Al-Risala · March 1986

تاریخ پکارتی ہے

Al-Risala, March 1986, pp. 4–6

By Maulana Wahiduddin Khan

مغل بادشاہ اورنگ زیب (۱۷۰۷ء-۱۶۵۸ء) کے آخر عمر کا واقعہ ہے۔ ایک بار انھوں نے نماز پڑھی۔ نماز کے بعد انھوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو ان کی آنکھ سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے ۔ وہ ہاتھ اٹھائے خاموش دعا کرتے رہے۔ اس وقت اورنگ زیب کے پاس ان کے وزیر سعد اللہ خاں کھڑے ہوئے تھے ۔ اورنگ زیب جب دعا سے فارغ ہوئے تو سعد اللہ خاں نے کہا۔ عالی جاہ ، آپ کی سلطنت کا پرچم کشمیر سے لے کر دکن تک لہرا رہا ہے ۔ کیا اس کے بعد بھی کوئی ارمان آپ کے دل میں باقی ہے جس کے لیے آپ رو رہے ہیں۔ اورنگ زیب یہ سوال سن کر کچھ دیر چپ رہے اس کے بعد تاثر کے ساتھ کہا : سعد اللہ ، مردے خواہم سعد اللہ میں ایک مرد چاہتا ہوں ۔

اورنگ زیب کے سامنے وہ کون سا مسئلہ تھا جس نے انھیں گھلار کھا تھا ۔ اور وہ ایک مرد کو حاصل کرنے کے لیے تڑپ رہے تھے ۔ وہ مسئلہ یہ تھا کہ ان کو نظر آ رہا تھا کہ ان کے بعد جو لوگ عظیم مغل سلطنت کے وارث بننے والے ہیں وہ سب خود غرض لوگ ہیں ۔ وہ اونچی سطح سے معاملات کو دیکھنے کی صلاحیت نہیں ان کے پاس ذاتی مفاد کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں ۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اورنگ زیب کے بعد ذاتی اقتدار کے لیے آپس میں لڑیں گے اور عظیم مغل سلطنت کو تباہ کر کے رکھ دیں گے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ نصف صدی تک حکومت کرنے کے بعد ۲۰ فروری ۱۷۰۷ء کو اورنگ زیب کا اس وقت اورنگ زیب کے تین لڑکے تھے جن کا نام معظم ، اعظم اور کام بخش تھا۔ کے آخر وقت میں شہزادہ معظم کابل کا گورنر تھا۔ شہزادہ اعظم گجرات کا گورنر تھا اور شہزادہ کام بخش بیجاپور کا گورنر تھا۔ اورنگ زیب نے مسئلہ کا آخری قابل عمل حل یہ نکالا کہ اس نے ایک وصیت چھوڑی۔ کے مطابق اس نے مغل سلطنت کو تین حصوں میں تقسیم کر کے تینوں لڑکوں کو دیدیا تا کہ اس کے لڑکے اپنے اپنے دائرہ میں رہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے ٹکراؤ نہ کریں ۔

مگر عملاً ایسا نہ ہو سکا ۔ اورنگ زیب کے مرتے ہی تینوں شہزادے دہلی کے تخت کے دعویدار بن کر کھڑے ہو گئے ۔ تقریباً دو سال تک آپس میں لڑائیاں جاری رہیں ۔ یہاں تک کہ شہزادہ اعظم اور شہزادہ کام بخش اس میں مارے گئے ۔ شہزادہ معظم اپنے دونوں بھائیوں کو قتل کر کے ۱۷۰۸ء میں دہلی کے تخت پر

بیٹھا اپنے لیے شاہ عالم کا لقب اختیار کیا۔

مگر شاہ عالم کو یہ معلوم نہ تھا کہ موت اس کا پیچھا کر رہی ہے۔ دہلی کے تخت پر بیٹھے ہوئے ابھی اس کو چار سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ ۱۷۱۲ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔ اس نے اپنے پیچھے چار لڑکے چھوڑے جن کے نام یہ تھے: جہاں دار شاہ ، عظیم الشان ، جہاں شاہ ، رفیع الشان ۔ ان لڑکوں کے سامنے اپنے باپ کا اسوہ تھا۔ چنانچہ چاروں لڑکوں میں دوبارہ جانشینی کی جنگ شروع ہو گئی۔ بالآخر ان میں سے تین لڑکے قتل ہو گئے اور جہاں دار شاہ تخت پر بیٹھا۔ مگر اس کو ایک سال سے زیادہ حکومت کرنے کا موقع نہیں اس کے مقتول بھائی عظیم الشان کے بیٹے فرخ سیر کے دل میں اپنے باپ کے لیے انتقام کی آگ بھڑک آخر کار اس نے سازش کر کے جہاں دار شاہ پر قابو پا لیا۔ اس نے جہاں دار شاہ کو تخت سے اتار کر لال قلعہ میں اس کو سولی دے دی۔ یہ ۱۷۱۳ء اور کا واقعہ ہے ۔

