دشمن کو رہنما بنانا
Al-Risala, March 1986, pp. 21–22
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم عرب میں موجودہ زمانہ کی طرح راستوں کے نشانات نہیں تھے اور نہ اس وقت آج کل کی طرح سڑکیں پائی جاتی تھیں ۔ آدمی مجبور ہوتا کہ وہ سنان پہاڑوں اور لق و دق صحراؤں کے درمیان اپنا سفر طے کرے۔ چنانچہ دور کا سفر کرنے کے لیے لوگوں کو رہنما کی ضرورت پڑتی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت ابو بکر صدیق کے ہمراہ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت
کا فیصلہ فرمایا تو اس وقت آپ کے سامنے یہی مسئلہ تھا۔ مزید یہ کہ آپ دشمن کی نظروں سے بچنے کی خاطر یہ چاہتے تھے کہ معروف راستہ کو چھوڑ کر غیر معروف راستے سے اپنا سفر طے کریں۔ آپ کو ایک ایسے اچھے رہنما کی ضرورت تھی جو آپ کو مطلوب راستے سے چلا کر بحفاظت مدینہ پہنچا دے۔ اس وقت جو صورت پیش آئی اس کا ذکر سیرت ابن ہشام میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے :
فاستاجر عبد الله بن ارقط، منجلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر نے) من بنى الديل بن بكر، وكانت امة امرأة عبد اللہ بن ارقط سے اجرت پر معاملہ کیا۔ وہ بنو دیل من بنی سہم ابن عمرو، و كان مشرکاً يکد لہما بن بكر کا ایک شخص تھا اور اس کی ماں بنو سہم بن عمرو علی الطریق - سے تعلق رکھتی تھی ۔ وہ راستہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کی رہنمائی کر رہا تھا ۔
عبد اللہ بن ارقط کا ایک پہلو یہ تھا کہ وہ مشرک تھا۔ یعنی وہ رسول اللہﷺ کے دشمن گروہ سے تعلق اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ وہ صحرائی راستوں کا ماہر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ارقط کے ان دونوں پہلوؤں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھا۔ اسی لیے یہ ممکن ہوا کہ آپ اس کو اپنے سفر کا رہنما بنائیں۔ اگر آپ اس کے رہنما ہونے کی حیثیت کو اس کے مشرک ہونے کی حیثیت سے الگ کر کے نہ دیکھتے تو کبھی ایسا نہ ہوتا کہ آپ ہجرت جیسے نازک سفر میں اس کو اپنے راستہ کا رہنما بنائیں ۔