Al-Risala · February 1985

ایمان بڑھتا ہے

Al-Risala, February 1985, pp. 25–27

By Maulana Wahiduddin Khan

ومن يقترف حسنة نزد له فيها حسناً اور جو شخص نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس کی خوبی بڑھائیں گے۔

نیکی کرنے والے کی خوبی میں اضافہ کرنے کا مطلب کیا ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی تشریح میں لکھا ہے کہ نیکی کے ثواب میں سے یہ ہے کہ نیکی کے بعد نیکی کی توفیق حاصل ہو اور برائی کے بدلہ میں سے یہ ہے کہ برائی کے بعد آدمی کو اور برائی کا موقع دیا جائے ( قال بعض السلف ان ثواب الحسنة بعدها من جزاء السيئة السيئة بعدها، تفسیر ابن کثیر، الجزء الثالث صفحه ۱۱۳)

نیکی کرنا انسان جیسی مخلوق کے لئے ایک شعوری واقعہ ہے۔ آدمی جب ایک نیکی کرتا ہے تو وہ ایک برائی کو ارادی طور پر چھوڑتا ہے اور ایک نیکی کو ارادی طور پر اختیار کرتا ہے۔ اس طرح ایک حقیقی نیکی کرنے والا آدمی نیکی کرکے اپنے شعور اور ارادہ کو متحرک کرتا ہے۔ وہ اپنی نفسیات کو جگاتا ہے اور اپنی روح کے اندر آمادگی کی فضا پیدا کرتا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر نیکی آدمی کو ایک نیا انسان بنا دیتی ہے۔ ہر نیکی کے بعد آدمی مزید اور نیکی کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ نیکی موجودہ دنیا میں ایک عمل ہے اور اسی کے ساتھ مزید عمل کا محرک بھی۔ دنیا میں ایک جمادات ہیں اور دوسرے نباتات۔ پھر ایک جاد چیز ہے۔ وہ بس ایک حال میں پڑا اس کے برعکس درخت ایک نمو پذیر چیز ہے۔ وہ برابر بڑھتا رہتا ہے۔ قرآن میں مومن اور ایمان کی مثال درخت سے دی گئی ہے (ابراہیم ۲۴) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کا معاملہ پتھر جیسا معاملہ نہیں ہے کہ بس ایک حالت پر پڑا رہے۔ وہ برابر بڑھتا رہتا ہے۔ اس پر کبھی ٹھہراؤ نہیں آتا۔ قرآن میں مختلف مقامات پر بتایا گیا ہے کہ ایمان ایک اضافہ پذیر حقیقت ہے۔ کے چند حوالے نقل کئے جاتے ہیں:

جب قرآن کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو مومنین کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ( الانفال ۲) خدا کے لئے قربانی کے مواقع دیکھ کر مومنین کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ( آل عمران ۱۷۳) اہل ایمان کے تقویٰ میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ( محمد ۱۷)

ہدایت پانے والوں کی ہدایت برابر بڑھتی رہتی ہے ( مریم ۷۶)

ایمان والوں کے خشوع میں اضافہ ہوتا ہے ( الاسراء ۱۰۹)

اہل ایمان کی معرفت بڑھتی رہتی ہے (طہ: ۱۱۳)

جو لوگ واقعی ایمان کی دولت پائیں ان کا ایمان اسی طرح بڑھتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ ایمان کو اس کی گہرائیوں کے ساتھ نہ پائیں ان کے لئے ایمان میں ایک جامد چیز ہوتی ہے، وہ بڑھنے اور ترقی کرنے والی چیز نہیں ہوتی۔ قال البيهقي عن عطاء بن يسار ان عبد الله بن عطار بن یسار سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ رواحة قال لصاحب له تعالَ نؤمن بربنا بن رواحہ نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ آؤ کچھ دیر کے ساعة - فغضب الرجل وقال اولنا لمؤمنين لئے اپنے رب پر ایمان لائیں۔ ساتھی یہ سن کر غصہ میں آگیا قال بلى ولسكنا نذكر الله فنشن داد اس نے کہا کہ کیا ہم مومن نہیں ہیں۔ حضرت ابن رواحہ نے کہا کہ ہاں ہم مومن ہیں، مگر ہم اللہ کی یاد کرتے ہیں تو اس سے ہمارے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔

