زور والے بے زور ہوں گے
Al-Risala, February 1985, pp. 28–29
By Maulana Wahiduddin Khan
دیا سلائی بنانے والے نے جب دیا سلائی بنائی تو اس نے جاننا چاہا کہ اس کی دیا سلائی کس حد تک جلانے کی طاقت رکھتی ہے۔ اس نے کچھ لکڑی جمع کی اور اس کو جلا کر اس کا تجربہ کیا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا جب جانوروں پر طرح طرح کے تجربے کئے جانے لگے۔ جانوروں کو زہریلی چیزیں کھلانا، جانوروں کے جسم کے کسی حصہ کو بیکار کرنا، جانوروں کو مار کر ان کا جائزہ لینا، وغیرہ۔ کا یہ سلسلہ اپنے تیسرے دور داخل ہو گیا ہے۔ یہ انسانوں پر تجربہ ہے۔ دنیا کی کچھ قومیں جنھوں نے " بڑی طاقت " کا مقام حاصل کر لیا ہے۔ وہ ہلاکت خیز ہتھیار بناتی ہیں اور ان کی ہلاکت خیزی کا تجربہ کرنے کے لئے ان کو کمزور قوموں پر استعمال کرتی ہیں۔ نیٹو (NATO) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسپین کی سول وار میں ہٹلر نے اپنے ٹینک اور بمبار ہوائی جہازوں کو بے تکلف استعمال اس کے نتیجہ میں ہزاروں لوگ ہلاک یا معذور ہو گئے۔ تاہم ہٹلر نے فتح کی خوشی منائی۔ کیوں کہ اس کا مقصد اپنے ہتھیاروں کی ہلاکت خیزی کو جاننا تھا اور وہ حاصل ہو گیا۔ اسی طرح ویت نام کی جنگ میں امریکہ نے اپنے ہیلی کو آپریٹر اتنی زیادہ تعداد میں اڑائے کہ زمین پر ان کے سایہ سے اندھیر یہ تاریخ کی پہلی جنگ تھی جس میں جنگی ہیلی کو آپریٹر استعمال کئے گئے۔ ویت نام کا چھوٹا سا ملک تباہ ہو گیا۔ تاہم امریکہ اپنے مقصد میں کامیاب تھا۔ وہ اپنے ہیلی کو آپریٹروں کی جنگی قوت کا اندازہ کرنا چاہتا تھا اور ویت نام کو قبرستان بنا کر اس نے یہ اندازہ کر لیا۔ یہی کام افغانستان میں کر رہا ہے۔
روس نے بھاری قسم کے جنگی ہیلی کو آپریٹر بنائے ہیں۔ وہ ان کی مار کا اندازہ کرنا چاہتا اس مقصد کے لئے اس کو کمزور افغانستان کی سرزمین میں حاصل ہو گئی ہے۔ اس نے افغانستان کو اپنے جدید ترین جنگی ہتھیاروں کی تجربہ گاہ بنا دیا ہے۔ لاکھوں لوگ قتل اور برباد ہو رہے ہیں۔ لوگ اپنے وطن کو چھوڑ کر پڑوسی ملک میں پناہ لے رہے ہیں۔ تاہم روس کا مقصد حاصل ہے۔ کی زمین کو قبرستان بنا کر وہ اپنے جنگی ہتھیاروں کا تجربہ کر رہا ہے (ہندوستان ٹائمس یکم اپریل ۱۹۸۰) یہ دنیا کیا اندھیر نگری ہے۔ کیا خدا نے یہاں کچھ لوگوں کو طاقت ور بنا کر بھیج دیا کہ وہ اپنے طاقت ور ہونے کا انعام پائیں ۔ اور کچھ لوگوں کو کمزور بنا کر چھوڑ دیا کہ وہ اپنے کمزور ہونے کی سزا
اس قسم کا خیال کرنا خدا کی خدائی کو باطل کرنے کے ہم معنی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے ورمیان ہے بیکار نہیں بنایا۔ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جو منکر ہیں۔ ایسے منکرین کے لئے بربادی ہے جہنم کی آگ سے۔ کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کیا اور ان کو جو زمین میں فساد کرتے ہیں یکساں کر دیں گے۔ کیا متقیوں کو ہم فاجروں جیسا کر دیں گے (ص) جو لوگ اپنے ان ظالمانہ مشغلوں میں لطف رہے ہیں ان کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ اس دنیا کے مالک وہ نہ تھے بلکہ اس دنیا کا مالک خدا تھا۔ موت کا فرشتہ جب ان کو پچھاڑے گا تو وہ دیکھیں گے کہ وہ چیونٹی سے بھی زیادہ بے حقیقت تھے۔ وہ چیزیں جن کے بل پر وہ اپنے کو طاقت در سمجھے ہوئے تھے وہ ان کے کچھ کام نہ آئیں گے وہ اوندھے منہ اپنے کو آخرت کی خندق میں گرا ہوا پائیں گے وہ پکاریں گے مگر وہاں کوئی نہ ہوگا جو ان کی پکار کو سنے، وہ مدد چاہیں گے مگر وہاں کوئی نہ ہوگا جو ان کی مدد کے لئے دوڑے ۔