فرخ سیر نے اگر چہ اپنے چچا کو مار کر دہلی کا تخت حاصل کر لیا مگر وہ خود بھی صرف چھ سال دہلی کے تخت پر بیٹھ سکا۔ لال قلعہ کے اندر جلد ہی اس کے مخالفین پیدا ہو گئے ۔ بالآخر 1719ء میں یہ واقعہ ہوا کہ ایک روز بھرے دربار میں لوگوں نے فرخ سیر کو تخت سے گھسیٹ کر نیچے اتار لیا ۔ اس کے بعد اسے مار مار کر جیل کے اندر دھکیل دیا گیا ۔ وہ جیل کے اندر ہی رہا یہاں تک کہ گلا گھونٹ کر اسے مار ڈالا گیا۔ اس کے بعد شہزادہ رفیع الدرجات دہلی کے تخت پر بیٹھا مگر اس کی مدت حکومت اور بھی کم ثابت ہوئی۔ کو تخت پر بیٹھا اور ۴ جون 1719ء کو تخت سے بے دخل کر دیا گیا ۔ اس کے چند ہی روز بعد وہ مر گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ دق کا مریض تھا۔

مغل شہزادوں کی آپس کی جنگ نے دہلی کی مرکزی حکومت کو بالکل کمزور کر دیا۔ صوبوں پر مرکز کی مضبوط گرفت باقی نہ رہی اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ مغل سلطنت کے مختلف حصوں میں آزادی اور خود مختاری کا ذہن پیدا ہو گیا۔ صوبوں کے حاکم دہلی کے برائے نام بادشاہ سے آزاد ہو کر اپنی خود مختار حکومتیں قائم کرنے لگے :

On the decline of the central authority at Delhi, the inevitable centrifugal tendency was manifest in different parts of the Empire, and the provincial viceroys made themselves independent of the titu- lar Delhi Emperor. An Advanced History of India, (1978) p. 529

چنانچہ دکن کا صوبہ ۱۷۲۴ء میں میر قمر الدین خاں (نظام الملک) کے تحت آزاد ہو گیا۔ اودھ میں سعادت خاں نے ۱۷۵۲ء میں آزاد حکومت قائم کر لی۔ صوبہ بنگال میں سرفراز خاں نے ۱۷۳۹ء میں آزاد ہو کر نواب بنگال کا لقب اختیار کر لیا۔ اسی طرح راجپوت ریاستوں (اودے پور، جودھ پور، جے پور، وغیرہ) نے دہلی کی سیاسی وفاداری ترک کر کے آزاد حیثیت حاصل کر لی۔ اورنگ زیب عالم گیر نے جو عظیم سلطنت بنائی تھی وہ اس کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہو کر رہ گئی۔

اورنگ زیب کی وفات کے بعد مغل سلطنت بظاہر ڈیڑھ سو سال تک باقی رہی۔ مگر یہ ڈیڑھ سو سال صرف باہمی قتل و خون کے سال تھے۔ مغل شاہزادے اور امراء اور وزراء ذاتی اقتدار کے لیے مسلسل آپس میں لڑتے رہے۔ اور مغل سلطنت دن بدن کمزور اور منتشر ہوتی چلی گئی۔ انگریز اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ملک میں دخیل ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ دھیرے دھیرے انھوں نے پورے ملک پر قبضہ لال قلعہ میں بظاہر مغل تاج دار موجود تھا مگر عملاً سارا اقتدار انگریزوں کے قبضہ میں تھا۔ کہا جانے لگا کہ :

حکومت شاہ عالم از دلی تا پالم ۔

اور یہ کہ تخت بہادر شاہ کا، حکم کمپنی بہادر کا ۔

آخر کار ۱۸۵۷ء کا انقلاب بر پا ہوا اور یہ نام کی مغل سلطنت بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ مغل سلطنت کی یہ کہانی تمام مسلمانوں کی کہانی ہے۔ بعد کے دور میں مسلمانوں کی بر بادی کی سب سے بڑی وجہ وہی ہے جس کی ایک تصویر اوپر کی مثال میں نظر آتی ہے۔ بعد کے دور میں مسلمانوں کا حال یہ رہا کہ جس شخص کو بھی کوئی موقع ملا وہ ذاتی بڑائی قائم کرنے کی کوشش میں لگ گیا۔ وہ ملے ہوئے مواقع کو اجتماعی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد میں استعمال کرنے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وقتی طور پر چھوٹی چھوٹی بڑائیاں تو قائم ہوئیں، مگر ملّت کی عظیم تر بڑائی قائم نہ ہو سکی۔

ایک فرد جب اپنے آپ کو چھوٹا کرنے پر راضی ہوتا ہے اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ پورے مجموعہ کی بڑائی قائم ہو۔ فرد کی قربانی ہی مجموعہ کی بڑائی کی اصل قیمت ہے۔ جس قوم کے افراد کا یہ حال ہو کہ ان میں سے ہر شخص اپنے آپ کو بڑا بنانے کے لیے دوڑے، ایسی قوم کبھی عظمت کا مقام حاصل نہیں نہ پہلے کبھی ایسا ہو ا اور نہ آج ایسا ہو سکتا ہے۔

Printed page