Al-Risala · February 1985

اداره الرساله

Al-Risala, February 1985, pp. 30–47

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک اسلامی کانفرنس میں شرکت کے سلسلے میں مراکو کا سفر ہوا۔ جولائی ۱۹۸۴ء میں ملیشیا جانا ہوا تھا۔ اب نومبر ۱۹۸۴ء میں مراکو جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ گویا اس مسلم دنیا کا ایک سرے سے دوسرے سرے کی طرف سفر تھا جو ملیشیا اور انڈونیشیا سے لے کر مراکو تک پھیلی ہوئی ہے۔

مراکو مغرب کی سمت میں افریقہ کا آخری ملک ہے جو جرا ہین کے قریب واقع ہے۔ چنانچہ اس ملک کا دوسرا نام مغرب ہے۔ مراکو کا رقبہ دو لاکھ ۷۵ ہزار مربع میل ہے۔ اور آبادی ۲۰ ملین سے کچھ زیادہ ہے جس میں بیشتر تعداد مسلمانوں کی ہے۔ اس کی راجدھانی رباط ہے اور شاہ حسن ثانی اس کے موجودہ

مراکو کو بنو امیہ کے دور میں عقبہ بن نافع نے فتح کیا تھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عقبہ بن نافع نے اپنا مشہور جملہ کہا تھا۔ جب وہ خشکی کو فتح کرتے ہوئے مراکو کی آخری سرحد پر پہنچے جس کے آگے اٹلانٹک سمندر موجیں مار رہا تھا تو انھوں نے اسلامی جوش کے تحت اپنا گھوڑا پانی میں ڈال دیا اور پانی کے اندر کھڑے ہو کر کہا:

والله لو علمت ان وراء هذا البحر بلد لتعنته خدا کی قسم اگر میں جانتا کہ اس سمندر کے پار بھی کوئی ملک ہے تو میں سمندر کو عبور کر کے وہاں پہنچتا یہاں تک کہ ایک خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔

دور اول کے مسلمان جس مقصد کے لئے سرشار ہو کر اٹھے تھے وہ لوگوں کو خدا کے واحد کی عبادت گزار بنانا تھا۔ نہ کہ ملکی فتوحات حاصل کرنا۔ مگر بعد کی نسلیں اس راز کو بھول گئیں۔ انھوں نے فتوحات اور سیاسی کارناموں ہی کو سب کچھ سمجھ لیا۔ اسی وقت سے مسلمانوں کا زوال شروع ہو گیا۔

۲۵ نومبر کو جب میں نے یہاں اپنے ہوٹل کے کمرہ میں کھڑے ہو کر اٹلانٹک کی لہروں کو موجیں مارتے ہوئے دیکھا تو مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے یہ موجیں آج بھی عقبہ بن نافع کے اس تاریخی قول کی امانت لئے ہوئے ہیں اور اس کو توحید کا نام لینے والوں تک پہنچا دینا چاہتی ہیں۔

مراکو کی فتح کے بعد طارق بن زیاد کو یہاں کا حاکم مقرر کیا گیا۔ یہ وہی طارق بن زیاد ہے جس کے نام سے جبل الطارق (جبرالٹر) موسوم ہے۔ اس نے آبنائے جبرالٹر کے مقام پر سمندر کو عبور کیا اور اندلس میں داخل ہو کر اس کا بڑا حصہ فتح کر ڈالا۔ اس کے بعد اسپین کی تقریباً آدھی آبادی مسلمان ہو گئی مگر بعد کو جب

مسلمانوں کے باہمی اختلاف کے نتیجہ میں مسیحی دوبارہ اسپین میں غالب آگئے تو انھوں نے چاہا کہ اسپین سے اسلامی تاریخ کو بالکل مٹا دیں۔ انھوں نے زیرِ دست مظالم کئے چنانچہ مجبور ہو کر یہاں کے مسلمان یا تو ملک چھوڑ کر بھاگ گئے یا دوبارہ مسیحی بن گئے۔

مراکوس فرانسیسی ۱۹۰۱ء میں داخل ہوئے۔ انھوں نے ۱۹۱۲ء تک مراکیر پر باقاعدہ قبضہ کر لیا۔ اسی دوران اسپینی بھی مراکو کے اس حصہ میں داخل ہوگئے جو ان کے قریب سمندر کی دوسری طرف تھا۔ ۱۹۵۶ء میں فرانس اور اسپین دونوں سلطان کے حق میں اپنے اقتدار سے دست بردار ہوگئے۔ اب مراکو مکمل طور پر ایک آزاد ملک ہے۔

راقم الحروف نے مراکش (مراکو) کا نام سب سے پہلے بچپن میں شبلی نعمانی کی نظموں کے ذریعہ سنا تھا۔ پہلی جنگِ عظیم میں مراکش پر مغربی قوموں کا قبضہ ہوگیا تو شبلی نعمانی نے ایک نظم میں کہا تھا: مراکش جا چکا فارس گیا اب دیکھنا یہ ہے کہ جتیلا ہے یہ ترکی کا مریض سخت جاں کب تک مراکش (مراکو) اور فارس (ایران) اگرچہ آج مغربی اقوام کے سیاسی قبضہ سے آزاد ہو چکے ہیں۔ مگر یہ کہنا مشکل ہے کہ انھوں نے مغربی تہذیب کے قبضہ سے نکلنے میں بھی کامیابی حاصل کر لی ہے۔

مراکش (رتبشدید المرر) یہاں کا ایک قدیم شہر ہے۔ یورپی لوگ اکثر اسی نام کی نسبت سے یہاں کی حکومت کو حکومت مراکش کہتے تھے۔ اس طرح مراکش پورے ملک کے لئے بھی بولا جانے لگا۔ یہی لفظ بعد کو خود اور یورپیوں کے اثر سے بگڑ کر اکو (Morocco) بن گیا۔ مراکو در اصل مارکس کی بدلی ہوئی مغربی شکل ہے۔ مراکو ہی وہ ملک ہے جہاں سے گزر کر مسلمان یورپ میں داخل ہوئے تھے۔

۲۲۴ نومبر ۱۹۸۴ء کو صبح سویرے ایر انڈیا (Air India) کے ذریعہ دہلی سے روم کے لئے روانگی ہوئی۔ جہاز کی ایجاد نے موجودہ زمانہ میں دور دراز مقامات کے سفر کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ مگر خود ہوائی کمپنی کے لئے یہ صنعت براہ راست نفع بخش نہیں۔ بالواسطہ نفع کی بنیاد پر آج تقریبا تمام ملکوں نے اپنی ہوائی کمپنیاں قائم کر رکھی ہیں۔ مگر اکثر ہوائی کمپنیاں خسارہ پر چل رہی ہیں۔ اس کی ایک خاص وجہ ہوائی مسافروں کی کمی چنانچہ اکثر جہاز اپنی وسعت سے کم مسافر لے کر چلتے ہیں۔ اس سے مستثنی صرف وہ ہوائی جہاز ہیں جو خلیج کے مسافروں کو لے کر چلتے ہیں۔ کیوں کہ اس علاقہ میں پچھلے برسوں میں سفر بہت بڑھ گیا ہے۔ جہاز کے اندر مختلف اخبار اور رسائل پڑھنے کو ملے۔ ٹائم میگزین (۱۹ نومبر ۱۹۸۴) کو الیکشن اسپیشل کے طور پر چھاپا گیا ہے۔ اس میں بہت سی دل چسپ باتیں تھیں صفحہ ۴۹ پر امریکہ کی لیے ممرا نڈیل (Mondale) کا ایک قول درج تھا:

We're dealing with real problems, and we want real answers. This is not Hollywood. ہم حقیقی مسائل سے نمٹ رہے ہیں اور ہم حقیقی جوابات چاہتے ہیں۔ یہ ہالی وڈ نہیں ہے۔ ہالی وڈ امریکہ کی فلمی دنیا کا نام ہے۔ فلم کی دنیا میں طرح طرح کے کردار ادا کئے جاتے ہیں مگر وہ سب کے سب غیر حقیقی ہوتے ہیں۔ امریکہ کے لوگ ہر قسم کی طاقت رکھنے کے باوجود یہ جانتے ہیں کہ فلمی دنیا وال کارکردگی دکھانے سے حقیقی دنیا میں نتائج نہیں نکل سکتے۔ مگر اسی دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جن کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ اس کے باوجود وہ فلمی دنیا جیسے ڈرامے دکھا کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ حقیقی زندگی میں کامیابی کا ہمالیہ پہاڑ بنالیں گے۔

