اعتراف کیا۔

یہ تھی وہ انسانی نسل جو حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کو "ذبح " کر کے بنائی۔ اور پھر اس کے منتخب افراد کے ذریعہ وہ "خیر امت" بنی جس نے دل وجان سے توحید کو قبول کیا اور پھر بے مثال قربانی کے ذریعہ دور شرک کو ختم کر کے دور توحید کو بر پا کیا۔

حضرت ابراہیم سے لے کر حضرت محمد تک یہ ایک ڈھائی ہزار سالہ منصوبہ تھا۔ اس کا مرکز عرب کا وہ علاقہ تھا جس کو حجاز کہا جاتا ہے اور جس میں مکہ واقع ہے۔ حج اسی تاریخ کا علامتی اعادہ ہے۔ حج کے ذریعہ مسلمان دوبارہ یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ اس منصوبہ خداوندی میں اپنے آپ کو شامل کریں گے۔ وہ لبیک اللهم لبیک لاشریک لک لبیک ! خدا یا ہم حاضر ہیں، کہتے ہوئے ابراہیم اور اسماعیل کی سرزمین میں جمع ہوتے ہیں۔ کچھ ان لوگوں پر حقیقی طور پر گزرا تھا اس کو چند دن میں علامتی طور پر دہراتے ہیں۔ اس طرح وہ خدا سے کہتے ہیں کہ اگر ضرورت ہو تو وہ دوبارہ اس تاریخ کو دہرانے کے لئے تیار ہیں جو یہاں اس سے پہلے

آج زمانہ گھوم کر دوبارہ وہیں پہنچ گیا ہے جہاں وہ حضرت ابراہیم کے زمانہ میں تھا۔ اس وقت سارے عالم پر شرک کا غلبہ تھا، آج سارے عالم پر الحاد کا غلبہ ہے۔ قدیم زمانہ کا انسان اگر شکرانہ طرز پر سوچتا تھا تو آج کا انسان ملحدانہ طرز پر سوچتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کا مسئلہ بھی وہی ہے جو قدیم زمانہ کا مسئلہ تھا بس

فریق کے ساتھ کہ قدیم زمانہ میں مشرکانہ شاکلہ لوگوں کے اوپر چھایا ہوا تھا۔ آج لوگوں کے اوپر الحادی شاکلہ چھایا ہوا ہے ۔ اس شاکلہ (ذہنی سانچہ) کو توڑنا ہی آج اسلام کا اصل کام ہے۔ آج بھی اسلامی ہم اسی نہج پر طے ہونگے جس نہج پر قدیم زمانہ کی اسلامی ہم طے ہوئی تھی۔

اب دوبارہ کچھ لوگوں کو ذبح ہوناہے۔ اب پھر کچھ لوگوں کو اپنی اولاد کو صحرا میں ڈالنا ہے تاکہ دین کی تاریخ دوبارہ زندہ ہو۔ ماضی میں دور شرک کو ختم کرنے کے لئے ایک نسل کی قربانی درکار تھی۔ آج دور الحاد کو ختم کرنے کے لئے دوبارہ ایک نسل کی قربانی درکار ہے ــــــــ۔ یہی حج کا سب سے بڑا سبق ہے۔ اسی کا حج آج حج مبرور ہے ، جو حج کے بعد یہ عزم لے کر وہاں سے واپس آئے۔

Printed page