مذکورہ آدمی کے نزدیک ایمان کا مطلب یہ تھا کہ توحید کا کلمہ (لا الہ الا اللہ) پڑھ لیا جائے کلمہ کی ادائیگی کے بعد اس کے نزدیک بات پوری ہو جاتی تھی۔ مگر حضرت عبداللہ بن رواحہ خدا کو اس کے ان کمالات کے ساتھ پائے ہوئے تھے جس کی کوئی حد وانتہا نہیں۔ پہلے آدمی کے نزدیک اگر کلمہ پڑھ کر بات ختم ہوتی تھی تو حضرت عبداللہ بن رواحہ کے نزدیک اس کے بعد بات شروع ہوتی تھی۔ خدا کا تصور ان کے ذہن میں اس طرح آتا تھا کہ کدہ لامحدود کمالات کا خزانہ ہے۔ اس لئے اس کا ذکر بھی ان کے نزدیک ایسی چیز تھی جو لامحدود طور پر جاری رہے۔ میں جینے والے تھے۔ اور جو شخص خدا میں جئے وہ برابر خدا کی یاد کرتا رہے گا، اس کو کبھی یہ احساس نہیں ہوگا کہ وہ اس کی آخری حد پر پہنچ گیا ہے۔

قال عثمان بن عفان رضی الله عنه، لو طهرت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اگر تمہارے دل قلوبكم ما شبستم من كلام ربكم پاک ہو جائیں تو اللہ کی بات سے تم کو سیری نہ ہو۔ کسی بات سے سیر ہونے یا نہ ہونے کا تعلق آدمی کے ظرف سے ہوتا ہے۔ چھوٹا گڑھا تھوڑے سے پانی سے بھر جاتا ہے۔ مگر سمندر کو پانی کی بڑی سے بڑی مقدار بھی بھرنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ یہی حال انسان کا اگر آدمی کے اندر کا ظرف یا اس کی سمائی کم ہو تو وہ ذرا سی بات سے بھر جائے گا۔ اور اگر اس کی سمائی بہت زیادہ ہو تو اس کو کبھی سیری حاصل نہیں ہوگی۔

ایک عام آدمی توحید کا مطلب صرف یہ جانتا ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ لیا جائے۔ " کلمہ توحید" کا تلفظ کرنے کے بعد اس کو ایسا لگتا ہے کہ بات ختم ہوگئی۔ اس کے بعد اس کے پاس کچھ اور نہیں رہتا جس کو وہ سوچے یا اپنی زبان سے کہے۔ مگر جو شخص توحید کی حقیقت کو پا جائے اس کے پاس توحید کے

موضوع پر کہنے کے لئے اتنی زیادہ بات ہوگی جو کبھی ختم نہ ہو۔

موجودہ زمانہ میں سائنس دانوں نے کائنات کو دریافت کیا ہے تو وہ محسوس کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک ایسی دنیا کو دریافت کیا ہے جس کے ایک ایک ذرہ کی تفصیلات اتنی زیادہ ہیں جو کبھی بیان نہ کی جاسکیں۔ پھر جو شخص کائنات کے خالق کو دریافت کرے اس کے پاس تو علم کا ایسا بھنڈار ہونا چاہیے جو سارے انسانی الفاظ بولنے کے بعد بھی ختم نہ ہو۔ جو دنیا کے تمام قلم اور دنیا کی تمام سیاہی کو استعمال کرنے کے بعد بھی لکھنے سے رہ جائے۔

اگر آپ نے خدا کو دریافت نہیں کیا ہے تو آپ کے پاس خدا کے نام سے بس چند الفاظ ہوں گے۔ الا اللہ کا فقرہ زبان سے ادا کرنے کے بعد آپ کو ایسا محسوس ہوگا گو یا بات ختم ہوگئی۔ اس کے بعد آپ اگر مزید کچھ جانیں گے تو وہ بس اسی فقرہ کی بے سوچی تکرار ہوگی۔ لیکن اگر آپ واقعی خدا کو پالیں تو خدا کے بارے میں آپ کے پاس اتنی زیادہ باتیں ہوں گی جو لکھنے اور بولنے سے کبھی ختم نہ ہوں۔ جن کے بارے آپ کبھی سیر

خدا کی کوئی انتہا نہیں۔ اس لئے خدا کی معرفت کی بھی کوئی انتہا نہیں ہو سکتی جس طرح خدا لامحدود ہے اسی طرح خدا کی معرفت بھی لامحدود ہے۔ جس آدمی کی معرفت خدا وندی لا محدود نہ ہو، اس نے ابھی حقیقی خدا کو نہیں پایا ہے۔ وہ کسی " محدود " میں اٹکا ہوا ہے، وہ ابھی " لامحدود " تک نہیں پہنچا۔ اسلام اور عصر حاضر اسلامی مرکز کی تازہ پیشکش اس کتاب میں اسلامی تعلیمات کو جدید اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔

قیمت ۲۰ روپے

Printed page