ان دنوں روس کے بچوں کے تھیٹر کے ڈائرکٹر پچنیکوف (Gennady M. Pechnikov)

ہندوستان آئے ہوئے تھے۔ پیٹریاٹ (۲۴ نومبر ۱۹۸۸) میں ان کا ایک بیان شائع ہوا تھا۔ اس میں انھوں نے رامائن اور مہا بھارت پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ اس سلسلہ میں یہ جملہ بھی تھا : Ramayana is much more than a religious book. It reflects man's eternal quest for truth. رامائن کی حیثیت مذہبی کتاب سے بہت زیادہ ہے۔ وہ خارجی دنیا میں انسان کی تلاش حق کی عکاسی

پنچینکوف نے یہ بات اس لئے کہی کہ وہ اپنے اشتراکی ذہن کی وجہ سے مذہب کو صرف ایک مفروضہ روایت سمجھتے ہیں۔ اگر وہ مذہب کی حقیقت کو جانتے تو انھیں معلوم ہوتا کہ مذہب اور سچائی دونوں ہم معنی انسان کی تلاش حق کے صحیح جواب ہی کا دوسرا نام مذہب ہے۔

دہلی سے ٹھیک ساڑھے چھ بجے صبح کو روانگی ہوئی۔ نو گھنٹے کی مسلسل پرواز کے بعد بہار ا جہاز روم دہلی سے روم کا فاصلہ سات ہزار کلومیٹر سے کچھ زیادہ ہے۔

میں اگلے جہاز کے انتظار میں روم کے بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر تھا۔ میرے سامنے ہوائی اڈہ کا وسیع میدان پھیلا ہوا تھا۔ ایک کے بعد ایک جہاز روانہ ہورہے تھے۔ ابتداء وہ کھڑے ہوئے نظر آتے پھر وہ متحرک ہو کر تیز دوڑنے لگتے۔ پھر وہ فضا میں بلند ہو کر اڑنے لگتے۔ بظاہر ہر جہاز ایک بے جان مادہ کا مجموعہ ہے مگر یہی بے جان مادہ متحرک ہو کر تیزی سے چلنے لگتا ہے۔ ”یہ واقعہ بھی موسیٰ کے عصا کے عیب نہیں، “ میں نے سوچا ”وہ اندھے لوگ تھے جن کو عصا کا معجزہ دکھانے کی ضرورت پیش آئی۔ ورنہ یہاں کائنات کی ہر چیز معجزہ ہے۔ حضرت موسیٰ کی لاٹھی کا متحرک

ہو کر زمین پر چلنے لگتا جتنا عجیب ہے اتنا ہی عجیب یہ بھی ہے کہ بے حرکت مادہ ایسی سواریوں میں تبدیل ہو جائے جو دوڑتی ہیں، جو اڑتی ہیں۔ جو تیز رفتاری کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہیں۔ ہے کہ ان کو بھی وہی خدا چلا رہا ہے جس نے موسیٰ کے عصا کو چلایا تھا۔

اس حقیقت کی طرف خود قرآن میں اشارہ موجود ہے۔ حضرت موسیٰ کے عصا کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ ہیں کہ : فاذ اھی حية تسعی اور عام چیزوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ يخرج الحیٰ من المیت ان دونوں آیتوں کے الفاظ الگ الگ ہیں۔ مگر دونوں آیتیں ایک ہی حقیقت کو بتا رہی ہیں۔ روزمرہ کے مشاہدہ میں مادہ کا زندہ چیز بن کر چلنے لگنا بھی اسی خدا کی قدرت کا کرشمہ ہے جس کے حکم سے ایک لاٹھی سانپ بن کر چلنے لگی تھی۔

روم میں چند گھنٹے قیام کے بعد ایر مراک ( ۹۵۵) کے ذریعہ آگے کے لئے روانگی ہوئی. بشام کو میں کیسا بلانکا پہنچا ۔ یہ مراکو کا سب سے بڑا شہر ہے. اس کا کچھ حصہ پرانے وضع کا ہے اور کچھ جدید وضع پر بنایا گیا ہے. یہ اس ملک کا تجارتی مرکز ہے۔ بیرونی ملکوں کے لوگ کثرت سے یہاں آتے ہیں، تجارت کے لئے بھی اور سیاحت کے لئے بھی۔

کیسا بلانکا اٹلانٹک کے عین ساحل پر واقع ہے۔ اس کا قدیم عربی نام الدار البيضاء ہے۔ کے زمانہ میں وہ کیسا بلانکا (Casablanca) کے نام سے مشہور ہوا۔ دونوں لفظوں کے ایک ہی معنی ہیں ۔ الدار البيضاء عربی لفظ ہے اور کیسا بلانکا اسی کا ہسپانی مترادف ہے۔ کیسا بلانکا میں میرا قیام ہوٹل سفیر (روم ۱۲۰۷ میں تھا۔ یہ ہوٹل اٹلانٹک کے ساحل کے قریب ہے۔ یہاں سے اٹلانٹک کی موجیں صاف دکھائی دیتی ہیں۔ جب اس پر نظر پڑی تو یہ سوچ کر میری عجیب کیفیت ہوئی کہ یہی وہ سمندر ہے جس کے دوسری طرف کھڑے ہو کر طارق بن زیاد نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا: البحر وراءكم والعدو امامكم (سمندر تمہارے پیچھے ہے اور دشمن تمہارے آگے ہے) پھر یہیں سے گزر کر طارق بن زیاد اسپین میں داخل ہوا اور یورپ میں اسلام کی تاریخ کا آغاز کیا۔ اگرچہ مسلمانوں کے باہمی اختلافات کی وجہ سے یہ پیش قدمی زیادہ دور تک نہیں پہنچ سکی۔ تاہم یہ تاریخ مسلمانوں کو بہت بڑا سبق دے رہی ہے۔ یہ کہ انہیں کیا کرنا چاہئے اور یہ بھی کہ انہیں کیا نہیں کرنا چاہئے تاکہ ان کی قوتیں اسباب کی اس دنیا میں بے نتیجہ ہو کر نہ رہ جائیں۔

۲۵ نومبر کو میں ہوٹل کے باہر کی سڑک پر ٹہل رہا تھا کہ پریس کے ایک آدمی سے ملاقات ہوئی، اس نے عربی میں بات شروع کی۔ مجھے اس کے لہجہ کو سمجھنے میں دقت پیش آئی۔ میں نے اس سے اپنا کلام دہرانے کے

وہ ہنستے ہوئے بولا کہ یہ تو ہم فصیح عربی زبان میں بولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ہم مراکو کے لہجہ میں عربی بولیں تو وہ آپ بالکل نہیں سمجھ سکیں گے۔ اس کے بعد وہ مراکو کے لہجہ میں بولنے لگا تو مجھے ایسا معلوم ہو گیا وہ عربی کے علاوہ کوئی اور زبان بول رہا ہے۔

حضرت علی کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف عرب قبائل سے ان کی اپنی بولی میں گفتگو کرتے تھے اور ہم اس کو بالکل سمجھ نہیں پاتے تھے۔ یہ صورت حال اسی لہجہ کے فرق سے پیدا ہوتی تھی۔ لہجہ کا فرق سننے والے کے لئے ایک زبان کو ایسی زبان بنا دیتا ہے جیسے وہ کوئی دوسری زبان ہو۔ ہندوستان میں میں پچھم کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا تھا۔ مراکو میں اس کے برعکس پورب کی طرف رخ کر کے نمازیں ادا کیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ مراکو قبلہ کے دوسری سمت میں واقع ہے۔ اس سفر نے مجھے زمین کے ایک طرف سے اٹھا کر اس کی دوسری طرف پہنچا دیا تھا۔ مراکو میں اس طرح نماز پڑھتے ہوئے اچانک یہ احساس ہوا کہ مسلمان "پورب" اور "پچھم" کا پابند نہیں، وہ صرف "قبلہ" کا پابند ہے۔ دنیا اس رخ پر جارہی ہو یا اس رخ پر، ہمارے لئے لازم ہے کہ ہم خدا کے رخ پر قائم رہیں، ہم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے کبھی نہ ہٹیں۔

