فکری توجیه
Al-Risala, February 1985, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
انیسویں صدی عیسوی کے آخر میں دو مفکرین نے امریکہ میں بہت مقبولیت حاصل کی۔ ہربرٹ اسپنسر (۱۹۰۳ - ۱۸۲۰) اور ولیم گراہم سمنر (۱۹۱۰ - ۱۸۴۰) اس مقبولیت کا راز ایک لفظ میں یہ تھا کہ وہ سوشل ڈارونسٹ (Social Darwinist) تھے۔ یعنی انھوں نے ڈارون کے بقائے اصلح (Survival of the fittest) کے نظریہ کو سماجی زندگی پر منطبق کیا۔ چارلس ڈارون (۱۸۸۲ - ۱۸۰۹) نے انواع حیات کے ارتقاءء کے سلسلے میں یہ نظریہ پیش کیا کہ زمین پر ابتدا میں زندگی کی مختلف قسمیں ظہور میں آتی ہیں۔ اس کے بعد ان میں بقاءکی جد و جہد شروع ہوتی ہے پھر جو نوع زیادہ صالح ثابت ہوتی ہے وہ باقی رہتی ہے اور جو انواع کمتر درجہ کی ہوتی ہیں وہ ختم ہو جاتی ہیں۔ اس طرح زندگی ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف بڑھتی رہتی ہے۔
یہ نظریہ جس کو ارتقا کا نظریہ کہا جاتا ہے، خالص علمی اعتبار سے ثابت شدہ نظریہ نہ تھا۔ صدی کی دنیا میں مغربی قوموں کے لئے وہ بہت سود مند ثابت ہوا کیونکہ وہ دوسری قوموں پر ان کے معاشی اور تہذیبی غلبہ کے لئے فطری جواز فراہم کرتا تھا۔ اس نظریہ کے حوالہ سے وہ کہہ سکتے تھے کہ دنیا کی قوموں کو ہماری برتری تسلیم کرنا چاہئے، کیوں کہ وہ ہم کو عین قانون قدرت کے تحت حاصل ہوئی ہے۔ فطری حق ہے نہ کہ ظلم یا استحصال کا کوئی واقعہ۔
اسپنسر (Herbert Spencer) اور سمنر (W.G. Sumner) کو مغربی قوموں، خصوصاً امریکہ میں جو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی وہ اس کی قیمت تھی کہ انھوں نے اپنے آپ کو اس راہ میں استعمال کیا کہ وہ مغربی قوموں کو یہ مطلوب ذہنی غذا فراہم کریں۔ وہ اپنی فلسفیانہ صلاحیت اور اپنی معاشی قابلیت سے یہ ثابت کریں کہ جو کچھ ہے یہی از روئے حق ہونا چاہئے تھا۔
اس سلسلے میں اسپنسر کے خیالات کا خلاصہ اس کے ان الفاظ میں ملتا ہے: I am simply carrying out the views of Mr. Darwin in their applica- tions to the human race... all (members of the race) being subject to the increasing difficulty of getting a living... there is an average advance under the pressure, since only those who do advance under it eventually survive, and... these must be the select of their Herbert Spencer, The Study of Sociolop New York, D. Appleton and Co., 1891 p..
میں سادہ طور پر پرشد دارون کے خیالات کو انسانی نسل پر چسپاں کر رہا ہوں۔ نسل کے تمام افراد اپنی معاش حاصل کرنے کے سلسلے میں بڑھتی ہوئی مشکل سے دوچار ہوتے ہیں۔ دباؤ کے زیر اثر ایک اوسط ترقی ہوتی ہے۔ بالآخر صرف وہ لوگ زندہ رہتے ہیں جو اس کے تحت ترقی کریں ، اور یہ لازماً ان کی نسلوں کا انتخاب ہوتا ہے۔ سمنر نے جس طرح اس کی تعبیر کی ہے اس کا ایک نمونہ یہ ہے:
کروڑ پتی لوگ انتخابِ فطرت کی ایک پیداوار ہیں۔ یہ اس لیے کہ اس طرح انھوں نے اس دولت کو چنا ہے، خود بھی اور سونے جانے کے اعتبار سے بھی۔ وہ ان کے ہاتھوں میں بڑھتی ہے۔ وہ واضح طور پر سماج کے کارندے سمجھے جاسکتے ہیں جن کو فطری طور پر معین کام کے لیے منتخب کیا گیا ہو۔ وہ زیادہ بڑی اجرت لیتے ہیں اور عیش کی زندگی گزارتے ہیں۔ مگر یہ سودا سماج کے لیے مفید ہے۔
موجودہ زمانہ میں نظریہ ارتقاء کی مقبولیت (اور اسی طرح دوسرے بہت سے نظریات کی مقبولیت) کاراز یہ نہ تھا کہ یہ نظریات بذاتِ خود حق تھے۔ بلکہ ان کی مقبولیت کا اصل راز یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کی قومی خواہشات سے مطابقت رکھتے تھے جن کے درمیان وہ پیش کئے گئے۔ یہ نظریات ان قوموں کی کارروائیوں کے لئے فکری جواز فراہم کرتے تھے۔
اکثر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک چیز کو یہ کہہ کر لیتا ہے کہ وہ اس کو حق سمجھتا ہے۔ وہ اس کو صرف اس لئے لیتا ہے کہ وہ اس کی خواہشات کے مطابق ہے نہ کہ علم وعقل کے مطابق۔