تاريخ ساز کردار
Al-Risala, March 1986, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر ہر درخت یہ چاہے کہ وہ جہاں ہے وہیں کھڑا رہے تو کبھی زمین پر ریلوے لائن نہیں بچھ سکتی۔ تمام دریا یہ چاہیں کہ ان کے سینہ کے اوپر کوئی پل نہ بنے تو وہ لمبی شاہ راہیں نہیں بنائی جا سکتیں جن کے اوپر انسانیت کے قافلے ایک طرف سے دوسری طرف سفر کرتے ہیں۔ اگر زمین یہ چاہے کہ اس کے اوپر رولر چلا کر اس کے پست و بلند کو ہموار نہ کیا جائے تو وہ پر رونق دنیا تعمیر نہیں کی جاسکتی جس کو شہر کہا جاتا ہے۔ اس دنیا کا یہ اصول ہے کہ یہاں تخریب کے بعد تعمیر وجود میں آتی ہے۔ یہاں مجموعہ کی ترقی اجزار کی قیمت پر ہوتی ہے۔ یہاں کلی فائدہ کی خاطر انفرادی نقصان کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہی اصول فطرت کی دنیا کے لیے ہے اور یہی اصول انسانی دنیا کے لیے۔
دین کا معاملہ بھی یہی ہے: یہاں بھی انفرادی قربانیوں کی زمین پر دین کا قلعہ بنتا ہے ۔ پیچھے ہٹنے پر راضی ہوتے ہیں اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ دین کے مجموعی قافلہ کو اگلی منزل کی طرف رواں دواں کرنے کے لیے راستہ ملے۔
ایک ہے دیندار بننا، اور ایک ہے تاریخ ساز بننا۔ پہلی شکل انفرادی دین داری کی ہے۔ شکل یہ ہے کہ بہت سے لوگ اجتماعی قوت بن کر دین کی نئی تاریخ پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ آسان ہے مگر دوسرا کام بے حد مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے زیادہ مشکل اور کوئی کام اس دنیا میں
اگر آپ داڑھی رکھ لیں۔ آپ نماز روزہ جیسے دینی فرائض کے پابند بن جائیں تو ایسا کرنے کے بعد بھی آپ اپنی ذاتی مصلحتوں کے خانہ ہی میں رہتے ہیں ۔ آپ کے لیے ضروری نہیں ہوتا کہ آپ اپنے خول کو توڑ کر اس سے باہر آئیں۔ مگر جب آپ دوسروں کے ساتھ مل کر دین کی ایک تاریخ بنانا چاہیں تو بات بالکل بدل جاتی ہے ۔ اب آپ کی ذاتی مصلحتیں دوسروں کی مصلحتوں سے ٹکراتی ہیں۔ آپ کے انفرادی تقاضے اجتماعی تقاضوں سے مجروح ہوتے ہیں ۔ یہ ایک بے پناہ آزمائش ہے جس سے عہدہ بر آہونا بے پناہ صبر کے بغیر ممکن نہیں ۔
اس بنا پر ضروری ہو جاتا ہے کہ اس دنیا میں بہت سے لوگ "مقتدی " بنے رہیں یعنی ہوں تاکہ ایک
شخص کو "امام" کے فرائض انجام دینے کا موقع ملے ۔ اس عمل میں کچھ لوگ بظاہر کھونے والے بنتے ہیں اور کچھ لوگ بظاہر پانے والے ۔ مگر آخرت کے اعلیٰ تر مطلوب کی خاطر اسے برداشت کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ دنیا میں اس کے بغیر کسی اعلیٰ مقصد کو حاصل کرنا ممکن نہیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب وہ قیمتی انسانی گروہ ہیں، جنہوں نے دین کی یک تاریخ ان کے اس کارنامہ کے بارہ میں دور ائے نہیں ہو سکتی۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس تاریخ کو بنانے کے لیے انھیں اپنے آپ کو ہلاک کر دینا پڑا۔
نبوت کے بیس سال بعد غزوہ حنین پیش آیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ بے شمار بدایوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کافی مالِ غنیمت ملا۔ آپ نے اس کو یک طرفہ طور پر قریش کے درمیان تقسیم کر دیا اور انصار کو اس میں سے کچھ نہیں دیا۔ (ولم يعط الانصار شيئاً ، ابن ہشام) اسلام کی فتح میں اہل مکہ (قریش) اور اہل مدینہ (انصار) دونوں کی قربانیاں یکساں طور پر شامل تھیں۔ مگر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسلامی مملکت کا خلیفہ مقرر کرنے کا وقت آیا تو اس کو صرف اہل مکہ کا حق قرار دے دیا گیا۔ اور اہل مدینہ کو اس سے کلی طور پر محروم رکھا گیا۔ خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید کو عین اس وقت سپہ سالاری سے معزول کر دیا جب کہ وہ شاندار فوجی کارناموں کے ذریعہ اپنے آپ کو اس کا مستحق بنا چکے تھے کہ ان کو فاتحِ شام کے لقب کا پروانہ بھیجا جائے وغیرہ وغیرہ ۔
حقیقت یہ ہے کہ دین کی نئی تاریخ اس وقت وجود میں آتی ہے جب کہ کچھ لوگ خود اپنے فیصلہ سے اپنے آپ کو بے تاریخ کرنے پر راضی ہو جائیں۔ انھیں ایک طرفہ طور پر محروم کیا جائے اور وہ اس کو برداشت کریں۔ عہدوں کی تقسیم میں انھیں کوئی حصہ نہ ملے پھر بھی ان کا ذہنی سکون برہم نہ ہو۔ بلا سبب انھیں معزول کر دیا جائے، اس کے باوجود وہ خوشی خوشی اپنی معزولی کے کاغذات پر دستخط کر دیں۔ وہ موت کے فیصلہ کو اپنے لیے زندگی سمجھیں ۔ ان کے سر کا تاج اتارا جائے مگر وہ خوش دلی کے ساتھ اس کا استقبال کریں ۔
ایسے ہی لوگ تھے جنھوں نے اسلام کے دور اول میں اسلام کی تاریخ بنائی۔ آج بھی ایسے ہی لوگ ہوں گے جو دوبارہ اسلام کی تاریخ بنائیں گے ، اور ایسے ہی لوگوں کے کیے سے یہ کام ہو سکتا ہے ۔ ومايلقىها الا الذين صبروا ومايلقىها الا ذو حظ عظيم (حم السجدہ ۳۵)