کیسابلانکا میں شہر کے اندرونی حصوں میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی جو یہاں کا باشندہ ہے مگر وہ صرف فرانسیسی میں بول سکتا تھا۔ عربی زبان بولنے پر قادر نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ یہاں کچھ ایسے خاندان بھی ہیں جو فرانسیسی کے سوا کوئی اور زبان نہیں جانتے۔ یہ فرانس کے دور اقتدار کی نشانی ہے ۔ یہاں ٹیلی وژن سے لے کرز ہان اور فرنیچر ہر چیز پر فرانسیسی تہذیب کا غلبہ نظر آتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں اسلام پس منظر میں جاتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ جیسے کہ وہ ایک تاریخی روایت بن گیا ہو۔ کیسابلانکا کی مختلف سڑکوں سے گزرنے کا اتفاق ہوا۔ مگر سڑک پر کوئی مسجد یا منارہ دکھائی نہیں اذان کی آواز بھی کسی وقت سننے میں نہیں آئی۔ سڑکوں پر ہوٹل اور رینک اور د فاتر کی بڑی بڑی عمارتیں کھڑی ہوتی ہیں۔ مگر ان کے درمیان کہیں مسجد ابھری ہوئی نظر نہ آئی۔ بعض لوگوں نے بتلایا کہ مسجدیں سڑکوں کے پیچھے پائی جاتی ہیں۔ تاہم وہ زیادہ شاندار نہیں ہیں۔

ہندوستان سے نکل کر ہم بہت سے ملکوں سے گزرتے ہوئے مراکو پہنچے۔ مثلاً خلیج عرب کے ممالک ، شام ترکی، یونان، اٹلی وغیرہ۔ ان ملکوں میں سے کسی کا میرے پاس ویزا نہیں تھا۔ جب کہ مراکو میں داخلہ کے لئے مجھے نئی دہلی کے سفارت خانہ سے باقاعدہ ویزا لینا پڑا۔

اس فرق کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مراکو میں میں زمینی مسافر تھا اور یہاں مجھ کو قیام کرنا تھا۔

جب دوسرے ملکوں کا میں نے صرف ہوائی سفر کیا اور ان کی زمین پر نہیں اترات— اگر آپ کسی شخص یا قوم کے اوپر اور پر گزر جائیں تو وہ آپ سے تعرض نہیں کرتا لیکن اگر آپ اس کی حقیقی زندگی میں داخل ہونے کی کوشش کریں تو وہ تعرض کرے گا اور آپ کے خلاف رکاوٹیں ڈالے گا۔

قوموں کا یہ مزاج زندگی میں کامیابی کا نہایت گہرا اصول دیتا ہے۔ یہ کہ آدمی لوگوں کو چھیڑے بغیر، اپنا کام کرے۔ وہ اپنا منصوبہ اس طرح پورا کرے کہ وہ لوگوں کو بالکل بے ضرر معلوم ہو۔ شاید یہی وہ بات ہے جس کو حضرت مسیح نے ان لفظوں میں فرمایا تھا ”تم سانپ کی مانند ہوش یار اور کبوتر کی مانند بے آزار بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے مسلمان اس کے برعکس ثابت ہوئے ہیں کہ ان کے لیڈر ضر ر رسانی سے اپنے کام کا آغاز کرتے ہیں۔ دین کے نام پر قتل، دین کے نام پر نفرت، دین کے نام پر جھگڑوں اور ہنگاموں نے اکثر ملکوں میں دینی کام کرنے کو انتہائی دشوار بنا دیا ہے۔

افریقہ کے ایک صاحب جو کیسا بلا نکا کی اسلامی کانفرنس میں شریک ہوئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے ملک میں مسلمان چوں کہ عام طور پر پر امن ہیں اور وہ بڑی حد تک سیاست سے الگ رہتے ہیں، اس لئے وہاں تبلیغ اسلام کے کام پر کوئی پابندی نہیں۔ یہاں اگر چہ عیسائی حکومت ہے مگر وہ اس کی پروا نہیں چاہے سارے لوگ اسلام سے نکل جائیں یا سارے لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں (الحكومة لا تهتم بذلك فليخرجوا كلهم ويدخلوا كلهم) یہی صورت حال تقریباً پورے افریقہ میں ہے۔

اس صورت حال نے افریقہ کے عظیم براعظم میں اس کا امکان پیدا کر دیا ہے کہ یہاں بغیر روک ٹوک اسلام کی اشاعت کی جاسکے۔ اگر چہ عملاً ابھی اس امکان کو بہت کم استعمال کیا جا سکا ہے۔ میں مسلمان اپنے خلاف جھوٹی رکاوٹیں کھڑی کرکے دینی کام کی راہ میں مشکلات پیدا کئے ہوئے ہیں۔ ملکوں میں اپنی غفلت کی وجہ سے مواقع کو استعمال کرنے سے محروم ہیں۔ نتیجہ دونوں جگہ یکساں ہے۔ اگر چہ ایک مقام پر ایک سبب سے اور دوسرے مقام پر دوسرے سبب سے۔

میرے پاس کانفرنس کی طرف سے جو ٹکٹ آیا تھا اس میں ۲۲۴ نومبر کا پیشگی رزرویشن تھا۔ نے سمجھا کہ شاید ۲ نومبر سے کارروائی شروع ہونے والی ہے۔ چنانچہ رزرویشن کے مطابق ۲۴ نومبر کو دہلی سے روانہ ہو کر اسی دن شام کو کیسابلانکا پہنچ گیا۔ یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ اصل کارروائی ۲۸ نومبر سے شروع اس طرح مجھے تین دن ( ۲۵ - ۲۶ - ۲۷ نومبر) غیر ضروری طور پر کیسابلانکا میں گزارنے پڑے۔ تین دن اگر چہ مجھے ” فاؤنسٹار ہوٹل“ میں گزارنا تھا۔ مگر یہ تین دن اتنی مشکل سے گزرے کہ ایسا معلوم

ہوتا تھا کہ تین صدیاں گزر گئیں۔ میں نے آئینہ میں اپنے آپ کو دیکھا تو مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میرے بالوں کی سفیدی میں کچھ اضافہ ہو گیا ہے۔ جن لوگوں کے سامنے کوئی بر تر مقصد نہ ہو ان کے لئے اس طرح کے ایام تفریح کے ایام ہوتے ہیں۔ مگر ایک با مقصد انسان کے لئے تین دن یقیناً تین صدیوں سے کم نہیں۔ وہ چیز جس کو فائیو اسٹار ہوٹل کہتے ہیں حقیقتاً ایئر کنڈیشنڈ جیل خانہ کا دوسرا نام ہے۔ ایسے میرے لمحوں میں آدمی کو ایک ایسے ماحول میں بند کر دیا جاتا ہے جہاں ہر چیز مصنوعی ہوتی ہے۔ دھوپ کی جگہ بجلی ، ہوا کی جگہ ایئر کنڈیشنر ، گھاس کے فرش کی جگہ قالین ، سبزہ کی جگہ پلاسٹک کے پھول اور پودے ۔ چڑیوں کے نغمے کی جگہ انسانی موسیقی ، نیلے آسمان کی جگہ منقش چھت ، غرض ہر چیز مصنوعی طور پر فراہم کی جاتی ہے۔ بڑے شیشوں کے پیچھے سے قدرت کے مناظر دیکھتا ہے مگر وہ ان سے براہ راست مربوط نہیں ہو سکتا ۔ مجبور ہوتا ہے کہ قدرت کے مشینی بدل کے اندر محبوس ہو کر اپنے صبح و شام گزارتا رہے۔ ہوٹل سفیر میں میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ اس کے اندر کوئی کھلی ہوئی جگہ ہے جہاں قدرتی ہوا اور دھوپ مل سکے۔ انھوں نے مسکرا کر کہا کہ میرا خیال ہے کہ نہیں۔ انھوں نے ہر قدرتی چیز کو بند کر رکھا ہے (هو قفل و اغلقی مفتی) تلاش و جستجو کے بعد بالآخر میں نے ایک جگہ ڈھونڈ نکالی اور وہاں جا کر دھوپ اور کھلی ہوا میں بیٹھنے لگا۔ میرے ساتھ ایک اور صاحب تھے انھوں نے کہا آپ کو اس قسم کا ماحول بہت پسند ہے۔ میں نے کہا ، اس میں مجھے ایک قسم کا ربانی لمس محسوس ہوتا ہے۔

