عجیب محرومی
Al-Risala, March 1986, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
واتل عليهم نبأ الذی آتيناه آياتنا اور ان لوگوں کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے فانسلخ منها فاتبعه الشيطان فکان اپنی نشانیاں دیں، پھر وہ ان سے نکل بھاگا من الغاوين ۔ ولو شئنا لرفعناه بھا پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا۔ پس وہ گمراہ ولكنہ اخلد الی الارض واتبع هواه لوگوں میں سے ہو گیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو (الاعراف ۱۷۵-۱۷۷) ان نشانیوں کی بدولت بلند مرتبہ کر دیتے ۔ دنیا کی طرف مائل ہو گیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا۔
ہدایت کے راستے پر چلنا برتر مقصد پر چلنا ہے ۔ مگر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ پست مقاصد میں الجھے ہوئے ہوتے ہیں ۔ وہ اس سے اٹھ کر برتر مقصد کا ساتھ نہیں دے پاتے۔ وہ وقتی فائدہ کی خاطر ابدی فائدے کو کھو دیتے ہیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو ایک نئی تاریخ بنانا مطلوب تھا ۔ بعثت کا مقصد یہ تھا کہ شرک کے دور کو ختم کیا جائے اور توحید کو ہمیشہ کے لیے ایک غالب فکر بنا دیا اس خدائی منصوبہ میں اپنے آپ کو شامل کرنے کے لیے بلاشبہ قربانی درکار تھی۔ کا یہ سوال بہت سے لوگوں کے لیے اس کا ساتھ دینے میں رکاوٹ بن گیا ۔ کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ابتداء اس میں شامل ہوئے مگر بعد کو جب ان کے سامنے وہ وقت آیا کہ وہ اپنی خواہشوں کے تقاضے کو ذبح کریں اور اپنی انا کے بت کو توڑ کر اس کا ساتھ دیں تو وہ ایسا نہ کرسکے ۔ وہ اپنی ذات کو بچانے کی خاطر خدا کے دین سے دور ہو گئے ۔ یہی صورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیش آئی اور یہی صورت ہر زمانہ میں پیش آتی ہے۔
کیسا عجیب ہے انسان ۔ خدا اس کے سامنے واضح دلائل لے آتا ہے مگر وہ اس کا اعتراف نہیں خدا اس کے لیے بلندیوں کی طرف جانے کا راستہ کھولتا ہے مگر اس کے محدود مفادات اس کو آگے بڑھنے نہیں دیتے ۔ خدا اس کو تاریخ ساز بنانا چاہتا ہے مگر وہ خود ساز بن کر رہ جاتا ہے ۔