Al-Risala · March 1986

اخلاق کا معیار

Al-Risala, March 1986, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کر کسی سے تمہاری دشمنی ہو جائے تو تم ایسا مت کرو کہ اس کے ساتھ بے انصافی کرنے لگو، بلکہ تم ہر حال میں انصاف کرو۔ یہی بات تقویٰ کے مطابق ہے (لا یجرمنکم شنآن قوم علی ان لا تعدلوا اعدلوا هو اقرب للتقوى)

مفسر ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر یہ کی ہے : یعنی کسی کا بغض تم کو نہ ابھارے کہ اس کے معاملہ میں تم انصاف کو چھوڑ دو۔ بلکہ ہر ایک کے معاملہ میں انصاف کرو خواہ وہ دوست ہو یا دشمن (ای لا یحملنکم بغض قوم على ترك العدل فيهم بل استعملوا العدل في كل أحد صديقاً كان أو عدوآ) اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ موجودہ دنیا میں تقویٰ کا سب سے زیادہ یقینی معیار ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان معتدل تعلقات ہوں تو دونوں بالکل ٹھیک نظر آتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ایسا معلوم ہے کہ دونوں اعلیٰ اخلاق پر قائم ہیں۔ مگر کسی کے اخلاق کو جانچنے کا یہ صحیح معیار نہیں کوئی شخص اخلاقی اعتبار سے کیسا ہے ، اس کا اندازہ معتدل حالات میں نہیں ہوتا ۔ اس کا صحیح اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ دونوں کے درمیان تلخی اور شکایت کی فضا پیدا ہو گئی ہو ۔ ایک پھل اندر سے کیسا ہے ، اس کا اندازہ آپ پھل کے چھلکے کو دیکھ کر نہیں کر سکتے ۔ اس کا پتہ صرف اس وقت چلتا ہے جب کہ پھل کو توڑا جائے۔ اسی طرح کوئی انسان حقیقہً کیسا ہے ، اس کا اندازہ معمول کے حالات میں نہیں ہوتا ، بلکہ غیر معمولی حالات میں ہوتا ہے۔ جب آدمی کے ساتھ کوئی خلاف مزاج واقعہ پیش آتا ہے ، اسی وقت معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کیا تھا اور کیا نہیں ہوتا ۔ میں آدمی اپنے آپ کو چھپائے رہتا ہے ۔ مگر جب اس کی شخصیت کو کوئی شدید جھٹکا لگتا ہے اس وقت اس کا اندر اس کے باہر آ جاتا ہے ۔ اس وقت کھل جاتا ہے کہ وہ شریف تھا یا غیر شریف ۔ بے اخلاق تھا یا با اخلاق ۔

جس شخص سے آپ کا بگاڑ نہیں ہوا اس سے خوش اخلاقی برت کہ آپ خدا کے نزدیک خوش اخلاق نہیں ہو سکتے ۔ خدا کے نزدیک آپ اس وقت خوش اخلاق قرار پائیں گے جب کہ آپ اس شخص کے معاملہ میں خوش اخلاق ثابت ہوں جس سے آپ کا بگاڑ پیدا ہو چکا ہے ۔

Printed page