اس کا فرانس میں مختلف ملکوں اور براعظموں کے لوگ شرکت کے لئے آئے تھے۔ میں نے افریقہ کے ایک صاحب سے افریقہ کے مسلمانوں میں جدید تعلیم کے بارہ میں دریافت کیا۔ انھوں نے کہا کہ تعلیم ان میں آئی ہے مگر ابھی اس معاملہ میں وہ اپنے پڑوسی عیسائیوں سے بہت پیچھے ہیں۔ میں نے وجہ پوچھی تو انھوں نے کہا کہ ماضی میں ہمارے لوگوں کا خیال یہ ہو گیا تھا کہ تعلیم ایک ایسی چیز ہے جو آدمی کو ایمان سے دور کر دیتی ہے (التعلیم شئ یبعد الرجل من الایمان) یہی حال ہندوستان میں بھی مسلمانوں کا ہوا ہے۔

جن بزرگوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم سے روکا وہ اگر چہ نیک نیت تھے۔ مگر ان کی غلطی یہ تھی کہ وہ جدید تعلیم کی نوعیت کو سمجھ نہ سکے۔ مثال کے طور پر اگر وہ کیونزم کی تعلیم سے روکتے تو یہ صحیح ہوتا کیونکہ کیونزم ذہن کے فساد کا دوسرا نام ہے۔ مگر انھوں نے سائنس کی تعلیم سے بھی مسلمانوں کو دور رکھنے کی کوشش کی ، حالانکہ سائنس موجودہ زمانہ میں قوت کے ہم معنی تھی۔ سائنس کی تعلیم میں پیچھے ہونے کی وجہ سے مسلمان دور جدید میں کم از کم سو سال پیچھے ہو گئے۔ مسلمانوں کے پاس اگر چہ قدرتی ذخائر کی کثرت ہے۔ مگر دوسری قومیں ان کا

استغلال کر رہی ہیں اور اپنی تعلیمی پس ماندگی کی وجہ سے وہ ان کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے۔ کیسا بلانکا میں شراب اور نائٹ کلب تک کی آزادی ہے۔ نیو رک کی دکان بھی نظر آئی۔ یہاں مغربی سیاح کثرت سے آتے ہیں۔ یہ سیاحوں کا شہر بن گیا ہے۔ ایک عرب اپنی بیوی اور دو چھوٹے بچوں کے ساتھ آئے اور ہوٹل سفیر میں مقیم ہوئے وہ غالباً سیاحت کی غرض سے یہاں آئے تھے۔ میں نے دیکھا تو ان کے بیوی بچے فیشن کے سامان اور جدید طرز کے کھلونو ں سے لدے ہوئے تھے۔ ایک موقع پر ان عرب صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ جدید مادی تہذیب کے خلاف بے تکان بولنے لگے۔ میں نے سوچا کہ وہ لوگ بھی کیسے عجیب ہیں جو خود تو عملاً اپنے پورے خاندان کے ساتھ مادی تہذیب میں غرق ہیں اور زبان سے اس کے خلاف تقریر کرنے میں مشغول ہیں۔

یہی موجودہ زمانہ میں اکثر پڑھے لکھے مسلمانوں کا حال ہو گیا ہے۔ وہ جدید مادی تہذیب کے خلاف خوب لکھتے اور بولتے ہیں مگر ان کے گھر کو اور ان کے بیوی بچوں کو دیکھئے تو سراپا مادی تہذیب میں ڈوبے ہوئے نظر آئیں گے۔ حتی کہ ایک مسلمان جو میرے ساتھ ہوائی جہاز میں میرے بغل کی سیٹ پر تھے، انھوں نے ہوائی جہاز کی ضیافت کو قبول کرتے ہوئے شراب لی۔ اتفاق سے وہ بھی اسی ہوٹل سفیر میں آکر ٹھہرے ۔ کے دوران ان سے گفتگو ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ آجکل مسلمانوں کے معاملات بالکل غیر اسلامی ہو گئے ہیں" ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ مسلمانوں کے لئے اسلام بھی مختلف فیشنوں میں سے ایک فیشن بن گیا ہے۔ ہر مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ وہ خود جو چاہے کرے۔ اس کو اپنے آپ پر اسلام کو نافذ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کی اسلامیت کے ثبوت کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ دوسروں کی غیر اسلامی روش پر لکھنے اور بولنے کی لاناتاہی صلاحیت رکھتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسلام پر لکھنے اور بولنے والے بے شمار تعداد میں پیدا ہو گئے ہیں مگر لوگوں کا یہی وہ تضاد ہے جس نے ان کی تمام کوششوں کو بالکل بے نتیجہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ کیسا بلانکا میں چڑیاں کافی نظر آئیں۔ مگر یہ سب سمندری چڑیاں تھیں ۔ جانور ہمیشہ اپنے ماحول کی مناسبت سے جمع ہوتے ہیں۔ سمندری ماحول میں سمندری چڑیاں، صحرائی ماحول میں صحرائی چڑیاں اور سر سبز پہاڑوں کے ماحول میں پہاڑی چڑیاں۔ یہی حال انسانوں کا بھی ہے۔ وہ بھی اپنے اپنے ذوق کے مطابق جمع ہوتے ہیں۔ اگر آپ اپنی تحریک کے ساتھ سیاست کی چاشنی لگا دیں تو سیاسی ذوق کے لوگ جوق در جوق آپ کے پاس اکٹھا ہو جائیں گے۔ اگر آپ کی تحریک کے ساتھ تصوف کی غذا موجود ہو تو برکت تلاش کرنے والوں کی بھیڑ آپ کے گرد نظر آنے لگے گی۔

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو کینیا سے اس اجتماع میں شرکت کے لئے آئے تھے۔

عمر ابھی ۳۷سال ہے۔ مگر کم عمر ہونے کے باوجود انھوں نے وہ کام کیا ہے جو بڑوں کے کام سے زیادہ ان کا نام پتہ یہ ہے :

Shariff Salim Shariff Hussein P. O. Box 128, Marsabit, Kenya, E. Africa آجکل کی زبان ہیں وہ کوئی معروف و مشہور آدمی نہیں مگر انہوں نے بہت قابل قدر کام انجام دیا ہے۔ جناب شریف سالم شریف حسین نے بتایا کہ وہ پہلے راجدھانی نیروبی میں رہتے تھے۔ وہاں ان کے لئے ذاتی اعتبار سے بہت مواقع تھے۔ مگر انہوں نے سیں کیا کہ شہروں سے کام کرنا مکان کو گویا چھت کی طرف سے تعمیر کرنا وہ نیروبی چھوڑ کر ایک ہزار کلو میٹر دور ایک گاؤں مر سابت چلے گئے۔ وہاں اس وقت ان کے لئے کچھ بھی نہ تھا۔ انہوں نے خود اپنے ہاتھ سے بنیاد کھود کر ایک مدرسہ اور مسجد بنایا۔ انہوں نے کچھ ساتھیوں کو جوڑ کر یہ کوشش کی کہ لوگوں کے ذہن کو جگائیں۔ انھوں غریب بچوں کے کپڑے فراہم کئے ۔ ضرورت مند کسانوں کو مویشی خرید کر دئے اس علاقہ کے لوگ بہت غریب ہیں۔ مگر انہوں نے لوگوں کے اندر حوصلہ پیدا کیا کہ تمہارے ہاتھ پاؤں تمہاری سب سے بڑی دولت ہیں مثلاً وہ ایک گاؤں میں گئے۔ گاؤں والوں نے کہا ہمارے یہاں نہ مسجد ہے اور نہ مدرسہ ۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے پاس سب تمہارے پاس پانی ہے۔ مٹی ہے پتھر ہے لکڑیاں ہیں۔ اور خدا کے دئے ہوئے ہاتھ میں ان کا استعمال چنانچہ ان کی تحریک سے لوگوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اینٹ تیار کی اور لکڑیاں جمع کیں اور تھوڑی سی سینٹ خرید کر خود اپنی محنت سے ایک مسجد اور مدرسہ کھڑا کر دیا۔

یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا " یہ مسجد اور مدرسہ اگر کسی بیرونی ملک کے ڈالنے بنا ہوتا تو کسی کو اس سے دل چسپی نہ ہوتی ۔ مگر آج گاؤں والوں کو اس کی ایک ایک اینٹ سے محبت ہے کیونکہ اس اینٹ کو انھوں نے خود اپنا پسینہ بہا کر بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ پورا علاقہ اس سے پہلے پس ماندہ ریت میں پڑا ہوا تھا مگر آج اس کو ہمارے گاؤں نے جگا دیا ہے (وکن قريت نا هذا الان

وہ تعلیم، تعمیر، دعوت اور اصلاح ہر میدان میں کام کر رہے ہیں انھوں نے اس کی جو تفصیل بتائی اس کو لکھنے کے لئے ایک پورا مضمون چاہئے تا ہم اس کو سن کر میرے دل نے کہا کہ یہی غیر معروف لوگ ہیں جو دراصل اسلام کو قائم رکھے ہوئے ہیں، ورنہ جہاں تک معروف اور مشہور لوگوں کا تعلق ہے انہوں نے تو اسلام کے نام پر اپنی شخصیت کی تعمیر کی ہے نہ کہ خود اسلام کی۔

۲ نومبر کو جب میں صبح ۴ بجے سوکر اٹھا تو اچانک خیال آیا کہ اگر دنیا سے ہوائی جہاز کا نظام ختم ہو جائے پانی کے پیشینی جہاز میں موجود نہ رہیں تو میں کیسا بلا مکاسے ڈرٹی کس طرح واپس جاؤں گا۔ اگر خدا نخواستہ ایسا ہو جائے تو اتنا دور دراز سفر طے کر کے دوبارہ میرے لئے اپنے وطن واپس پہنچنا ممکن نہ ہوگا۔ اگر میں کسی طریقہ سے واپس روانہ ہوں تو شاید راستہ ہی میں مر جاؤں گا۔ غالب گمان یہ ہے کہ میرے مرنے کی خبر بھی میرے گھر والوں کو نہ ملے گی۔

ہمارے وہ اسلاف کیسے عجیب لوگ تھے جنھوں نے پیشینی انقلاب سے پہلے خدا کے دین کو سارے عالم اس مقصد کے لئے انھوں نے کیا کیا مشقتیں اٹھائی ہوں گی، آج کے ایک انسان کے لئے ان کا اندازہ کرنا بھی ممکن نہیں۔ دین کا جو کام انھوں نے محنتوں کے ذریعہ کیا اس کو آج ہم سہولتوں کے ذریعہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

ریاض کے اخبار الشرق الاوسط (۲۸ نومبر ۱۹۸۳ء) میں ایک مضمون اسرائیل کے بارہ میں تھا۔ میں یہ قصہ درج تھا کہ ایک عرب خاتون اسرائیل کے زیر قبضہ علاقہ سے باہر جا رہی تھی۔ سرحد پر ایک واقعہ گزرا جو اخبار کے الفاظ میں یہ تھا :

قال لہا الضابط الاسرائيلي، و بين اسرائیلی فوجی نے کہا کہ اے عورت تو کہاں جا رہی ہے۔ رايحة يا همق (الى اين انت ذاهبة يا أهل ہی) اس نے جواب دیا کہ میں کویت جا رہی ہوں، اپنے قالت له انها ذاهبة الى الكويت لزيارة ابنائها بچوں سے ملنے کے لئے۔ فوجی نے کہا کہ ان سے میرا سلام قال لها، سلمي عليهم وقسولي لهم سنكون عندئم کہنا اور ان سے کہنا کہ ہم جلد ہی ان کے یہاں ہوں گے۔ ایک صاحب لندن سے آئے تھے۔ وہ خود تو اردو نہیں جانتے تھے مگر وہ میرے لئے کچھ اردو اخبارات کا تحفہ لائے تھے جو پاکستانی حضرات لندن سے شائع کرتے ہیں۔ ان کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوا جیسے یہ اخبارات نہیں ہیں بلکہ قوم کی موت کا مرثیہ ہیں۔ دو سرخیاں ملاحظہ ہوں :

۱ جشن میلاد النبی پر لندن میں فرزندان توحید کا فقید المثال جلوس عاشقان رسول کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ( وطن ۲۶ نومبر ۱۹۸۳)

۲ پاکستان بھارت سے مرعوب نہیں ہوگا۔

بھارت کو فوج کشی کا شوق ہے تو اسے پورا کر کے دیکھ لے (جنگ ۲۶ نومبر ۱۹۸۳) یہ دونوں سرخیاں ان اخبارات کی شاہ سرخیاں ہیں۔ جس قوم کے دانشوراتنے سطحی ہو جائیں کہ اس قسم کی سرخیوں کے ساتھ اخبار نکالیں اور جس قوم کے عوام اتنے بے شعور ہوں کہ اس قسم کی خبروں اور سرخیوں کو

پڑھ کر خوش ہوتے ہوں ان کو تاریخ کے تھیٹر میں شاید جگہ مل سکتی ہو، مگر حقیقی دنیا میں بہر حال وہ جگہ پانے کے مستحق نہیں ہیں۔

یہ کانفرنس "اسلام کی عالمی دعوت" کے موضوع پر تھی۔ اس موقع پر مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ مگر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے لوگوں پر یہ بات واضح نہیں ہے کہ اسلامی دعوت خود کیا چیز ہیں۔ قطع نظر، سب کی باتوں کا خلاصہ یہ تھا کہ انھوں نے "مشاکل العالم اور مشاکل المسلمین" کے میدان میں کام کرنے کو اسلامی دعوت کا کام سمجھا اور اسی کے بارہ میں تقریریں کیں۔

میں نے اپنے مختصر اظہار خیال میں کہا کہ وہ چیز جس کو "الدعوۃ الاسلامیۃ" کہا جاتا ہے، اس کا تعلق دنیا کے مسائل سے نہیں بلکہ آخرت کے مسائل سے ہے۔ خدا نے جس منصوبہ کے تحت انسان کو پیدا کیا ہے اور اس منصوبہ کے مطابق بالآخر انسان کو جس فیصلہ الہی کا سامنا کرنا ہے اس سے لوگوں کو باخبر کرنا وہ چیز ہے جس کو اسلامی دعوت کہا گیا ہے۔ مسلمان موجودہ دنیا میں جن مشکلوں سے دوچار ہیں یا قومیں جن مسائل میں مبتلا ہیں ان کے سلسلے میں بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر اس کام کا عنوان دعوت الی اللہ نہیں۔ کانفرنس جس ہال کے اندر ہوئی وہاں جلی حرفوں میں قرآن کی یہ آیت لکھی ہوئی تھی : یا ایھا الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك وان لم تفعل فما بلغت رسالته والله يعصمك من الناس۔ اس آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آیت کے مطابق عصمت من الناس کو حاصل کرنے کا ذریعہ دعوت الی اللہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہمارے لیے جو یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے کہ ہم دوسری قوموں کے ظلم و تعدی سے محفوظ نہیں ہیں، وہ اس آیت کے مطابق دعوت الی اللہ کے کام کو چھوڑنے کا نتیجہ ہے۔ بذات خود اس کی کوئی مستقل حیثیت نہیں۔ اس لیے مسلمانوں کی مشکلات کو حل کرنے کا طریقہ بھی یہی ہے کہ دعوت الی اللہ کے اصل کام کو جاری کیا جائے۔

ایک صاحب سوئزرلینڈ سے آئے تھے۔ ان کے یہاں انگریزی الرسالہ پابندی سے بھیجا جا رہا ہے۔ وہ خود بھی سوئزرلینڈ سے ایک انگریزی ماہنامہ شائع کرتے ہیں۔ انھوں نے الرسالہ انگریزی کے بارے میں اظہار رائے کرتے ہوئے کہا کہ میں اور میرے ساتھی آپ کا میگزین شوق سے پڑھتے ہیں۔ اس میں مغز (Substance) ہوتا ہے۔ جب کہ مسلمانوں کے انگریزی اور عربی جرائد میں یہی چیز سب سے کم ملتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلم دنیا کا کوئی بھی پرچہ مجھے نہیں معلوم جس میں اتنا مغز (Substance) ہوتا ہو جتنا آپ کے انگریزی الرسالہ میں ہوتا ہے۔

ایک صاحب گامبیا سے آئے تھے۔ ان کو ہمارے یہاں کا چھپا ہوا تعارفی سٹ (انگریزی) بھیجا گیا

انہوں نے بتایا کہ یہاں کئی لوگوں نے اس کو پڑھا اور اتناز یاد ہ پسند کیا کہ ان کو بے حد اشتیاق ہو گیا کہ مصنف کو دیکھیں۔ وہ لوگ مزید انگریزی کتابوں کا شدت کے ساتھ تقاضا کر رہے ہیں۔ ان کے نام رسالہ انگریزی جاری کر دیا گیا ہے۔

ایک صاحب یوگوسلاویہ سے آئے تھے۔ انھوں نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں اور حالت یہ ہے کہ دنیا بھر میں پناہ گزینوں (لا پینٹوں) کی جو تعداد ہے، اس میں ۸۰ فی صد سے زیادہ مسلمان ہیں۔ یہ تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر وہ چیز طاری کر دی گئی ہے جس کو قرآن میں ذلت ومسكنت" کہا گیا ہے۔ ہم کو گہرائی کے ساتھ سوچنا چاہئے کہ مسلمانوں کا یہ حال کیوں ہے۔ مسلمان موجودہ زمانہ میں دوسری قوموں سے پیچھے کیوں ہو گئے۔

ایک صاحب جو کویت سے آئے تھے۔ انھوں نے موجودہ زمانہ کی مسلم تنظیموں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیمیں قرآن وسنت کی بنیاد پر اٹھی ہیں اس لئے ان کے پاس اچھے افکار کی کمی نہیں۔ مگر اس دنیا میں صرف فکر کافی نہیں بلکہ نظم اور منصوبہ بندی بھی لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس اعتبار سے ان تنظیموں کی حالت افسوس ناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک اسی لئے ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں کہ وہ منظم انداز سے کام اور ہم اس لئے پیچھے ہوگئے ہیں کہ ہمارا کام نظم و ترتیب سے خالی ہوتا ہے (وما تفوق الغرب منا الا بالانظام وما تأخرنا منه الا بالفوضي وعدم النظام)

ایک صاحب جو کناڈ اسے آئے تھے، انھوں نے بتایا کہ کناڈا کی کل ۲۵ ملین آبادی میں ڈیڑھ لاکھ انھوں نے بتایا کہ کناڈا میں مکمل آزادی ہے۔ کسی قسم کا کوئی تعصب نہیں ہے۔ دعوت کا کام کرنے کے زیر دست مواقع ہیں۔ مگر ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں نے وہاں اگر آپس کے مذہبی جھگڑے کھڑے کر دئے ہیں۔ وہاں دوسروں کی طرف سے ہمارے لئے کوئی مشکل نہیں مگر اپنوں کی طرف سے مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں ایک نئی مسجد بنائی گئی ہے جس کی مالیات کی فراہمی میں نے ۸۰ فی صد تک تعاون کیا تھا مگر جب مسجد بن گئی تو اس کے اندر شدید مذہبی جھگڑے کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ میں نے اور میری طرح بہت سے لوگوں نے اس مسجد میں جانا ہی چھوڑ دیا۔ انھوں نے بتایا کہ مغرب میں مسلمانوں کی تصویر بہت خراب ہے۔ ان کو امکانی دہشت پسند (Potential terrorists) کہا جاتا ہے۔ اس میں اگرچہ یہودی پروپیگنڈارے کا دخل ہے۔ مسلمانوں نے اپنے عمل سے بھی اس کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ اور یہ دوسرا پہلو یقینا زیادہ افسوس ناک

رابطہ الجامعات الاسلامیہ (ص۔ ب ۲۲۴، الرباط) ایک شش ماہی مجلہ شائع کرتا ہے۔ کے شمارہ ۱۵ میں کتاب العدد“ کے عنوان کے تحت حیات الصحابہ (مولانا محمد یوسف صاحب رحمتہ اللہ علیہ) پر تبصرہ تھا۔ کتاب کے ابواب کی تفصیل دیتے ہوئے تبصرہ نگار نے لکھا تھا کہ علماء کا قول ہے کہ قرآن کے بعد پیغمبر اسلام کا سب سے بڑا معجزہ آپ کے اصحاب کرام ہیں (ان اعظم معجزة للرسول بعد القرآن هو صحابته الكرام)

چنانچہ اصحاب رسول کے حالات پر کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مگر حیات الصحابہ اس اعتبار سےممتاز ہے کہ مصنف نے زندگی کے تمام مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے صحابہ کی زندگی کو بطور نمونہ مرتب کرنے کی کوشش اس طرح یہ ایک ایسی کتاب بن گئی ہے جس کی مثال کسی بھی دوسری کتاب میں نہیں ملتی (هكذا عاملوا سيرة الرسول وصحابته الكرام بطريقة لا نجدها في اي كتاب غيره)

تبصرہ نگار نے مزید لکھا ہے کہ ایک عرب شیخ اپنے طالب علموں کو مستقل طور پر اس کتاب کے مطالعہ پر ابھارتے رہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ : ان هذ الكتاب لم يؤلف على منواله في بابة يعني اس موضوع پر اس اسلوب میں اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔

ایک صاحب بڑے پر جوش تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے تمام مسائل کا حل جہاد ہے۔ جہاد سے ان کی مراد قتال تھی۔ میں نے کہا کہ امت کے رہنما اسی قسم کے جہاد میں تو سو سال سے لگے ہوئے ہیں۔ پھر مسائل حل کیوں نہیں ہوئے۔ انھوں نے قرآن سے قتال کی آیتیں پڑھنا شروع کیں ۔ میں نے کہا کہ جن لوگوں نے قرآن میں صرف قتال اور جہاد کی آیتوں کو پڑھا ہے انھوں نے قرآن کو پڑھا ہی نہیں ۔ قرآن اعراض کی بھی تعلیم دیتا ہے جس کی مثال مکی دور کی زندگی ہے۔ قرآن ایڈ جسٹ منٹ کی بھی تعلیم دیتا ہے جس کی ایک مثال صلح حدیبیہ ہے۔ قرآن قتال کی بھی تعلیم دیتا ہے جس کی مثال بدر اور احد کے واقعات ہیں۔ میں جو لوگ پہلی دونوں قسم کی تعلیمات بھول جائیں اور صرف قتال اور جہاد کی تعلیمات کو زور و شور کے ساتھ پیش کریں، ان کا یہ پیش کرنا ویسا ہی ہے جیسے بہت سے غیر اسلامی ذہن کے لوگ قرآن کی ایک آیت کھول لیتے ہیں اور اس سے اپنا مدعا ثابت کرتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں ہمارے جنگ جو رہنماؤں کا قرآن کو پانا ایسا ہی ہے جیسے مذکورہ غیر اسلامی لوگوں کا قرآن کو پانا۔

ایک عالی شان ہوٹل تھا ایک بہت بڑے سجے ہوئے کمرہ میں لوگ قیمتی صوفوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگ ہنس رہے تھے۔ سگریٹ اور مشروبات پی رہے تھے۔ بے فکری کے ساتھ ادھر اُدھر کی باتیں کر رہے تھے۔ میں نے کسی چیز میں حصہ نہیں لیا۔ بالکل خاموش میں ایک نشست پر بیٹھا ہوا تھا۔ ایک صاحب نے مجھے اس

حال میں دیکھ کر پوچھا کہ آپ کیوں اس طرح چپ چاپ بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں پھر بھی چپ رہا۔ ان کے بار بار سوال پر میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے لوگوں کا حال دیکھ کر اکثر میرا دل یہ کہنے لگتا ہے کہ : الناس يفرحون لكي لا يفرحوا بعد ذلك ابداً۔ (الناس يضحكون لكي لا تيسر لهم الضحك بعد

ایک موقع پر افریقہ میں قحط اور بھوک کے موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی۔ ایک صاحب جو آجکل کی زبان میں "چین اسموکر تھے، وہ ایک کے بعد ایک قیمتی سگریٹ سلگا رہے تھے۔ انھوں نے دھواں اڑاتے ہوئے کہا کہ آج کا اصل مسئلہ بھوک نہیں۔ آج کا اصل مسئلہ اسراف ہے۔ عرب دنیا میں آج جس طرح مسرفانہ طور پر خدا کی دولت خرچ کی جارہی ہے۔ اگر اس کو صحیح ڈھنگ پر خرچ کیا جائے تو ساری دنیا میں بھوک کا مسئلہ حل ہو جائے۔ میں خاموش بیٹھا ہوا لوگوں کو دیکھ رہا تھا جو سلطان چہروں کے ساتھ بھوک کے مسئلہ پر بے تکان بول رہے تھے۔ میرے دل نے کہا۔

" ہر آدمی دوسرے کی کیوں سے آخری حد تک باخبر ہے اور اپنی کیوں سے آخری حد تک بے خبر۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلام موجودہ زمانہ میں ایک فیشن بن گیا ہے۔ یہ بھی شاید ایک عالمی ظاہرہ کا ایک حصہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں ٹیکنیکل ترقیوں سے پیداشده سنگین مسائل نے بہت سے لوگوں میں یہ رد عمل پیدا کیا ہے کہ وہ " ماضی کی طرف واپسی" کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ انھیں میں سے ایک طبقہ وہ ہے جو مذہب کی طرف واپسی کی باتیں کرتا ہے۔ اس قسم کے لوگ ہر مذہب میں کثرت سے پیدا ہو گئے ہیں اسی طرح مسلمانوں میں بھی ایک گروہ پیدا ہو گیا ہے جو اسلام کی طرف واپسی کی باتیں کرنے لگا ہے۔ مگر یہ سب کچھ فیشن ان میں سے کوئی حقیقی معنوں میں سنجیدہ نہیں۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ لوگ جو " واپسی" کی باتیں کرتے ہیں ان کا تعلق صرف دوسروں کی واپسی سے ہوتا ہے۔ خود اپنی واپسی سے کسی کو کوئی دل چسپی نہیں۔ فاس (Fes) یہاں کا سب سے مشہور تاریخی شہر ہے۔ اس کو ادریس بن عبداللہ نے ۱۰۲ء میں آباد کیا تھا۔ اس وقت یہاں اسلام عمومی طور پر نہیں پھیلا تھا۔ ادریس بن عبداللہ جو سیاسی دارو گیر سے بھاگ کر یہاں آئے تھے۔ انھوں نے اپنی دعوتی کوششوں سے تقریباً پورے ملک کو مسلمان بنا ڈالا۔ ۳۰ نومبر ۱۹۸۳ء کو فاس کا سفر ہوا۔ صبح کے وقت کانفرنس کے شہر کا خصوصی طیارہ کے ذریعہ کیسا بلا نکا سے فاس لے جائے گئے۔ اور اسی دن شام کو کیسا بلا نکا واپس آگئے ۔ فاس کا شہر کیا بلانکا سے بذریعہ ہوائی جہاز پون گھنٹہ کی مسافت پر ہے فاس قدیم زمانہ میں علم کا بہت بڑا مرکز تھا۔ یہاں دور دور سے طلبہ آتے تھے۔

کہ ایک شخص کی عالمانہ باتوں کو سن کر، اس نے اس سے پوچھا، کیا تم نے فاس میں علم حاصل کیا ہے۔ اس نے کہا نہیں علم آدمی کی سر میں ہوتا ہے نہ کہ شہر فاس میں (بل تعلمت فی فاس۔ قال لا - العلم فی الرأس لا

جدید فاس موجودہ زمانہ کے شہروں کی طرح ہے۔ مگر قدیم فاس تاریخی آثار سے بھرا ہوا ہے۔ گزرتے ہوئے متعدد مسجدیں دکھائی دیں۔ یہاں کی مسجدوں کا طرز بالکل مختلف ہے۔ مینار صرف ایک ہوتا ہے جو ایک کونہ پر بنایا جاتا ہے۔

فاس مکمل طور پر ایک تاریخی شہر معلوم ہوتا ہے۔ یہاں قدیم طرز کی عمارتیں، شاہانہ نشست گاہیں، اور قلعے اس کی گزری ہوئی عظمت کی یاد دلاتے ہیں۔ یہاں کی مشہور جامعہ القرویین بھی دیکھی۔ یہ بہت بڑے رقبہ میں یونیورسٹی کے انداز پر بنائی گئی تھی۔ یہاں عظیم الشان مدرسہ اور اس کے ساتھ عظیم الشان مسجد ہے۔ زمانہ میں مسلمانوں کی بنائی ہوئی گھڑیاں، اصطرلاب وغیرہ آج بھی سیاحوں کی دل چسپی کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ تعمیرات قدیم اسپینی محلات کے طرز کی نظر آئیں۔

ہمارے گائڈ نے جامعہ القرووین کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس تعلیم گاہ کا معیار اتنا بلند تھا کہ یہاں صرف وہی شخص داخل ہو سکتا تھا جس کو مہارت حاصل ہو ( ولا يدخل فی هذا المركز الا من كان له مهارة العلم ) یورپ کے آئے ہوئے ایک صاحب سے میں نے ان کا تاثر پوچھا تو انھوں نے کہا: The glory which was Islam, has now become a tourist attraction."

جو چیز ماضی میں اسلام کی عظمت تھی وہ آج صرف سیاحوں کی دل چسپی کا مرکز بن کر رہ گئی ہے۔ ہم نے جمعہ کی نماز یہاں کی قدیم جامع مسجد میں پڑھی۔ اس کا طرز تعمیر بالکل وہی تھا جو اسپین کے الحمرا میں پایا جاتا ہے۔ فاس میں یہودیوں کا بھی ایک محلہ موجود ہے۔ یہ لوگ پہلے قدیم فاس میں تھے اب وہ جدید فاس میں آباد ہو گئے ہیں۔

اس سفر کی ایک ” دریافت “ روم ایئر پورٹ کے ایک اطالوی افسر تھے۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے: Bartolomeo, Via Scarperia 9, 00146, Rome, Italy انھوں نے جاتے ہوئے اور واپسی میں روم ایئر پورٹ پر غیر معمولی تعاون کیا۔ ساری تفصیل بیان کرنا مشکل ہے، صرف دو باتوں کا تذکرہ مناسب ہوگا۔ دہلی سے روم کے سفر میں ایئر انڈیا کی بوئنگ ۷۴۷ کے اکانومی کلاس اگر چہ بڑی حد تک بھری ہوئی تھی۔ مگر ۱۶ سیٹ کے فرسٹ کلاس کیبن میں میں اکیلا مسافر تھا۔

میں عجیب صورت پیش آئی۔ میرا رزرویشن روم سے کنفرم نہیں تھا۔ اور آج اتفاق سے گورنمنٹ آف انڈیا کے افسروں کی ایک جماعت اسی جہاز سے سفر کر رہی تھی، اس لئے بظا ہر سیٹ حاصل کرنا مشکل تھا، مگر مسٹر شیٹی کی دوبارہ مل گئے انھوں نے مجھ کو لاؤنج میں بٹھا دیا اور میرا ٹکٹ لے کر ایئر انڈیا کے دفتر میں گئے اور رزرویشن کنفرم کرا کے آئے۔

میری واپسی کی تاریخ کی دہلی خبر نہیں ہوسکی تھی ۔ ان سے میں نے ذکر کیا تو فورا انھوں نے میرا ٹیلیفون نمبر لیا اور کہا کہ ابھی میں دہلی کو ٹیکس بھیج دیتا ہوں کہ آپ کے گھر پر اطلاع دے دی جائے کہ آپ اتوار کی صبح کو ایئر انڈیا کی فلائٹ ۱۳۱ سے دہلی پہنچ رہے ہیں۔

مسٹر میشی نے جس اخلاق اور ذمہ داری کا ثبوت دیا وہ اس قدر معیاری تھا کہ مجھے تعجب ہوا کہ خود غرضی اور مقصدیت کی اس دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں۔ موصوف کے نام الرساله (انگریزی) اعزازی طور پر جاری کر دیا گیا ہے۔

یکم دسمبر ۱۹۸۴ کو کیسا بلانکا سے واپسی کے لئے روانہ ہوا۔ الیتالیا (۸۲۵) پر سفر کرتے ہوئے لندن کے اخبار ڈیلی گراف (۲۹ نومبر ۱۹۸۴) میں یہ خبر پڑھی کہ آکسفورڈ کے ۳۳ سالہ جان لیمبرٹ (John Lambert) نے اپنی تین لڑکیوں کو قتل کر دیا۔ اس نے اپنی بیوی کے نام آخری خط میں لکھا تھا کہ تم نے مجھ کو ایک محبت کرنے والے و فادار شوہر سے بدل کر قاتل بنا ڈالا۔ میں ہر چیز کا الزام صرف تم کو دیتا ہوں قاتل پکڑا گیا۔ اس کے بعد اس نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا؛

It's all to do with my wife going with other men.

خبر نامہ اسلامی مرکز - ۳۔

ادھیا تک فاؤنڈیشن ایک فنڈیشن ہے جس کے صدر ڈاکٹر سوامی پورن ہیں۔ ان کا بہت بڑا مرکز سوئزرلینڈ میں قائم ہے۔ نیز دنیا کے مختلف ملکوں میں اس کی شاخیں ہیں۔ ڈاکٹر سوامی پورن کیٹیلو کئی بار صدر اسلامی مرکز کے نام آیا کہ وہ موصوف سے ملنا چاہتے ہیں۔ ۲۲ دسمبر ۱۹۸۴ کی شام کو نئی دہلی کے ہوٹل سنٹور (سوئٹ نمبر ۵ ۲۰) میں سوامی جی اور صدر اسلامی مرکز کے درمیان تفصیلی تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کی گفتگو میں دونوں کے درمیان تبادلہ خیال ہوا۔ گفتگو کا موضوع خاص طور پر یہ تھا کہ "سچائی" کیا ہے اور وہ کون سا معیار (کریٹیرین) ہے جس سے جانچ کر سچائی کا سچائی ہونا معلوم کیا جاسکے۔ انشاء اللہ تعالی اس طرح کی ملاقاتوں کا پروگرام ہی کی دوسری مذہبی اور روحانی شخصیتوں کے ساتھ بھی بنایا جائے گا۔

انگریزی الالرسالہ خدا کے فضل سے دن بدن مقبولیت حاصل کرتا جا رہا ہے۔ تقریباً ہر روز کسی نہ کسی حلقہ کی طرف سے اس کی مثال سامنے آتی ہے۔ ۲ جنوری ۱۹۸۵ کو اچانک مصری سفارت خانہ کے کلچرل اتاشی مسٹر الطیب حفنی اسلامی مرکز آئے۔ انھوں نے کہا کہ کل میں نے آپ کے انگریزی رسالہ کا ایک اشو دیکھا۔ مجھ کو وہ اتنا پسند آیا کہ میں آپ سے ملنے اور مرکز دیکھنے کے لئے آگیا۔ انھوں نے الرسالہ کے پیغام سے غیر معمولی دل چسپی کا اظہار کیا۔ ان کو عربی اور انگریزی مطبوعات کا ایک سٹ بطورت ہدیہ دیا گیا۔

۵ ایس آئی ایم کے اجلاس (اکتوبر ۱۹۸۴) کے موقع پر نئی دہلی رام لیلا گراؤنڈ میں اسلامی مرکز کی مطبوعات کا اسٹال لگایا گیا تھا۔ اس موقع پر ایک رجسٹر بھی رکھا گیا تھا۔ اس رجسٹر میں بہت سے لوگوں نے اپنے تاثرات قلم بند کئے ۔ یہاں ان میں سے صرف ایک تبصرہ نقل کیا جاتا ہے: 'The Introduction to Islam Series' publications have been found useful but it was observed that these are printed in English and Urdu languages only. With the view-point of the propagation of Islamic teachings all the useful handbook or book-let should also be released in the rest of the modern Indian languages. On the whole, the rest of the publications displayed here are excellent and bearing the upto date information about Islam. Thanks for the endeavour in this regard. Chander Mohan, D-917, Netaji Nagar, New Delhi 23 ۳۰ دسمبر ۱۹۸۸ کو مہینہ کا آخری اتوار تھا۔ حسب معمول شام کو بعد نماز مغرب اسلامی مرکز کا ماہانہ صدر اسلامی مرکز نے تم سجدہ (آیت ۵۲) اور النحل (آیت ۹۳) کی روشنی میں

45 منٹ کا درس دیا۔ ان آیات میں ارشاد ہوا ہے کہ خدا آئندہ ایسی نشانیاں ظاہر کرے گا جن سے لوگ قرآن اور قرآنی تعلیمات کی صداقت کو جان لیں گے۔ موصوف نے آیات کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز نزولِ قرآن کے وقت ایک الہامی خبر معلوم ہوتی تھی وہ بعد کے دور میں خود انسانی علوم کے ذریعہ ثابت شدہ بن جائے گی۔ اس بات کو مختلف علمی اور تاریخی مثالوں کے ذریعہ واضح کیا گیا۔ اس درس کا ٹیپ لے لیا گیا ہے اور وہ اسلامی مرکز میں محفوظ ہے۔ الرسالہ کی تحریک خدا کے فضل سے لوگوں کے دلوں میں تاثیر پیدا کر رہی ہے، جگہ جگہ اس کے حلقے قائم ہو رہے ہیں۔ اور لوگ خالص دینی جذبہ کے تحت اس تعمیری مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کی اپنی زندگیوں میں انقلاب آ رہا ہے جس کا اندازہ خطوط اور ملاقاتوں کے ذریعہ مسلسل ہوتا رہتا ہے۔ ۳ جنوری ۱۹۸۵ء کو ایک صاحب نے صدر اسلامی مرکز سے کہا۔ ایک انا نیت پسند آدمی تھا مگر الرسالہ نے میری انا کو مجھ سے چھین لیا۔ میں جہنم کے رخ پر کھڑا تھا، الرسالہ نے مجھ کو جنت کے رخ پر کھڑا کر دیا۔

اسلامی مرکز کی تحریک اب تک زیادہ تر مطبوعات اور اجتماعات کے ذریعہ چل رہی تھی۔ اب اس میں ان شاءء اللہ کیسٹ کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ بہت جلد انشاء اللہ صدر اسلامی مرکز کی تقریروں کے کیٹ بڑے پیمانہ پر فراہم کئے جاسکیں گے۔ اس سے تحریک کی وسعت میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا۔ اس کے بعد وہ لوگ بھی اس کے دائرہ دعوت میں آجائیں گے جو اردو سمجھتے ہیں مگر وہ اردو پڑھ نہیں سکتے۔

الرسالہ اردو اور انگریزی میں پابندی سے شائع ہو رہا ہے۔ اب انشاء اللہ اس کا عربی اور ہندی ایڈیشن بھی زیر تجویز ہے۔ اور اس کے لئے ایک آفٹ پریس کا قیام عمل میں لانے کے لئے کیا گیا اس سلسلہ میں جو لوگ تعاون فرمائیں وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں انشا اللہ اس کا اجر پائیں گے۔ خدا کا فضل ہے کہ اسلامی مرکز کے لٹریچر کا وزن اب عالمانہ ادارے بھی محسوس کرنے لگے ہیں، مولانا محمد ہاشم القاسمی نے حیدر آباد سے اطلاع دی ہے کہ اردن کا ایک وفد حیدر آباد آیا تھا۔ اس کے دوار کان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اشتراکی روس نے کتاب الاسلام تحدی مذہب اور جدید چیلنج) پر قانونی پابندی عائد کر دی ہے۔ روس جانے والا کوئی شخص اس کتاب کو لے کر روس کے اندر داخل نہیں ہوسکتا۔ روس میں اس کتاب کی فروخت اور اشاعت کی اجازت حاصل نہیں ہے۔

Printed page